سرورق / خبریں / سیکولرازم کی جیت اقلیتوں کی جیت ہے…

سیکولرازم کی جیت اقلیتوں کی جیت ہے…

جب سے فرقہ پرست اقتدار میں آئے ہیں چاروں طرف ڈر اور خوف کا ماحول بن گیا ہے۔سرکار بات کرتی ہے سب کا ساتھ اور سب کے وکاس کی مگر کام کر رہی ہے سب کے وناش کے۔سرکار سوچتی کچھ ہے، کہتی کچھ ہے اور کرتی کچھ ہے۔ہندوستان کی سیاست کبھی اتنی گندی نہیں تھی جتنی اب ہے۔نازی جرمنی میں جو حالات تھے ہم انہیں حالات سے دو چار لگ رہے ہیں۔ سام،دام اور دنڈ کا کھل کر استعمال کیا جا رہا ہے۔سیاسی اقتدار کے لئے ہر ہتھکنڈہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ اصول نام کی کوئی چیز باقی نہیں ہے۔ مذہب کے نام پر مذہب کو بدنام کیا جا رہا ہے۔کبھی ووٹنگ مشین کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے تو کبھی گورنرس اور آفیسرس کا۔ملک کی سا لمیت اور امن و امان خطرے میں پڑ گیا ہے۔ 30 فیصد فرقہ پرست 70 فیصد سکیولر عوام پر غالب آ چکے ہیں کیونکہ وہ متحد ہیں اور سکیولر عوام آپس میں لڑ کر بٹ چکے ہیں۔اس زعفرانی طوفان کا روکنے کا واحد راستہ 70 فیصد سکیولر عوام کا سیاسی اتحاد ہے۔اگر 2019 کے پارلیمنٹ الیکشن میں ایک بی جے پی کے امید وار کے خلاف ایک ہی گٹھ بندھن کا امید وار ہو تو کامیابی یقینی ہے۔ووٹنگ مشین کی جگہ پیپر بیلیٹ کا لانا ضروری ہے۔یہ سب کام نہایت خاموشی کے ساتھ کر نا ہے۔آج ہم سب کو اس بات پر غور کر نا ہے کہ کرناٹک کے2018 کے الیکشن میں مسلمان یم یل ایز کی تعداد گیارہ سے گھٹ کر سات کیوں ہو گئی ، کانگریس پارٹی سے تعلق رکھنے والے پندرہ منسٹرس الیکشن کیوں ہار گئے اور کانگریس کے جملہ 44 امیدوار کیوں الیکشن کیوں ہار گئے۔اس پر بھی غور کرنا ہے کہ بی جے پی 36 فیصد ووٹ لیکر 104 سیٹ کیسے جیت گئیں جبکہ کانگریس 38.6 فیصد ووٹ لیکر 77 سیٹ جیت سکی اور جنتا دل 18.6 فیصد ووٹ لیکر37 سیٹ جیت سکی۔ویژن کرناٹکا کے سیاسی تھنکرس ،کافی غور و خوص اور ڈبیٹ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ اس کا پہلا سبب کانگریس کے سینئر لیڈروں کی انانیت، اورخوش فہمی، زمینی حقائق سے نا واقفیت اور عوام سے دوری کا نتیجہ ہے۔ 2013کے پچھلے پارلیمنٹ الیکشن میں کانگریس کے سینئر لیڈرس کپل سبل، سلمان خورشید۔ غلام نبی آزاد ،منی شنکر ائیر، دگ وجئے سنگھ وغیرہ نے پورے اعتماد۔ جوش اور یقین کے ساتھ کہا تھا کہ وہ کسی بھی صورت میں بی جے پی کو کامیاب ہونے نہیں دیں گے اور مسٹر مودی کو وزیر اعظم بننے نہیں دیں گے ۔ اسلئے انہوں نے دوسری ریاستی پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کو مسترد کر دیا تھا۔ نتیجہ میں شکست سے دوچار ہو گئے۔اس طرح مرکزی حکومت ان کے ہاتھ سے نکل گئی۔رنج اس بات کا نہیں کہ مرکزی حکومت ان کے ہاتھ سے نکل گئی بلکہ رنج اس بات کا ہے کہ کانگریس اور دیگر سکیولر لیڈروں نے اْس شکست سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔یو پی کے ریاستی الیکشن میں اکھلیش اور مایا وتی نے بھی یہی غلطی کی اور اکیلے الیکشن لڑ گئے اور ایک دوسرے کے ووٹ کاٹ کر بی جے پی کو جتا دیا۔پھر بھی کسی نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔کرناٹک میں کانگریس نے وہی حماقت کر دی اور اکیلے الیکشن لڑ کر ہار گئی۔مسلم فلاحی ادارے دوڑ دھوپ کر تے رہے اور سمجھاتے رہے مگر کانگریس لیڈروں نے ایک نہ مانی اور ہار گئے۔اصل میں ہر جگہ جیت بی جے پی کی نہیں ہوئی بلکہ سکیولر پارٹیوں نے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ لڑ کر ووٹوں کو بانٹ دیا اور ہار گئیں۔شکست کے بعد انہیں عقل ضرور آئی مگر گورنر صاحب نے بی جے پی کی مدد کر دی ۔ وہ تو بھلا ہو سپریم کورٹ کا جس نے راحت دے دی۔کانگریس کی شکست کا دوسرا سبب تمام پچھلے یم یل ایز کو ٹکٹ دیناجن میں بوڑھے اور عوام کے نا پسند دیدہ افراد بھی رہے۔ تیسرا سبب یہ کہ جو یم یل اے تھے انہوں نے اپنے اپنے حلقوں میں بہت کم کام کیا۔ سب کے سب بنگلور میں جمع رہے اور اپنے حلقہ کے ووٹروں سے دور رہے۔حلقوں میں بہت کم ترقیاتی کام ہوئے اور حلقے کے ذمہ داروں سے تعلقات میں کمی آ گئی۔جو یم یل یے وزیر بن گئے وہ بھول گئے کہ وہ یم یل یے پہلے ہیں اور وزیر بعد ۔ وہ اپنے وزارتی کاموں میں اس طرح مشغول ہو گئے کہ اپنے حلقہ کو جا نا اور ووٹروں سے ملنا اور انکے مسائل کو حل کر نا کم کر دیا۔مسلم یم یل ایز کی بھی یہی حالت رہی۔ ووٹروں کا سب سے بڑا شکوہ یہ رہا کہ فون کرو تو فون نہیں اٹھاتے،حلقہ کو آئے تو صرف اپنے دو چار چمچوں کے درمیان رہے، علماء اور تعلیم یافتہ حضرات سے تعلقات نہ رہے اور مخالفوں سے دوری ہی دوری برتتے رہے۔اس کا بدلہ انہیں الیکشن کے وقت مل گیا۔چوتھا سبب یہ کہ امیدواروں کی نامزدگی الیکشن کے بہت قریب ہوئی جس کے سبب انہیں اپنے اپنے حلقوں میں کام کر نے کا موقعہ بہت کم ملا۔ ویژن کر ناٹکا کی جانب سے دو منسٹروں اور دو یم یل ایز کے ساتھ جنتا کی عدالت پروگرام ہوئے جس میں ہمارا مشاہدہ یہ رہا کہ ہمارے منسٹرس اور یم یل یے عوام کے دیے گئے مشوروں کو نظر انداز کر تے رہے اور اپنی ہی من مانی کر تے رہے۔کسی چیز کا وعدہ کر تے بھی ہیں تو اسے پورا نہیں کر تے۔شاید وہ سمجھتے ہیں کہ جو مشورے تجربہ کار ، دانشمند اور ماہرین انہیں دیتے ہیں وہ ردی کی ٹوکری میں ڈالنے کے قابل ہیں۔ہم دیکھ رہے ہیں کہ غیر مسلم یم یل ایز ہم مسلمانوں کے کام سب سے پہلی فرصت میں کر تے ہیں۔ایسے میں ایک خیال یہ بھی آتا ہے کہ ایسے مسلمانوں کو ووٹ دینے کے بجائے کیوں نہ کسی غیر مسلم کو ووٹ دیں اور ہمارے کام کرا لیں۔جہاں جہاں مسلمان یم یل ایز ہیں وہان نہ راستے اچھے ہیں ،نہ سرکاری کالج اور بڑے اسپتال ہیں، نہ اچھے پارک ہیں نہ پوسٹ آفس ہیں، نہ بینکوں کے برانچ ہیں ، نہ لائبریریاں اور ریڈنگ رومس ہیں اور نہ ہی انکا تال میل عام مسلمانوں سے ہے۔انکے لئے ایک اچھا مشورہ یہ ہے کہ وہ اپنا زیادہ وقت اپنے حلقہ میں گزاریں ، ہر جمعہ کسی ایک مسجد میں نماز پڑھیں اور وہاں کے لوگوں کے مسائل سن کر انہیں حل کریں۔ عہدے دینے کا موقعہ آتا ہے تو ماہرین اور اہل لوگوں کا انتخاب کریں نہ کہ صرف اپنے چمچوں کا جیسا کہ آجکل ہو رہا ہے۔ووٹروں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے یم یل یے کو ہر سال اسٹیج پر بلائے اور عوام کے روبرو مسائل پیش کر کے ان سےTime bound وعدے لے۔ اب جب کہ مسٹر کمار سوامی وزیر اعلیٰ بن گئے ہیں تو مسلمانوں کے مطالبات مندرجہ ذیل ہونے چاہئیں۔
m چار مسلمانوں کو وزیر بنایا جائے اور انہیں اچھے پورٹ فولیو دیے جائیں( ہیلتھ، پی ڈبلیو ڈی، انڈسٹریس، ٹرانسپورٹ، فوڈ ، شہری ترقیات)
m مسلمانوں کو تعلیم اور ملازمت میں فیصد ریزرویشن دیا جائے۔
m پبلک سرویس کمیشن میں ایک مسلمان ضرور ہو نا چاہیے اور ہر کمیٹی میں ایک مسلمان ممبر ضرور ہونا چاہیے۔
m ہر اردو اسکول میں ایک کنڑا ٹیچرکا تقرر ضرور کیا جائے اور ہر سال اردو ٹیچروں کی جنرل نالج اور قابلیت کا امتحان لیا جائے۔
m ملازمت میں کنڑا کو لازمی رکھنے کے بجائے سلیکشن ہو نے کے بعد کنڑا سیکھنے پر زور دیا جائے۔
m منسٹروں سے کہا جائے کہ وہ عوامی ماہرین کے مشوروں کو نظر انداز کر نے کے بجائے ان پر عمل کریں۔
m ہیلتھ کے میدان میں یشسوینی اسکیم کے بند ہونے سے متوسط طبقہ کے لئے مشکل کھڑی ہو گئی ہے ۔ اسلئے کرناٹک میں کوئی متبادل اسکیم لائی جائے اور کچھ پرائیویٹ اسپتالوں کو بھی اس میں شامل کیا جائے۔
m مسلم اکثریتی علاقوں میں سرکاری کالج، انجینئرنگ کالج،بڑے اسپتال،ہاسٹلس ،لائبریریاں، ریڈنگ رومس،پوسٹ آفس ،بینکوں کی برانچس، فیکٹریاں اور ملٹی نیشنل کمپنیاں قائم کریں۔
m شہر بنگلور میں آبادی دس گنا بڑھ جانے کے سبب وہاں چار اور بڑی بورنگ اسپتال جیسے اسپتالوں کی ضرورت ہے۔ مشرق میں آنیکل سے قریب،مغرب میں آزاد نگر یا گرد ھلی، شمال میں ہیگڈے نگر یا سارے پالیہ اور جنوب میں کمار سوامی لے آوٹ۔میسور کے راجیو نگر میں بھی ایک بڑی اسپتال ہو نا چاہیے۔
m سچر کمیٹی رپورٹ کی سفارشات پر عمل کرتے ہوے سیاست دانوں کو وقف املاک سے دور رکھا جائے۔ one man one post پر عمل کیا جائے،مساجد میں کسی بھی ممبر کو دو ٹرم سے زیادہ نہ رکھا جائے اور ہر پانچ سال میں ہر مسجد میں الیکشن کرایا جائے،کسی بھی شخص کو وقف اڈوائزری کمیٹی کا دوسری مرتبہ چیرمین نہ بنایا جائے۔ غیر قانونی قبضوں کو فوراً ہٹایا جائے اور کمرشیل کامپلکس بنائے جائیں تاکہ آمدنی میں اضافہ ہو۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: