سرورق / بین اقوامی / یہودی شرپسندوں کی دہشت گردی، دو فلسطینی گاڑیاں پھونک ڈالیں غزہ پر اسرائیل کی شدید بم باری، فلسطینی گروپوں کا راکٹوں سے جواب –

یہودی شرپسندوں کی دہشت گردی، دو فلسطینی گاڑیاں پھونک ڈالیں غزہ پر اسرائیل کی شدید بم باری، فلسطینی گروپوں کا راکٹوں سے جواب –

مقبوضہ بیت المقدس: قابض اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز غزہ پٹی کی سرحد پر واقع اسرائیلی بستیوں میں خطرے کے سائرن بجائے۔ قابض اسرائیلی فوج کے لڑاکا طیاروں نے غزہ پٹی میں مختلف اہداف کو حملوں کا نشانہ بنایا جن میں ایک سرنگ شامل ہے۔ ادھر فسلطینی مزاحمت کار گروپوں نے اسرائیلی علاقوں کی جانب 17 راکٹ داغے جن میں 5 کو اسرائیل کے آئرن ڈوم ڈیفنس سسٹم نے فضا میں ناکارہ بنا دیا جب کہ ایک راکٹ یہودی بستی کے اندر گرا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق فلسطینیوں کی جانب سے دستی بموں کے حملے میں ایک اسرائیلی فوجی زخمی ہو گیا۔ فلسطینی عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں غزہ پٹی کے وسط میں البریج پناہ گزین کیمپ کے مشرق میں واقع القسام بریگیڈز کے ٹھکانے میزائلوں کا نشانہ بنایا گیا۔ القسام بریگیڈز فلسطینی تنظیم حماس کا عسکری ونگ ہے۔ اس کے علاوہ غزہ پٹی کے شمال میں بھی القسّام بریگیڈز کے دو دیگر ٹھکانوں پر کئی میزائل داغے گئے۔ عینی شاہدین نے مزید بتایا کہ اسرائیلی طیاروں نے غزہ شہر کے مشرق میں الزیتون کے علاقے میں زرعی اراضی پر متعدد میزائل داغے۔ اس کے علاوہ غزہ پٹی کے جنوبی شہر رفح کے مشرق میں اسرائیلی کراسنگ صوفا کے نزدیک غیر آباد زرعی اراضی کو بھی میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق فلسطینی مسلح گروپوں نے غزہ پٹی کے متوازی اسرائیلی قصبوں کی جانب 30 کے قریب مارٹر گولے اور کئی میزائل داغے۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری بیان میں حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے کہا کہ فلسطینی حملوں کا مقصد دشمن کو اس امر پر مجبور کرنا ہے کہ وہ جارحیت روک دے۔ ترجمان کے مطابق فلسطینی قوم کا تحفظ اور دفاع قومی تقاضہ اور تزویراتی آپشن ہے۔ اس سے قبل جمعہ کے روز غزہ پٹی اور اسرائیل کے درمیان سرحدی باڑ کے نزدیک جھڑپوں میں اسرئیلی فوج کی فائرنگ سے ایک فلسطینی لڑکا شہید اور 220 افراد زخمی ہو گئے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعوی کیا ہے کہ اس کے اہل کاروں نے ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی کی اور اسرائیلی اراضی میں دراندازی روکنے کے واسطے براہ راست فائرنگ کی۔ جمعہ کی دوپہر غزہ پٹی کی مشرقی سرحد پر ہزاروں فلسطینی جمع ہو گئے تھے۔ ان میں متعدد افراد نے سرحد کے نزدیک ٹائر بھی جلائے۔ فلسطینیوں کی جانب سے پناہ گزینوں کی واپسی کے حق کو باور کرانے کے لئے احتجاج کا سلسلہ تقریبا 100 روز قبل شروع ہوا تھا۔دوسری جانب یہودی شرپسندوں نے جمعہ کے روز مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس میں عوریف کے مقام پر فلسطینی شہریوں کی دو گاڑیوں پر پٹرول چھڑک کر انہیں نذرآتش کر ڈالا۔ اطلاعات کے مطابق مقامی فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ یہودی اشرار نے عوریف کے مقام پر پہلے گاڑیوں پر عبرانی زبان میں یہودیوں کا قومی نشان بنایا اور فلسطینیوں کے خلاف اشتعال انگیز نعروں کی چاکنگ کی۔ اس کے بعد گاڑیوں کو پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ یہودی آباد کاروں نے عبدالعزیز شحادہ اور ایک دوسرے فلسطینی کی کاروں کو آگ لگا کر انہیں نذرآتش کر ڈالا۔ خیال رہے کہ غرب اردن میں 423 یہودی کالونیاں قائم ہین جن میں 7 لاکھ یہودیوں کو دنیا بھر سے لا کر آباد کیا گیا ہے۔ یہ یہودی شرپسند کل آبادی کا 46 فی صد ہیں جنہوں نے فلسطینی آبادی کا جینا محال کر رکھا ہے۔ دریں اثنا فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی کی سرحد پر اسرائیل نے فلسطینیوں کے آتشی کاغذی جہازوں اور گیسی غباروں کے نتیجے میں 30 مقامات پرآگ بھڑک اٹھی۔ عبرانی اخبار ’معاریو‘کے مطابق جمعہ کے روز فلسطینیوں کے کاغذی جہازوں سے کئے گئے حملوں میں غزہ کے قریب21 مقامات پرآگ بھڑک اٹھی۔ رپورٹ کے مطابق آج سوموار کو علی الصباح فلسطینیوں کے کاغذی جہازوں اور آتش گیر غباروں کی مدد سے کئی مقامات پر آگ لگ گئی۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج اور فائر بریگیڈ کی ٹیموں نے کئی گھنٹوں تک آگ بجھانے کی کوشش کی مگر اس پر قابو نہیں پایا جاسکا۔ آتش زدگی کا یہ تازہ سلسلہ ایک ایسے وقت میں جاری ہے جب دوسری طرف اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ تین ماہ کے دوران گیسی غباروں کے نتیجے میں اسرائیل کو 85 لاکھ شیکل کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ جب کہ مجموعی طورپر 5000 دونم کے علاقے آگ کی لپیٹ میں آچکے ہیں۔ گیسی غباروں کے گرنے اور آگ لگنے کے بعد اسرائیلی ریسکیو ٹیمیں اور فائر بریگیڈ کا عملہ روانہ کیا گیا۔ گرمی کی وجہ سے آگ تیزی کے ساتھ وسیع رقبے میں پھیل گئی اور اسے بجھانے میں کئی گھنٹے صرف ہوگئے۔ خیال رہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کی سرحد پر فلسطینیوں کے گیسی غبارے اور کاغذی آتش گیر جہاز روکنے کے لئے نیا نظام بھی نصب کیا ہے مگر اس کے باوجود صہیونی حکام فلسطینیوں کے اس مزاحمتی حربے کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔وہیں اسرائیلی حکام نے ایک فلسطینی شہری کو مسلسل 15 سال تک جیل میں قید رکھنے کے بعد گذشتہ روز اسے رہا کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق رہائی پانے والے 42 سالہ فلسطینی باسل سلیمان البرزوہ کا تعلق مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس سے ہے۔ البرزوہ کو رہائی جیل سے الخلیل شہر کی الظاھریہ چیک پوسٹ پر لایا گیا جہاں اس کے اہل خانہ اور دیگر شہریوں کی بڑی تعداد استقبال کے لئے جمع تھی۔ رہائی کے بعد البرزہ نے سب سے پہلے سابق فلسطینی لیڈر یاسر عرفات شہید کے مزار پرحاضری دی۔ اس کے بعد وہ اپنے آبائی شہر نابلس پہنچے جہاں ان کے استقبال کے لئے شہریوں کی بڑی تعداد جمع تھی۔خیال رہے کہ باسل البرزہ کو اسرائیلی فوج نے 12 جولائی2003 کو حراست میں لیا اور اسے پندرہ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ البرزوہ تحریک فتح کے شہداء الاقصیٰ بریگیڈ سے منسلک تھے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: