سرورق / خبریں / 15 دنوں میں زرعی قرضے معاف کرنے کمارسوامی کا وعده ٰ وزیراعلی پر ایڈی یورپا کا حملہ جاری۔ہم راہل گاندھی سے مشوره کریں گے :پرمیشور

15 دنوں میں زرعی قرضے معاف کرنے کمارسوامی کا وعده ٰ وزیراعلی پر ایڈی یورپا کا حملہ جاری۔ہم راہل گاندھی سے مشوره کریں گے :پرمیشور

بنگلورو۔ (منیراحمد آزاد چیف رپورٹر) ریاستی وزیر اعلیٰ کمارسوامی کو اقتدار کے ابتدائی دور ہی سے مشکلات کا سامنا ہے ۔ اپوزیشن بی جے پی لیڈر بی ایس ایڈی یورپا بار بار ایک ہی معاملہ کو اٹھاکر عوام بالخصوص کسان برادری کو اکسارہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کمارسوامی 53 ہزارکروڑ روپئے کے زرعی قرضے معاف نہیں کرسکتے تو انہوں نے اپنی پارٹی کے انتخابی منشور میں اس کا اعلان کیوں کیا ؟ جبکہ وزیراعلیٰ کمار سوامی کئی مرتبہ یہ جواب دے چکے ہیں کہ وہ ریاست میں کانگریس جے ڈی ایس مخلوط حکومت کی قیادت کررہے ہیں۔ اس معاملہ میں کانگریس کو اعتماد میں لئے بغیر وہ کچھ نہیں کرسکتے ۔ انہوں نے باربار یہ بھی کہا ہے کہ وہ یہ نہیں بھولے ہیں کہ انہوں نے اپنی پارٹی کے منشور میں وعدہ کیا تھا کہ اگر ان کی پارٹی اقتدار میں آئی تو 24 گھنٹوں میں وہ کسانوں کے قرضے معاف کریں گے ۔ لیکن حکومت کانگریس کی تائید سے بنی ہے وہ واحد اتنا بڑا فیصلہ نہیں کرسکتے ۔ اس کے باوجود کسانوں کے مفادات کا تحفظ ان کی حکومت کی ترجیح ہے ۔آج کمارسوامی نے کہاکہ زرعی قرضے معاف کرنے کے اپنے وعدہ کے وہ پابند ہیں ۔اس سے وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔اس کے لئے 15 دن درکار ہیں ۔پندرہ دنوں میں وہ اپنا وعدہ پورا کریں گے ۔بی جے پی ان پربار بار یہ الزام لگارہی ہے کہ انتخابات سے پہلے کسان برادری سے کئے وعدہ کوپورا کرنے میں تاخیرکی جارہی ہے ۔اس معاملہ پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے کمارسوامی نے ودھان سودھا میں کسان برادری کے نمائندوں ترقی پسند کسانوں کا اجلاس طلب کرکے انہیں درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا ۔ان سے تبادلہ خیال کے دوران وزیراعلیٰ نے انہیں تیقن دیا کہ اس معاملہ پر پندرہ دنوں میں فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ پندرہ دنوں میں زرعی قرضے معافی اسکیم کو نافذ کیا جائے گا۔ اس اسکیم کو نافذ کرنے کی پابند ہے اورہم کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے بھی پابند ہیں ۔ کمارسوامی اس اجلاس میں پورے تین گھنٹے کسانوں کے مسائل سننے کے بعد ان سے یہ بات کہی ۔
راہل سے گفتگو کریں گے:کمارسوامی نے کہا کہ وہ اور نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر پرمیشور اس معاملہ پر کانگریس صدر راہل گاندھی سے گفتگو کریں گے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ راہل گاندھی بھی زرعی قرضے معاف کرنے کے پابند ہیں ۔ اس اجلاس میں شریک کسانوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہ رقم ہزار کروڑ روپیوں میں ہے ۔ اس لئے اس کا حساب وکتاب ہونا ضروری ہے ۔انہوں نے کہاکہ آپ کی پریشانی کا حل کرنا ہماری حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس اجلاس میں نائب وزیر اعلیٰ پرمیشور اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن بی جے پی لیڈر گووند کرجول اورسینئر افسروں نے شرکت کی ۔
بینکروں کا اجلاس:کمارسوامی نے کہا کہ اگلے دو تین دنوں میں وہ قومیائی بینکوں کے نمائندوں کا اجلاس طلب کرکے ان بینکوں کی طرف سے جاری زرعی قرضوں سے متعلق انفارمیشن لیں گے ۔ اگر ان بینکوں کو زرعی قرضے ایک ہی مشت میں ادا کئے گئے تو کتنا سود وہ معاف کرسکتے ہیں اس سلسلے میں بھی گفتگو کی جائے گی۔ حال ہی میں کمارسوامی نے کہا تھاکہ اگر زرعی قرضے معاف کرنے میں اپنے وعدہ میں ناکام رہیں تو وہ سیاست سے سنیاس اختیار کرلیں گے اورکسانوں سے کہاتھا کہ اس معاملہ میں وہ بی جے پی کی سازش کا شکار نہ ہوں۔ کمارسوامی نے آج یہ بھی کہا کہ کسانوں کے قرضے دو مرحلوں میں معاف کئے جائیں گے ۔پہلے مرحلہ میں یکم اپریل 2009 اور 30 مارچ 2017 کے درمیان لئے گئے خالص زرعی قرضے معاف کردئے جائیں گے ۔ اس کے بعد دوسرے مرحلہ میں دیگر زرعی قرضے معاف کئے جائیں گے اس کے لئے کئی زمروں کابھی انہوں نے ذکرکیا ہے ۔ ان کے بازو بیٹھے نائب وزیراعلیٰ پرمیشور نے اجلاس کے اختتام پر مختلف بیان دیا ہے جس کی وجہ سے مخلوط حکومت کے ساجھیداروں کے درمیان غلط فہمی بھی پیدا ہوسکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ 53 ہزارکروڑ روپئے کے زرعی قرضے معاف کرنے کا وعدہ جے ڈی ایس کا ہے کانگریس کا نہیں ۔اس معاملہ پر کوئی بھی حتمی فیصلہ کرنے سے قبل دونوں پارٹیوں کے درمیان بات چیت ضروری ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ کون سے زرعی قرضے معاف کئے جاسکتے ہیں یہ حکومت طے کرے گی۔
کسانوں کے ساتھ دھوکہ:کمارسوامی حکومت پر آج دوبارہ حملہ کرتے ہوئے اپوزیشن بی جے پی لیڈر ایڈی یورپا نے کہاکہ وزیراعلیٰ کمارسوامی نے کسانوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے ۔ریاست کے کسانوں کو اکسانے کی ایک اور کوشش کرتے ہوئے ایڈی یورپا نے کہاکہ کمارسوامی نے کسانوں کے اجلاس میں کسانوں سے کہا ہے کہ اگلے 15 دنوں میں وہ چھوٹے اور درمیانی کسانوں کے قرضے معاف کردیں گے اور باقی سے متعلق دوسرے مرحلے میں غورکریں گے ۔لیکن انہوں نے 53 ہزار کروڑروپئے کے زرعی قرضے معاف کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔اب اس معاملہ پر ڈرامہ کیوں کیا جارہا ہے ۔ حالانکہ کسانوں کے اس اجلاس میں شرکت کرنے ایڈی یورپا کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ لیکن انہوں نے شرکت نہیں کی۔ ان کی جگہ گووند کرجول نے شرکت کی ۔ ایڈی یورپا نے کہاکہ کمارسوامی کو اگر اس معاملہ میں راہل گاندھی سے مشورہ کرنا تھا تو انتخابی منشور میں انہوں نے 53 ہزار کروڑ روپئے کے زرعی قرضے معاف کرنے کا اعلان ہی کیوں کیا؟ایڈی یورپا نے مزید کہا کہ کمارسوامی نے دہلی میں کیوں کہا تھاکہ اگر وہ زرعی قرضے معاف کرنے میں ناکام رہے تو استعفیٰ دے دیں گے ۔کیا آپ کسانوں کودھوکہ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ آئندہ کوئی بھی کسان آپ پر بھروسہ نہیں کرے گا۔ کسانوں کے اجلاس کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کمارسوامی پندرہ دنوں میں زرعی قرضے معاف کرنے کا وعدہ کیا اس سے انہیں پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے۔ کمارسوامی پر ریاست کے لوگوں کو گمراہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ایڈی یورپا نے اس معاملہ میں وزیراعلیٰ اورمخلوط حکومت کی اس سازش پر تنقید کی ۔ کمارسوامی کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ 53ہزار کروڑ روپئے زرعی قرضے معاف کرنے آپ کا وعدہ کیا ہوا ؟

Leave a comment

About saheem

Check Also

مراٹھواڑہ میں زوردار بارش –

اورنگ آباد : مراٹھواڑہ میں اورنگ آباد ، عثمان آباد،لاتور ،ہنگولی ، پربھنی اور ناندیڑ …

جواب دیں

%d bloggers like this: