سرورق / کھیل / گہلوت خاندان پر کبڈی فیڈریشن میں دھوکہ دہی کا الزام

گہلوت خاندان پر کبڈی فیڈریشن میں دھوکہ دہی کا الزام

نئی دہلی،  (یو این آئی) ہندوستانی امیچیور کبڈی فیڈریشن (اے کے ایف آئی) کے تاحیات صدر جناردھن سنگھ گہلوت پر اس ادارہ کو ان کے خاندان کے ذریعہ ایک پرائیوٹ پراپرٹی کے طو ر پر چلانے اور اور دھوکہ دہی کرنے کا الزام لگایا گیا ہے ۔ارجن انعام یافتہ اور بین الاقوامی کھلاڑی مہیپال سنگھ، ہریانہ کبڈی فیڈریشن کے صدر وجے پرکاش اور انکے قانونی مشیر بھرت نگر نے چہارشنبہ کو یہاں ایک پریس کانفرنس میں گہلوت پر یہ الزام عائد کئے ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے 20 برسوں سے زیادہ فیڈریشن ایک ہی خاندان کے ہاتھوں میں ہے اور مسلسل دھوکہ دہی کر کے وہ فیڈریشن کو کھوکھلا کررہا ہے ۔نگر نے الزام لگاتے ہوئے کہا گہلوت اور ان کا خاندان فیڈریشن کو ایک پرائیوٹ پراپرٹی کے طور پر چلا رہا ہے اور اپنے حقوق کا بے جا ذاتی فائدے کے طور پر استعمال کررہا ہے ۔ گہلوت 21 سال تک فیڈریشن کے صدر رہے اور پھر انہوں نے قانون میں ترمیم کرکے خود کو تاحیات صدر بنایا لیا۔ ان کی اہلیہ ڈاکٹر مردل بھدوریہ گہلوت پیشہ سے خواتین کی ڈاکٹر ہیں لیکن اس وقت وہ فیڈریشن کی صدر ہیں۔وجے پرکاش نے بھی الزام لگاتے ہوئے کہا اے کے ای آئی میں فرضی سرٹی فیکیٹ فروخت کئے جاتے ہیں اور کھلاڑیوں کو بین الاقوامی ٹورنمنٹوں میں کھیلنے کے لئے پیسے دیئے جاتے ہیں تاکہ جب ٹیم تمغہ جیت جائے تو انہیں سرکار سے بھاری بھرکم انعامی رقم مل جائے ۔ مہیپال نے اس معاملہ کو لے کر دہلی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کررکھی ہے جس پر 16تاریخ کو سماعت ہوگی ۔ انہوں نے کہاکہ اس سال دو بڑے ٹورنمنٹ ایشیائی کھیل اور بین الاقوامی کبڈی چیمپئن شپ ہونی ہے لیکن ابھی تک ان کے لئے کوئی سلیکشن کا عمل شروع نہیں کیا گیاہے ۔ ہم نے منصفانہ سلیکشن کے لئے وزیر کھیل کو خط بھی لکھا ہے ۔ سپریم کورٹ کے وکیل نگر نے کہا کبڈی فیڈریشن میں حکومت کے کھیل ضوابط کی سراسر خلاف ورزی کی جارہی ہے ۔ حکومت نے جب 70سال کی مدت طے کی تو گہلوت نے قانون میں ترمیم کرا کر خود کو تاحٰیات صد ر منتخب کرلیا ۔40سال سے زائدعمر کے کھلاڑیوں کو کھلایا جارہا ہے اور نوجوانوں کو موقع نہیں دیا جارہا ہے ۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

مرحوم اولمپئن منصور احمد کی یاد میں اسلام آباد میں اسٹیڈیم –

لاہور ،  ( یو این آئی )پاکستان کرکٹ بورڈ نے گزشتہ ہفتے انتقال کرنے والے …

جواب دیں

%d bloggers like this: