سرورق / بین اقوامی / ہند۔نیپال تعلقات تریتا یگ سے : مودی

ہند۔نیپال تعلقات تریتا یگ سے : مودی

جنک پور‘ وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستان اور نیپال کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیتے ہوئے آج کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان بیٹی روٹی کا تعلق ہے جو تریتا یگ سے چلا آرہا ہے۔ مسٹر مودی نے جانکی مندر کے قریب عوامی استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان عقیدہ‘ نقطہ نظر‘ خوشی اور چیلنجز یکساں ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان تریتا یگ میں راجہ جنک اور راجہ دشرتھ کے دور سے دوستی ہے۔ جانکی دھام کے بغیر اجودھیا ادھورا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اتنا ہی نہیں ودیاپتی کی تخلیقات میں ہندوستان اور نیپال کو یکساں اہمیت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتیں آتی جاتی ہیں لیکن دونوں ملکوں کے تعلقات لافانی ہیں جو ’دیو نیتی‘ سے بھی وابستہ ہے۔ انہوں نے نیپال کو روحانیت اور فلسفہ کا مرکز بتاتے ہوئے کہا کہ لمبنی بھگوان بدھ کی جائے پیدائش ہے جب کہ جنک پور ماں جانکی کی۔ ماں سیتا اس روایت کی علامت ہیں جو دونوں ملکوں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے ۔ سیتا‘ قربانی‘ تپسیا اور جدوجہد کی علامت ہیں اور ہم اس روایت کو علمبردار ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے نیپال کی ترقی کے لئے روایت‘ تجارت‘ سیاحت‘ ٹکنالوجی اور ٹرانسپورٹ کے پانچ ’ٹی ‘ کے فارمولے پر ہندوستان کی طرف سے تعاون کی آج یقین دہانی کرائی اور جنک پور اور آس پاس کے علاقوں میں تیرتھ کی سہولت کے فروغ کے لئے ایک سو کروڑ روپے دینے کاآج اعلان کیا۔
مسٹر مودی نے نیپال کے دو دن کے دورہ کے آغاز میں جنک پور میں ایک عوامی استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان دہائیوں سے نیپال کا ایک مستقل ترقیاتی پارٹنر رہا ہے۔ نیپال ہماری’ پڑوسی پہلے‘ پالیسی میں سب سے پہلے آتا ہے۔ تاریخ گواہ رہا ہے کہ جب بھی ایک دوسرے پر کوئی آفت آئی ہے تو ہندوستان اور نیپال مل کر کھڑے ہوئے ہیں۔ ہم نے ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دونوں ملک ہائی وے‘ آئی وے ‘ ٹرانس وے‘ ریلوے ‘ انلینڈ واٹر وے‘ کسٹم چیک پوسٹ اور ہوائی سروس سے جڑیں گے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس دوران ہونے والے معاہدوں سے خوشحال نیپال اور خوشحال ہندوستان کے عزم کو حقیقت میں بدلنے میں مدد ملے گی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ راجہ جنک عوام کے لئے کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے اس پر ماہرین کے ساتھ صلاح و مشورہ کرتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جب دونوں ملکوں پر کوئی آفت آئی تو انہوں نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا اور ہندوستان دہائیوں سے نیپال کے مستقل ترقی میں شریک کار رہا ہے ۔ ہندوستان دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت کی طر ف آگے بڑھ رہا ہے اور نیپال بھی تیزی سے ترقی کررہا ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ ترقی کی پہلی شرط جمہوریت ہے اور یہ نظام اسے مضبوطی فراہم کررہا ہے۔ انہوں نے جمہوری طریقے سے الیکشن منعقد کرنے کے لئے نیپال کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کے عوام نے اپنی امیدو ں اور امنگوں کو پورا کرنے کے لئے ایک نئی حکومت کو منتخب کیا ہے۔ ایک سال کے اندر تین سطحوں پر کامیابی کے ساتھ انتخابات کرائے گئے ہیں جو قابل تعریف ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیپال کے سات صوبوں میں منتخب حکومتیں قائم ہوئی ہیں جو ہندوستان کے لئے فخر کا موجب ہے۔ نیپال سماجی اقتصادی تبدیلی کے نئے دور میں داخل ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دس سال پہلے نیپال کے نوجوانوں نے بلٹ چھوٹ کر بیلٹ اپنایا تھا۔ جمہوریت دونوں ملکوں کے قدیم تعلقات کو اور بھی مضبوط کرتی ہے اور ہندوستان نے اس طاقت کو محسوس کیا ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ انہوں نے حال ہی میں نیپال کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی کا دہلی میں خیر مقدم تھا۔ مسٹر اولی کا خواب نیپال کی خوشحالی ہے اور ہندوستان سب کا ساتھ سب کا وکاس کے فارمولے پر آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیپال سے ملحق مشرقی ریاستوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے تاکہ یہ علاقہ ملک کے بقیہ حصے کی برابری کرسکے جس سب سے زیادہ فائدہ نیپال کو ملے گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کی آزادی کے 75سال 2022میں پورے ہورہے ہیں اور اس وقت تک انہوں نے نیو انڈیا بنانے کا عزم کیا ہے۔ اس کا ہدف غریبوں کو ترقی کے لئے یکساں مواقع فراہم کرنا‘ بھیدبھاو اور اونچ نیچ کو ختم کرنا اور بچوں کی تعلیم‘ نوجوانوں کی کمائی اور بزرگوں کی دوائی فراہم کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بدعنوانی ختم کرنا اور زندگی کو آسان بنانا بھی اس کا مقصد ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ انتظامیہ کو سہل بنایا گیا ہے اور طریقہ کار کو آسان بنایا گیا ہے۔ جس کی پوری دنیا میں تعریف کی جارہی ہے۔ عوامی شراکت سے قوم کی تعمیر کو مضبوط کیا جارہا ہے۔
انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان کنکٹی ویٹی کو اہم بتاتے ہوئے کہا کہ دونوں ملک نہ صرف ندیوں سے جڑے ہیں بلکہ کھلی سرحد سے بھی لوگ روک ٹوک کے بغیر آمدورفت کرتے ہیں۔ اسے اب ہائی وے‘ ریلوے‘ بجلی‘ فضائی راستے کی توسیع اور آبی گذرگاہوں سے جوڑنا ہے جس سے تجارت کو فروغ حاصل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ جے نگر سے جنک پور تک نئی ریل لائن بچھانے کا کام تیزی سے چل رہا ہے اور اس سال کے آخر تک اسے مکمل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کے ساتھ کنکٹی ویٹی کو فروغ دے رہا ہے۔زمین ‘ پانی اور فضا ایک دوسرے سے جڑ جائیں اور عوام کے درمیان تعلقات پھلیں پھولیں‘ یہی دعا ہے۔انہوں نے کہا کہ جے نگر جنک پور ریلوے لائن کا کام اسی سال پورا ہوجانے کی امید ہے ۔ آبی راستے سے جڑنے کے بعد نیپال پوری دنیا سے جڑ جائے گا اور اس سے نیپال کی صنعتوں کو فائدہ ہوگا۔ کاروبار کے لحاظ سے یہ بہت اہم ہوگا۔ انہو ں نے گذشتہ ماہ زراعت کے شعبے میں نئی شراکت کے اعلان کا بھی ذکر کیا او رکہا کہ سائنس اور ٹکنالوجی کے استعمال سے اسے آگے بڑھایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ’’ پچھلے ماہ ہم نے زرعی سیکٹر میں ایک نئی شراکت کا اعلان کیا ہے۔ اس کے تحت زراعت کے شعبے میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ دونوں ملکوں کے کسانوں کی آمدنی کیسے بڑھائی جائے اس پر توجہ دی جائے گی۔ کھیتی کے شعبے میں سائنس اور ٹکنالوجی کے استعمال میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ جب میں سب کا ساتھ سب کا وکاس کی بات کرتا ہوں تو صرف ہندوستان کے لئے ہی نہیں تمام پڑوسی ملکوں کے لئے بھی میری یہی خواہش ہوتی ہے۔اور جب نیپال میں خوشحال نیپال کی بات ہوتی ہے تو میرا دل بھی خوشی سے بھر جاتا ہے۔ سوا سو ہندوستانیوں کو بھی خوشی ہوتی ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ نیپال کو پانچ ٹی کے ترقی میں ہندوستان تعاون دے کر آگے لے جانا چاہتا ہے۔ روایت‘ تجارت‘ سیاحت‘ ٹکنالوجی اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں تعاون سے نیپال تیزی سے ترقی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں سودیش درشن کے نام سے جاری اسکیم میں رامائن سے تعلق رکھنے والے مقامات کو جوڑا جارہا ہے۔ اس میں نیپال کے مقامات کو بھی شامل کیا جائے گا۔جس سے عقیدت مندوں کو سستی اور دلچسپ سفر کی سہولت حاصل ہوگی۔ اسی ضمن میں رامائن سرکٹ کے بعد بودھ سرکٹ اور جین سرکٹ میں نیپال میں واقع بودھ اور جین مراکز کو جوڑنے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ اس سے سیاحت کو فروغ ملے گا اور نیپال میں خوشحالی آئے گی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہر سال اودھ سے وواہ پنچمی کے موقع پر ہزاروں لوگ جنک پور آتے ہیں۔جنک پور کے آس پاس کے علاقے کی ترقی کے لئے ایک سوکروڑ روپے کی مدد دی جائے گی۔ یو ں تو متھلا نے ملک کو بہت کچھ دیا ہے لیکن یہ تو ماتا جانکی کے قدموں میں بھینٹ ہے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: