سرورق / خبریں / کرناٹک کے سیاسی بحران پر فیصلہ آج ایڈی یورپا کی اگنی پر�…

کرناٹک کے سیاسی بحران پر فیصلہ آج ایڈی یورپا کی اگنی پر�…

ایک رکن اسمبلی کی قیمت 150؍کروڑ
آج شام یہاں کے پی سی سی دفتر میں منعقدہ ایک اخباری کانفرنس میں کانگریس ترجمان وی ایس اگرپا نے کہاکہ بی جے پی آپریشن کنول کا استعمال کرتے ہوئے ایک رکن اسمبلی کو خریدنے کے لئے اب ڈیڑھ سو کروڑ روپئے کی پیش کش کررہی ہے ۔ اس سلسلہ میں انہوں نے ایک آڈیو کلپ بھی میڈیا والوں کو سنائی۔

بنگلورو؍نئی دہلی۔ (منیر احمد آزاد۔ چیف رپورٹر) سپریم کورٹ نے ایڈی یورپا حکومت کو اسمبلی میں کل شام 4؍بجے اکثریت ثابت کرنے کی ہدایت دی ہے۔ جسٹس اے کے سیکری ، جسٹس ایس اے بوبڈے اور جسٹس اشوک بھوشن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے کانگریس ، جے ڈی ایس اتحاد کی درخواست پرآج یہ عبوری حکم دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے ریاست کی بی جے پی حکومت کی طرف سے خفیہ ووٹنگ کرانے کی مرکزی حکومت کی درخواست مسترد کردی ہے۔ اس معاملہ پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے کہاکہ سب سے پہلے اسمبلی کا عبوری اسپیکر (پروٹیم اسپیکر) مقرر کیا جائے اور کل شام 4؍بجے سے پہلے تمام نومنتخب اراکین اسمبلی کو حلف دلایا جائے اور 4؍بجے بی جے پی حکومت کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا ہوگا۔ تحریک اعتماد کے عمل کی ویڈیو گرافی نہیں کرائی جائے گی۔ عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس دوران بی ایس ایڈی یورپا حکومت نہ تو کوئی پالیسی کا فیصلہ کرے گی اور نہ ہی اینگلو انڈین کو اسمبلی میں رکن نامزد کرے گی۔ عدالت عظمیٰ نے ریاست کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس کو تمام اراکین اسمبلی کو تحفظ فراہم کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ عدالت نے اکثریت کے لئے درکار اراکین اسمبلی کی حمایت نہ ہونے کے باوجود کسی ایک بڑی پارٹی کو گورنر کی طرف سے حکومت بنانے کے لئے مدعو کئے جانے کے معاملہ پر دس ہفتے بعد سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
گیارہ بجے اسمبلی اجلاس: کل بروز ہفتہ صبح گیارہ بجے اسمبلی اجلاس شروع ہوگا۔ آج یہاں ریاستی کابینہ کی ہنگامی میٹنگ کے بعد بی جے پی حکومت کی قیادت کرنے والے بی ایس ایڈی یورپا نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر ریاستی کابینہ نے کل19؍مئی کو اکثریت ثابت کرنے کے لئے اسمبلی اجلاس طلب کرنے گورنر سے سفارش کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں صد فی صد یقین ہے کہ ایوان میں اکثریت ثابت ہوجائے گی۔ ایڈی یورپا نے کہاکہ تمام منتخب اراکین سے کہہ دیا گیا ہے کہ وہ آج شام تک شہر لوٹ آئیں اور اپنی پارٹی کے صدر دفتر میں ملیں۔
بوپیا عبوری اسپیکر نامزد: بی جے پی رکن اسمبلی و سابق اسمبلی اسپیکر کے جی بوپیا کو آج اسمبلی کا عبوری اسپیکر (پروٹیم اسپیکر) نامزد کیاگیا ہے۔ ریاستی گورنر وجوبھائی والا نے بوپیا کو آج راج بھون میں عبوری اسپیکر کی حیثیت سے حلف دلایا انہیں عبوری اسپیکر نامزد کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کرنے کے فوری بعد گورنر نے بوپیا کو حلف دلایا۔ بوپیا 2009تا2013بی جے پی کے دور اقتدارمیں اسپیکر رہ چکے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے یہ بھی کہا ہے کہ قانون کے تحت عبوری اسپیکر ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کے معاملہ پر فیصلہ کرسکتے ہیں۔ کل اسمبلی اجلاس شروع ہونے کے بعد عبوری اسپیکر نئے منتخب اراکین اسمبلی کو حلف دلائیں گے۔ بوپیا آر ایس ایس سے تعلق رکھتے ہیں اور وزیراعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک ہیں۔ 2011میں انہوں نے ایڈی یورپا حکومت کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں مدد کرنے کے لئے بی جے پی کو چھوڑنے والے گیارہ اور5؍آزاد اراکین اسمبلی کو نا اہل قرار دے دیا تھا۔ ان کے اس فیصلہ کو کرناٹک ہائی کورٹ نے پہلے درست قراردیا لیکن بعد میں سپریم کورٹ نے بوپیا کے اس فیصلہ کو عجلت میں کیاگیا فیصلہ قرار دیا تھا۔ بوپیا کو عبوری اسپیکر نامزد کرنے کے ریاستی گورنر وجوبھائی والا کے فیصلہ پر حیرت ظاہر کرتے ہوئے کانگریس نے کہاکہ دستور کے مطابق سب سے زیادہ سینئر رکن کو عبوری اسپیکر نامزد کیا جانا چاہئے۔ اس اعتبار سے آر وی دیش پانڈے موزوں تھے۔ لیکن گورنر نے بی جے پی کے ایجنٹ بوپیا کو عبوری اسپیکر نامزد کرکے خود بی جے پی نواز ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ کانگریس کے دنیش گنڈو راؤ نے کہاکہ نئے اراکین اسمبلی کو حلف دلانے کسی سینئر رکن اسمبلی کو پروٹیم اسپیکر نامزد کیا جاتاہے۔
تمام اراکین اسمبلی ہمارے ساتھ ہیں: کانگریس اور جے ڈی ایس اتحاد کو توڑ دینے کے مشورہ کو مسترد کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہاکہ تمام اراکین اسمبلی ہمارے ساتھ ہیں۔ ایوان میں تحریک اعتماد کی کارروائی کے وقت تمام ایوان میں حاضر رہیں گے۔ کل ہی ایوان میں اکثریت ثابت کرنے سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے سدارامیا نے کہاکہ بی جے پی ایوان میں اکثریت ثابت نہیں کرسکے گی کیونکہ اس کے پاس صرف 104 اراکین اسمبلی ہیں جب کہ اکثریت کے لئے میجک نمبر112ہے۔ ان کے پاس 104 سے ایک بھی سیٹ زیادہ نہیں۔ کیونکہ دو منتخب آزاد اراکین بھی کانگریس کے ساتھ ہیں کانگریس کے 78،جے ڈی ایس کے 37اور دو آزاد جملہ 118 اراکین ہمارے ساتھ ہیں۔ ایچ ڈی کمار سوامی دو حلقوں سے کامیاب ہوئے ہیں اسی لئے کانگریس جے ڈی ایس اتحاد کے پاس 117 اراکین ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم تمام ساتھ ہیں۔ اس حقیقت کے باوجود بی جے پی نے ایوان میں اکثریت ثابت کرنے 15؍دنوں کا وقت لیا تھا۔ سدارامیا نے کہاکہ ریاستی گورنر بے بس ہیں وہ وزیر اعظم نریندر مودی اور امیت شاہ کی ہدایت پر عمل کررہے ہیں۔ اگر وہ دستور پر عمل کرتے تو اس طرح کا غلط فیصلہ نہ کرتے۔ سدارامیا نے نریندر مودی اور امیت شاہ کو اس ملک کا موجودہ ہٹلر قرار دیتے ہوئے کہاکہ وہ آئین اور جمہوریت کی عزت کرنا نہیں جانتے۔ وہ جمہوریت کا خون کررہے ہیں اور دستور کی خلاف ورزی۔ دریں اثناء کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد نے الزام لگایا ہے کہ کانگریس کے رکن اسمبلی آنند سنگھ حکومت ہند کے قبضہ میں ہیں۔
گورنر کے خلاف احتجاج: اکثریت نہ ہونے کے باوجود بی جے پی کو حکومت تشکیل دینے کا موقع دینے کے ریاستی گورنر وجوبھائی والا کے فیصلہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کانگریس لیڈر اور کارکنوں نے کے پی سی سی تا راج بھون ریلی نکالنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے ریلی کو انڈین ایکسپریس سرکل ہی پر روک لیا تاہم کے پی سی سی دفتر کے روبرو احتجاجی مظاہرہ کیاگیا۔ اس احتجاج میں ہزاروں کانگریس لیڈروں سمیت غلام نبی آزاد ،اشوک گہلوٹ، ملیکاارجن کھرگے، ہری پرساد ، آر۔ روشن بیگ، سلیم احمد ، کے ایچ منی اپا اوردیگر نے شرکت کی۔
کرناٹک کا سیاسی ڈرامہ حیدرآباد منتقل:کرناٹک کا سیاسی ڈرامہ حیدرآباد منتقل ہوگیا ہے کانگریس اور جنتادل سیکولر کے ارکان اسمبلی آج صبح حیدرآباد پہنچ گئے ۔ ان دونوں جماعتوں کو اپنے اپنے ارکان اسمبلی کو خریدی سے بچانے کے لئے حیدرآباد منتقل کردیا ہے ۔ یہ ارکان اسمبلی تین بسوں کے ذریعہ آج صبح حیدرآباد پہنچے ۔ کانگریس اور جے ڈی ایس کے ارکان اسمبلی کی تعداد 118 ہے تاہم بتایا جاتا ہے کہ کانگریس کے 2 ارکان اسمبلی لاپتہ ہیں۔حیدرآباد کی تاج کرشنا ہوٹل میں سخت سکیورٹی کے درمیان ان ارکان اسمبلی کو رکھا گیا ہے ۔ ہوٹل اور اس کے اطراف کے علاقوں میں سکیورٹی میں اضافہ کردیا گیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ان ارکان اسمبلی کو کسی بھی قسم کی تکلیف یا مشکل صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔تلنگانہ کانگریس کے صدر اتم کمار ریڈی بھی ہوٹل میں موجود تھے اور اُنہوں نے اپنی پارٹی کے ارکان اسمبلی کے قیام و آرام کے انتظامات کا خود جائزہ لیا۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: