سرورق / خبریں / ہندوستان کی تاریخ میں شاید پہلی بار فضلاء مدارس نے ایک ساتھ گیارہ کی تعداد میں کیرالہ ہائی کورٹ میں رجسٹریشن کرایا

ہندوستان کی تاریخ میں شاید پہلی بار فضلاء مدارس نے ایک ساتھ گیارہ کی تعداد میں کیرالہ ہائی کورٹ میں رجسٹریشن کرایا

کالی کٹ، (یو این آئی) ہندوستان کی تاریخ میں شاید پہلی بار فضلاء مدارس نے قانون کی تعلیم حاصل کرکے ایک ساتھ گیارہ کی تعداد میں کیرالہ ہائی کورٹ میں رجسٹریشن کرایا ہے۔ یہ بات جامعہ ثقافتہ السنیہ کے وائس چانسلر ڈاکٹر حسین ثقافی نے آج یہاں جاری ایک ریلیز دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان فضلاء نے اپنے تعلق سے اس طرح عام تصور کو بدل دیا ہے ۔ وہ لوگ جب کیرالہ ہائی کورٹ سے رجسٹریشن کرواکر باہر آئے تو وہ کالے کوٹ اور کالے گاؤن میں ملبوس وکالت کے میدان میں اپنا رول ادا کرنے کے لئے پوری طرح تیارنظر آرہے تھے۔یہ فضلا مرکز ثقافتہ السنیہ کے لاء کالج کے پہلے بیچ کے لا گریجویٹ تھے۔ ان کی اہمیت اس لئے ہے کیوں کہ وہ عالم فاضل کے ساتھ لاء گریجویٹ ہونے کے بعد وکالت کے پیشے سے منسلک ہوئے ہیں۔
مسٹر حسین جو اس موقع پر ہائی کورٹ میں موجود تھے بتایاکہ اس موقع کا جشن منانے والوں میں لاء انتظامیہ بھی شامل تھی۔
ڈاکٹر حسین ثقافی نے کہاکہ مثالی شہری بننے کے لئے ہندوستانی آئین اور شریعت کا علم ضروری ہے اور مذہبی لیڈر عوام کو متاثر کرسکتے ہیں اور مذہبی لیڈروں میں بیداری ہونی چاہئے تاکہ وہ ہر کام قانونی بنیاد پرکرسکیں۔
انہوں نے اس موقع پر اپنے ترکی کے دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں منعقد ورلڈ مسلم مائناریٹی کانفرنس میں شرکت کے موقع پر انہیں ہندستانی آئین کا علم بہت کام آیا تھااور یہ بات سمجھ آئی کہ مذہبی آزادی بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے جس کی ہندوستان کے آرٹیکل 25اور 28میں ضمانت دی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2014سے 2017کے ایل ایل بی بیچ میں 20 طلباء تھے ان میں گیارہ ہندستان کے ہیں اورباقی بیرون ممالک کے ہیں۔ان گیارہ لاء گریجویٹ طلبہ کا کیرالہ ہائی کورٹ میں رجسٹریشن ہوا ہے۔ ان طلبہ میں سے کئی طلبہ نے منصف مجسٹریٹ کے امتحان کی تیاری شروع کردی ہے جو اسی سال ہونے والا ہے۔
ان طلبہ میں سے کچھ نے بتایا کہ ان کی دلچپسی کریمنالوجی، ہیومن رائٹس اور کارپوریٹ لاء میں ہے جب کہ کچھ نے کہاکہ وہ وکالت کے ذریعہ غریبوں کو انصاف دلانا چاہتے ہیں اور معمولی فیس لیکر غریبوں کو انصاف دلانا چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ جامعہ ثقافتہ السنیہ کے تحت لاء کالج، انجینئرنگ کالج ، یونانی میڈیکل کالج اور دیگر کالجوں کے علاوہ سیکڑوں اسکول چل رہے ہیں۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: