سرورق / کھیل / ہند۔ انگلینڈ ٹسٹ سیریز میں اسپنروں کا راج ہوگا؟ تیز گیند بازوں کو باری باری موقع دیا جائے گا: براڈ۔ کوہلی کو چیف کوچ شاستری کی بھر پور حمایت –

ہند۔ انگلینڈ ٹسٹ سیریز میں اسپنروں کا راج ہوگا؟ تیز گیند بازوں کو باری باری موقع دیا جائے گا: براڈ۔ کوہلی کو چیف کوچ شاستری کی بھر پور حمایت –

نئی دہلی ؍برمنگھم،(آئی این ایس) اس بار پٹودی سیریز میں پچوں کا رول اہم بتایا جا رہا ہے۔مانا جا رہا ہے کہ پچیں اس بار اسپنروں کے لئے بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔لیکن ہندوستان اورانگلینڈ کے درمیان انگلینڈ میں کھیلی گئی گزشتہ 2 سیریز پر نظر ڈالیں تو صاف ہوتا ہے کہ تیز گیند بازوں نے ہی سیریز کا رخ طے کیا ہے۔2011ء میں کھیلی گئی 4ٹسٹ میچوں کی سیریز میں گیند بازوں کے کل 125 وکٹ تھے جن میں سے 102وکٹ تیز گیند بازوں نے لیے۔ محض 23وکٹ اسپنروں کے کھاتے میں گئے ۔دونوں ٹیموں کو الگ کر کے دیکھیں تو انگلینڈ کے لئے اسپنروں کے 13وکٹ کے مقابلے پیسرس نے 66وکٹ حاصل کئے۔مطلب اسپنر کے 1 وکٹ پر پیسرس نے تقریباً 5 وکٹ لیے وہیں ٹیم انڈیا کے لئے اسپنروں نے محض 10وکٹ لئے تو پیسرس نے 36 وکٹ اپنے نام کئے۔اس سیریز میں ہندوستانی ٹیم ہر بار آل آؤٹ ہوئی۔وہ سیریز کے 8اننگز میں محض 1 بار ہی 300 کے اعداد و شمار کو چھو سکی۔ اس کی وجہ رہے اس دورے پر موجودہ انگلینڈ ٹیم کے 2فاسٹ بولر۔اسٹیوارٹ براڈ نے 25 وکٹ تقریباً14 کے اوسط سے جھٹکے، تو جیمز اینڈرسن نے 21وکٹ تقریباً 26 کی اوسط سے لیے۔21جولائی سے 22 اگست کے درمیان کھیلی گئی اس سیریز میں انگلینڈ 4-0 سے جیتا ۔پھر 2014 میں سیریز 5 ٹسٹ میچوں کی ہوئی اور ایک بار پھر تیز گیند بازوں کا بول بالا رہا۔سیریز میں کل 153وکٹ گیند بازوں نے حاصل کئے۔اس میں 118پیسرس اور 35 وکٹ اسپنروں کے نام رہے۔دونوں ٹیموں کو الگ کرکے دیکھیں تو انگلینڈ کے لئے اسپنروں نے 21وکٹ تو پیسرس نے 73 وکٹ لئے۔وہیں ہندوستان کے لئے اسپنروں کے 14وکٹ کے مقابلے پیسرس نے 45 وکٹ لئے۔ اس سیریز میں بڑا فرق یہ رہا کہ ٹاپ3بولروں میں 1اسپنر بھی شامل تھا۔جیمز اینڈرسن سیریز میں 25وکٹ کے ساتھ ٹاپ بولر رہے تو معین علی اور اسٹیورٹ براڈ نے 19-19ہندوستانی وکٹ حاصل کئے۔ 9 جولائی سے 17 اگست کے درمیان کھیلی گئی اس سیریز کو انگلینڈ نے 3-1 سے جیت لیا۔اس بار سیریز یکم اگست سے 11ستمبر کے درمیان کھیلی جائے گی۔گرمی کی وجہ سے پچوں کے تھوڑا سا سست ہونے کا خدشہ ہے۔جیسا کہ یک روزہ سیریز میں دیکھنے کو ملا۔ایسے میں ا سپن بولروں کا رول ٹسٹ میچوں میں اہم ہو سکتا ہے۔ اسی دوران انگلینڈ کے فاسٹ بولر اسٹوارٹ براڈ نے کہا ہے کہ ہندوستان کے خلاف یکم اگست سے شروع ہو رہی5 ٹسٹ میچوں کی سیریز میں ان کو اور جیمز اینڈرسن کو روٹیٹ کیا جائے گا تاکہ ان کی ذمہ داری میں توازن بنا رہے۔براڈ نے کہاکہ ٹاس، پچوں اور ذمہ داری پر انحصار کرے گا۔اگر 250اوورکے 2 ٹسٹ ہو گئے تو یہ سوچنا مشکل ہے کہ تمام تیز گیند باز6 ہفتے میں پانچوں ٹسٹ کھیلیں گے۔انہوں نے کہاکہ جب پچ فلیٹ ہو اور اسپنر کافی کام کر رہے ہوں تو آپ کو اتنی بولنگ نہیں کرنی پڑتی۔ لیکن جب گیند ریورس سوئنگ لے رہی ہو اور پچ ہری بھری ہو تو کئی بار آپ کا کام کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹیم مینجمنٹ پہلے ہی مطلع کر چکا ہے کہ تیز گیند بازوں کو روٹیشن کیا جائے گا۔براڈ نے کہاکہ پہلے ہی اس پر بحث ہو چکی ہے کہ کسی ٹسٹ میچ سے باہر رہنا پڑے تو دکھی ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔یہ کوئی ذاتی حملہ یا باہر کرنا نہیں ہے بلکہ مینجمنٹ یقینی بنانا چاہتا ہے کہ سبھی کو برابر موقع ملے۔انہوں نے کہا کہ وہ کبھی خراب فارم کی وجہ سے باہر نہیں ہونا چاہتے۔میں ایسے مقام پر نہیں پہنچنا چاہتا جب مجھ سے کہا جائے کہ واپس لوٹ کر کاؤنٹی کرکٹ کھیلو۔آپ کے باہر ہونے پر نئے بولر آتے ہیں۔آپ ٹیم میں رہتے ہیں تو یونٹ کا حصہ رہتے ہیں۔5 ٹسٹ میچوں میں تبدیلی تو کی جائے گی لیکن ہم اسے سمجھتے ہیں۔‘‘ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ روی شاستری کے مطابق گزشتہ 4 سال کی کامیابی نے کپتان ویراٹ کوہلی کی ذہنیت پوری طرح بدل دی ہے اور آئندہ ٹسٹ سیریز میں وہ برطانیہ کے عوام کو دکھانا چاہیں گے کہ انہیں دنیا کے بہترین بلے بازوں میں کیوں شمار کیا جاتا ہے۔کوہلی کا پچھلا انگلینڈ دورہ(2014ء)انتہائی مایوس کن رہا جہاں انہوں نے 5 ٹسٹ میچوں میں 13.50 کے اوسط سے 1، 8، 25، 0، 39، 28، 0،7، 6 اور 20 رن کی اننگز کھیلی تھیں۔آئندہ سیریز میں سب کی نظریں کوہلی پر لگی ہیں کیونکہ گزشتہ 4 سال میں وہ دنیا کے بہترین بلے بازوں میں سے ایک بن کر ابھرے ہیں۔شاستری نے کہا،’’ کوہلی کے ریکارڈ کو دیکھیئے۔مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ گزشتہ 4 سال میں انہوں نے کیسا مظاہرہ کیا ہے۔جب آپ اس طرح کا مظاہرہ کرتے ہیں تو آپ ذہنی طور پر دوسری سطح پر پہنچ جاتے ہیں۔آپ کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ہاں، 4 سال پہلے جب وہ یہاں آئے تھے تو انہوں نے اچھی کارکردگی نہیں کی تھی لیکن 4 سال بعد وہ دنیا کے بہترین کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔وہ برطانوی عوام کو دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ دنیا کے سب سے اچھے کھلاڑی کیوں ہیں۔شاستری نے کہا کہ وہ جارحانہ کرکٹ کھیلنے میں یقین رکھتے ہیں جو انگلینڈ جیسے مشکل دورے پر ٹاپ پرآنے کے لئے ضروری ہے۔ ہم یہاں میچ ڈرا کرنے اور تعداد بڑھانے نہیں آئے ہیں۔ہم ہر میچ کو جیتنے کے لئے کھیلتے ہیں۔اگر جیتنے کی کوشش میں ہار گئے تو یہ خراب قسمت ہوگی۔ہمیں خوشی ہوگی، اگر ہم ہارنے سے زیادہ جیت اپنے نام کر سکیں۔ ہمارا خیال ہے کہ ہمارے پاس دورہ کرنے والی بہترین ٹیموں میں سے ایک بننے کی صلاحیت ہے۔فی الحال، دنیا میں کوئی بھی ٹیم ایسی نہیں ہے جو دورے پر اچھی کارکردگی کر رہی ہو۔آپ دیکھ سکتے ہیں کہ جنوبی افریقہ کا سری لنکا میں کیا حال ہوا۔ہم اس دورے سے پہلے انگلینڈ میں ہماری اسکورلائن جانتے ہیں۔ ہم2011ء میں 4-0، اور 2014ء میں 3-1 سے بہتر کرنا چاہتے ہیں۔‘‘شاستری نے فارم سے باہر چل رہے چتیشور پجارا کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس ہندوستانی ٹیم میں انہوں نے اہم کردار اداکیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ان کے لئے یہ تشویش کی بات نہیں ہے۔وہ کافی تجربہ کار کھلاڑی ہیں۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

ٹیسٹ جنگ میں نہیں نظر آئے گی آئی پی ایل دوستی: بٹلر

لندن، انگلینڈ کے تجربہ کار بلے باز جوز بٹلر نے ہندوستانی ٹیم کو آگاہ کیا …

جواب دیں

%d bloggers like this: