سرورق / خبریں / ہندوستان۔ جنوبی کوریا اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جائیں گے –

ہندوستان۔ جنوبی کوریا اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جائیں گے –

نئی دہلی، ہندوستان اور جنوبی کوریا نے اپنی خصوصی اسٹریٹجک شراکت کو نئی اونچائی اور مجموعی اقتصادی شراکت کے معاہدے کو مزید بہتر کرتے ہوئے ’ارلی ہارویسٹ پیکج‘ کے طور پر ٹھوس پہل کی اور دنیا میں مستقبل کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہونے والے تکنیکی تبدیلیوں کے پیش نظر ’انوویشن کوآپریشن سینٹر‘ اور ’فیچر اسٹریٹجی گروپ‘ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی اور جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان کے درمیان یہاں حیدرآباد ہاؤس میں ہونے والی میٹنگ میں یہ فیصلے کئے گئے۔میٹنگ میں دونوں ممالک نے باہمی تعاون کے 11 معاہدوں پر دستخط کئے جن میں دونوں ممالک کے اقتصادی اور کاروباری تعلقات کو نئی اونچائی تک لے جانے کی کوشش کی گئی۔ اس موقع پر وزیر خارجہ سشما سوراج، صنعت و تجارت کے وزیر سریش پربھو، وزیر مواصلات منوج سنہا، خارجہ سکرٹری وجے گوکھلے وغیرہ موجود تھے۔
میٹنگ کے بعد مشترکہ پریس بیان میں مسٹر مودی نے کہا، ’’مجھے خوشی ہے کہ ہم نے اپنے مجموعی اقتصادی شراکت پر مبنی معاہدے کو بہتر کرنے کی سمت میں آج ارلی هارویسٹ پیکج کے طور پر ایک ٹھوس قدم اٹھایا ہے۔ اپنے تعلقات کے مستقبل اور دنیا میں ہونے والی تیز تکنیکی تبدیلیوں کے پیش نظر ہم نے ساتھ مل کر انوویشن کوآپریشن سینٹر کا قیام اور فیچر اسٹریٹجی گروپ کی تشکیل کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے‘‘۔
وزیراعظم نے کہا کہ جنوبی کوریا کی اقتصادی اور سماجی ترقی دنیا میں اپنے آپ میں ایک منفرد مثال ہے۔ وہاں کے عام لوگوں نے دکھایا ہے کہ اگر کوئی ملک یکساں ویژن اور مقصد کے تئیں پابند ہو جاتا ہے تو ناممکن لگنے والے ہدف بھی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ جنوبی کوریا کی یہ پیش رفت ہندوستان کے لئے بھی موجب تحریک ہے۔
انہوں نے اس بات پر خوشی ظاہر کی کہ جنوبی کوریا کی کمپنیوں نے ہندوستان میں نہ صرف بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے، بلکہ میک ان انڈیا مشن سے منسلک ہوکر ہندوستان میں روزگار کے مواقع بھی پیدا کئے ہیں۔ کوریائی کمپنیوں نے معیار کے تئیں پابند عہد سے کوریائی مصنوعات کے لئےہندوستان کے گھر گھر میں اپنی شناخت بنائی ہے۔
دونوں ممالک نے جن معاہدوں پر دستخط کئے ہیں ان معاشی شراکت معاہدے (سیپا) شامل ہے ۔ اس میں سمندری مصنوعات کی تجارت کو آسان بنانے کے لئے بات کرنے پر اتفاق ہواہے۔ تجارتی بحران کے حل کے معاہدے میں اینٹی ڈمپنگ، سبسڈی اور ایک دوسرے کے مصنوعات پر فیس اور حفاظتی اقدامات پر بات چیت اور تعاون کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔
فیچر اسٹریٹجی گروپ کے قیام کے معاہدے پر بھی دستخط ہوئے ہیں جس کے تحت جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد پر تجارتی منصوبوں خاص طور پر انٹرنیٹ آف تھنگس، مصنوعی انٹیلی جنسیا، بگ ڈیٹا،ا سمارٹ فیکٹری، تھری ڈی پرنٹنگ، برقی گاڑی، بوڑھوں اور معذور افراد کے لئے ایڈوانس میٹوريل اور کفایتی صحت خدمات کے بارے میں مل کر کام کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ ثقافتی تبادلے، سائنسی اور تکنیکی تحقیق، ریلوے کی ترقی میں تعاون، حیاتیاتی تکنکی اور حیاتیاتی اقتصادی ، اطلاعات و مواصلات ٹیکنالوجی، دو ہزار سال پہلے ایودھیا کی راجکماری سوريرتنا کے بارے میں ایک منصوبے پر بھی مل کر کام کرنے کے معاہدہ کیا گیا ۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: