سرورق / خبریں / شکست کے اندیشہ سے بی جے پی کی صفوں میں بوکھلاہٹ طاری…

شکست کے اندیشہ سے بی جے پی کی صفوں میں بوکھلاہٹ طاری…

نئی دہلی،  (یو این آئی) کانگریس نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر کرناٹک اسمبلی میں ہفتہ کو ہونے والی طاقت آزمائی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو اپنی ہار یقینی نظر آ رہی ہے لہٰذا وہ بوکھلائی ہوئی ہے اور یہ بوکھلاہٹ معاملے کی سماعت کے دوران عدالت میں نظر آئی۔کانگریس کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے یہاں پارٹی کی باقاعدہ پریس بریفنگ میں کہا کہ معاملے کی سماعت کے دوران حکومت کے وکیل نے طاقت آزمائی ہفتہ کو نہ کرنے پر بار بار زور دیا لیکن عدالت نے ان کے اصرار کو مسترد کر دیا۔ بی جے پی کے وکیل نے پہلے 15 دن بعد طاقت آزمائی کی درخواست کی تھی لیکن عدالت نے اس کی درخواست مسترد کر دی۔عدالت کے رخ کومحسوس کرتے ہوئے وکیل نے 15 دن کی بجائے دس دن میں اکثریت ثابت کرنے کے لئے وقت مانگا لیکن عدالت نے اس تجویز بھی کو مسترد کردیا۔پھر سات دن کا وقت مانگا لیکن عدالت نے اس کی بات نہیں سنی ۔ کوئی چارہ نہیں بچا تو ان کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ پیر سے پہلے طاقت آزمائی بالکل نہ کرائی جائے لیکن عدالت نے اس درخواست کو بھی مسترد کردیا اور کہا کہ ہفتہ کو طاقت آزمائی کی جانی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو یقین ہو گیا ہے کہ ہفتہ کو وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا اکثریت ثابت نہیں کر سکیں گے اور ایوان میں ان کی شکست یقینی ہے ۔ اس کی یقینی شکست سے بی جے پی کی صفوں میں بوکھلاہٹ ہے اور اس کی یہ بوکھلاہٹ معاملے کی سماعت کے دوران عدالت میں واضح نظر آ رہی تھی۔رات میں ہی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے تناظر میں مسٹر سنگھوی نے کہا کہ اگر گورنر بی جے پی لیڈر کو رات ساڑھے نو بجے خط نہیں دیتے اور مسٹر ایڈی یورپا کو صبح نو بجے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے حلف کے لئے مدعو نہیں کیا جاتا تو آدھی رات کو عدالت کی کوئی کارروائی کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس صورت حال کو دیکھ کر عدالت نے رات کو عدالتی عمل کو شروع کرنے کی درخواست قبول کرلی ہے ۔نہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کا حلف لینے کے بعد مسٹر ایڈی یورپا ایک اینگلو انڈین رکن کو نامزد کر سکتے تھے اس لئے کانگریس کے اصرار پر عدالت نے صاف کر دیا ہے کہ جب تک حکومت اعتماد کا ووٹ حاصل نہیں کر لیتی ہے تب تک وزیر اعلیٰ اینگلو انڈین رکن کو نامزد نہیں کر سکتے ۔ اس کے ساتھ، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اکثریت ثابت نہ ہونے تک کوئی پالیسی ساز فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔مسٹر سنگھوی نے کہا کہ کرناٹک میں گورنر کے کردار پر اٹھے سوال کے سلسلے میں کورٹ نے تفصیل سے غور کیا ہے اور اس کے بعد ہی ملک کی عدالت عظمیٰ نے یہ تاریخی اور وسیع فیصلہ دیا ہے ۔ اس طرح کے معاملے میں پہلی بار گورنر کے کردار پر بات ہو رہی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی غور کیا گیا کہ عدالت گورنر کے کردار میں کس حد تک مداخلت کر سکتی ہے ۔اسمبلی کے عارضی اسپیکر کے سوال پر، انہوں نے کہا کہ یہ سینئر رکن کو ہی یہ ذمہ داری دی جائے ۔ یہ روایت بھی رہی ہے اور اس کی پاسداری کرناٹک میں ہونی چاہئے ۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: