سرورق / خبریں / بکری کے دودھ میں ڈینگو کو روکنے کی طاقت۔سائنسدانوں کی تحقیق

بکری کے دودھ میں ڈینگو کو روکنے کی طاقت۔سائنسدانوں کی تحقیق

نئی دہلی،  (یواین آئی) بکری کا دودھ ڈینگو اور چکنگنیا کے علاج میں تیر بہدف ثابت ہو سکتا ہے ۔ سینٹرل گوٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ مخدوم ، متھرا میں ڈینگو اور چکنگنیا کے امراض کے علاج میں بکری کے دودھ کے فوائد پر تحقیق شروع کی گئی ہے ۔ اس کے پہلے مرحلہ میں ایسے اشارے ملے ہیں کہ ان دونوں بیماریوں میں مبتلا افراد کو چار پانچ دنوں تک صبح اور شام دو ۔ دو سو ملی لیٹر بکری کا دودھ پلایا جائے تو وہ فوری طور صحت مند ہوتے جاتے ہیں۔انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ایم ایس چوہان نے بتایا کہ دودھ میں متعدد قسم کے پروٹین پائے جاتے ہیں لیکن بکری کے دودھ میں ایک خاص قسم کی پروٹین بائیو پیپٹیز ہوتی ہے جو گائے یا بھینس کے دودھ میں نہیں ملتی۔ یہ پروٹین ڈینگو اور چکنگنیا کی روک تھام میں موثر کردار ادا کرتا ہے ۔ ان دونوں بیماریوں سے متاثر افراد کے خون میں پلیٹلیٹس گھٹنے لگتی ہے جس سے کئی بار ان کی موت تک ہو جاتی ہے .سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ بائیوپیپٹیز سے پلیٹلیٹس بڑھتی ہے اور بیماری کی روک تھام میں مدد ملتی ہے ۔کٹر چوہان کے مطابق گائے ، بھینس اور بکری کا دودھ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ اس کی اہم وجہ ان جانوروں کے خوردونوش کی عادت ہے ۔ گائے یا بھینس کے مقابلہ میں بکری الگ قسم کا چارہ کھاتی ہے ۔وہ خود کو صحت مند رکھنے کے لئے نیم، پیپل، پاکڑ اور بیری بھی کھاتی ہے جنہیں عام طور پر دوسرے جانور پسند نہیں کرتے ۔ گائے یا بھینس چارہ کو ایک ساتھ کھاتے ہیں جبکہ بکری چن چن کر بین بین کرکھاتی ہے ۔ وہ کئی ایسے پودے بھی کھاتی ہے جن میں طبی اویات کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ڈینگو ایک جان لیوا بیماری ہے جو ایڈیز مچھروں کے کاٹنے سے پھیلتی ہے ۔ جب یہ مچھر کاٹتے ہیں تو جسم میں وائرس پھیل جاتا ہے ۔ یہ وائرس پلیٹلیٹس کی تعمیر کے عمل کو متاثر کرتے ہیں۔ ڈینگو ہونے پر پلیٹلیٹس کی تعداد گھٹنے لگتی ہے ۔ پلیٹلیٹس دراصل خون کے تھکّا بنانے والے خلیے ہیں جو مسلسل ٹوٹ کر تیار ہوتے رہتے ہیں۔ یہ خون میں بہت ہی چھوٹے چھوٹے خلیے ہوتے ہیں۔ یہ خلیے خون میں تقریبا ایک لاکھ سے تین لاکھ تک پائے جا تے ہیں۔ ان پلیٹلیٹس کے کام ٹوٹے پھوٹے خون کے شریان کو ٹھیک کرنا ہے ۔ دراصل پلیٹلیٹس کا کام ‘بلڈ کلاٹنگ’ ہے یعنی بہتے خون پر تھکّا جمنا، جس سے زیادہ خون نہ بہے ۔خون میں اگر ان کی تعداد 30 ہزار سے کم ہو جائے تو جسم کے اندر ہی خون بہنے لگتا ہے اور جسم میں بہتے ،بہتے یہ خون ناک، کان، پیشاب اور فضلہ وغیرہ سے باہر آنے لگتا ہے ۔ خون میں موجود پلیٹلیٹس کاایک اہم کام جسم میں موجود ہارمون اور پروٹین فراہم کرانا ہوتا ہے ۔سائنسدانوں کے مطابق گائے کے دودھ میں آٹھ قسم کے پروٹین، چھ قسم کے وٹامن، 21 قسم کے امینو ایسڈ، 11 قسم کے گریسی ایسڈ، 25 قسم کے معدنی اجزا، 16 قسم کے نائٹروجن کمپاؤنڈز، چار اقسام کے فاسفورس کمپاؤنڈز، دو طرح کے گلوکوز، اس کے علاوہ اہم معدنی گولڈا، تانبہ، آئرن ، کیلشیم، آیوڈین، فلورین، سلیکون وغیرہ بھی پائے جاتے ہیں۔بھینس کے دودھ میں ڈھیر سارا پروٹین ہوتا ہے جس میں آٹھ امینو ایسڈ پائے جاتے ہیں۔ ایک کپ دودھ میں تقریبا 8.5 گرام تک پروٹین حاصل ہو جاتا ہے ۔ بھینس کے دودھ میں کیلشیم اور دیگر ضروری تغذیاتی اجزاء کافی مقدار میں ہیں جو ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوطی فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں معدنی اجزا جیسے میگنیشیم، پوٹاشیم، آئرن اور فوسفورس وغیرہ ہوتا ہے ۔بکری کے دودھ میں کاربوہائیڈریٹ، لپڈ، وٹامن، آئرن اور تانبہ، کیلشیم، وٹامن بی، پوٹاشیم، فاسفورس، معدنیات اور بہت سے فائدہ مند کمپاؤنڈز پائے جاتے ہیں۔ اس کا دودھ پھیپھڑوں کے زخموں اور حلق کے درد کو دورکرنے میں مدد ملتی ہے ۔ یہ پیٹ کو ٹھنڈک بھی فراہم کرتا ہے ۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: