سرورق / خبریں / 7؍جون کوآرایس ایس دفترمیں پرنب مکھرجی کی تقریر آخر بی جے پی اور کانگریس ملک کوکیا پیغام دینا چاہتی ہیں؟

7؍جون کوآرایس ایس دفترمیں پرنب مکھرجی کی تقریر آخر بی جے پی اور کانگریس ملک کوکیا پیغام دینا چاہتی ہیں؟

نئی دہلی:(ایجنسی) گزشتہ اتوار کی صبح ایک سینئر کانگریسی لیڈر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سابق صدر جمہوریہ اور کانگریس سینئر لیڈرپرنب مکھرجی نے 7؍ جون کو آرایس ایس کے ہیڈ کوارٹر میں کانوکیشن پروگرام کو خطاب کرنے کا دعوت نامہ قبول کیا ہے۔ ایک تجربہ کار لیڈر پرنب مکھرجی اپنے سیاسی دوستوں کے لئے کبھی مغرور نہیں رہے۔ اقتدار میں رہتے ہوئے بھی اپوزیشن یا دیگر لیڈروں کے ممبران سے انہوں نے ہمیشہ اچھے تعلقات بنائے رکھا۔تاہم اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کو آرایس ایس کے سالانہ کانوکیشن تقریب میں مدعو کرکے آخر بی جے پی اور کانگریس کیا پیغام دینا چاہتی ہیں؟ ایسا تو نہیں کہ یہ دکھانے کی کوشش ہورہی ہو کہ پرنب مکھرجی اب کانگریس کے نظریے سے نہیں بلکہ آرایس ایس کے نظریے سے اتفاق رکھتے ہیں یا پھر اس کا کوئی دوسرا پہلو ہے؟دراصل بی جے پی اور کانگریس ایک دوسرے کے سیاسی دشمن ہیں، اس کے باوجود کئی بی جے پی لیڈروں کے پرنب مکھرجی سے اچھے رشتے ہیں۔ وہ سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کے ساتھ مارننگ واک (صبح کی سیر) پر جاتے تھے۔ انہوں نے ایک بنگالی روزنامہ کو بتایا تھا کہ وہ جن ممبران پارلیمنٹ کو جانتے ہیں، ان میں اٹل بہاری واجپئی الگ نظرآتے ہیں۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ صدر جمہوریہ کی مدت کار میں انہوں نے دو بار آرایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کو لنچ کے لئے مدعو کیا تھا۔ اس کی وجہ سے کئی کانگریسی لیڈر ناراض ہوگئے تھے۔تاہم بی جے پی اعلیٰ قیادت کے ساتھ پرنب مکھرجی کے رشتے صرف اٹل بہاری واجپئی پر ختم نہیں ہوجاتے۔ ذرائع کہتے ہیں کہ وزیراعظم نریندر مودی کئی اہم معاملوں میں ہمیشہ ان کی رائے لیتے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وزیراعظم مودی کئی امور پر تبادلہ خیال کے لئے اپنے کابینی وزرا کو پرنب مکھرجی کے پاس بھیجتے رہے ہیں، وہ بھی تب جب بطور صدر جمہوریہ ان کی مدت کار ختم ہوگئی تھی۔ مثال کے طور پر وزیر دفاع بنائے جانے کے لئے نرملا سیتا رمن بھی پرنب مکھرجی سے ملنے گئی تھیں۔اب تک تو سب ٹھیک ہے، لیکن پرنب مکھرجی آرایس ایس دفتر کیسے جاسکتے ہیں؟ جبکہ پرنب مکھرجی ایک مذہبی شخص ہیں، وہ اپنے سیکولر شبیہہ کے لئے جانے جاتے رہے ہیں۔ ان کے صدر جمہوریہ کی مدت کار میں وزیراعظم نریندر مودی نے ان سے اسرائیل جانے کی گزارش کی، پرنب نے زور دیا کہ وہ فلسطین بھی جائیں گے۔یہ سیکولرزم اور مذہبی عقائد کے تئیں ان کی جوابدہی تھی، اس لئے آرایس ایس کے سالانہ تقریب میں شامل ہونے کا ان کافیصلہ زیادہ تر کانگریسیوں کو اچھا نہیں لگ رہا ہے۔ اس بات کا امکان ہے کہ پرنب مکھرجی 7؍ جون کے دن خود کو متعارف کرائیں گے۔کچھ سوالوں کا جواب تک نہیں ملے گا۔ کیونکہ شاید پرنب دا ناگپور میں وطن پرستی اور قوم پرستی کے موضو ع پر خطاب کریں گے۔ وہ ایک ہندو ملک کے قیام کی تجویز پر کوئی ضرورت نہیں ہے کہ موضوع پر بات کرسکتے ہیں۔ وہ سیکولر رہنما ہیں اس لئے سیکولرزم اور تمام مذاہب کے درمیان امن پر بھی خطا ب کرسکتے ہیں، لیکن کیا یہ پیغام ہندوستان کے دیگر حصوں میں پہنچے گا؟ کیا دیہی ہندوستان، گاؤں اور بنگال کے چھوٹے شہروں کے لوگ کبھی یہ جان پائیں گے کہ انہوں نے ناگپور میں درحقیقت کیا بات کہی تھی؟ شاید وہ یہ یاد رکھیں گے کہ پرنب مکھرجی آرایس ایس کے مرکزی دفتر گئے تھے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

بھونگیر حادثہ۔تلنگانہ کے وزیراعلی کا اظہار افسوس

حیدرآبادتلنگانہ کے وزیراعلی کے چندرشیکھر راو نے ضلع یادادری بھونگیر میں پیش آئے سڑک حادثہ …

جواب دیں

%d bloggers like this: