سرورق / خبریں / کے آر پورم۔۔۔ گاڑی سواروں کیلئے خطرناک چوراہا –

کے آر پورم۔۔۔ گاڑی سواروں کیلئے خطرناک چوراہا –

بنگلور،  بنگلور شہر کے خستہ حال راستوں اور ٹریفک کی بد انتظامی کی وجہ سے شہر میں سڑک حادثات بہت عام ہوتے ہیں، البتہ معاملہ جب اولڈ مدراس روڈ کے ایک مخصوص راستہ کا آتا ہے تو گاڑی سواروں کے لئے یہ بات ضروری ہوجاتی ہے کہ وہ کچھ زیادہ ہی احتیاط سے کام لیں تاکہ وہ بینیگانا ہلی انڈر برج اور بٹر ہلی کے درمیان اس خطرناک راستہ پر سے محفوظ نکل آئیں، جو کے آر پورم ٹریفک پولیس کی حدود میں آتا ہے۔اس سال جون کے مہینہ تک اس راستہ نے سڑک حادثات کی وجہ سے24؍ اموات کا مشاہدہ کر لیا ہے جو پورے شہر میں سب سے زیادہ ہیں۔ٹریفک پولیس محکمہ کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق جون2018ء تک اس راستہ پر23؍ خطرناک حادثات کا اندراج ہوا ہے جن میں24؍ افراد نے اپنی جانیں گنوائی ہیں، اسی مدت کے دوران اس راستہ پر 106؍ غیر مہلک حادثات بھی پیش آئے ہیں جن میں کل 101؍ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ایک اعلیٰ ٹریفک پولیس افسر نے بتایا کہ ’’ہم اس بات سے واقف ہیں کہ کے آر پورم کا راستہ کافی خطر ناک ہے، لیکن یہاں حادثات کی بنیادی وجہ بے پرواہانہ اور غفلت کے ساتھ گاڑیاں چلانے کا رجحان اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے، اس راستہ پر بھاری اور بڑی سواریوں کی آمد و رفت بھی حادثات میں اضافہ کا سبب ہوتی ہے‘‘۔
خطرناک چہل قدمی:
مذکورہ افسر نے مزید کہا کہ’’راہگیر اور دو پہیہ گاڑیوں کے سوار خاص طور پر اس علاقہ میں خطرات کا شکار ہوتے ہیں، یہ سڑک قومی شاہراہ نمبر چار کا ایک حصہ ہے جس کی وجہ سے یہاں بھاری سواریوں کی آمد و رفت اکثر رہتی ہے۔پیدل چلنے والے افراد کسی بھی مقام سے راستہ عبور کرنے لگتے ہیں اور اس طرح تیز رفتار گاڑیوں کی زد میں آجاتے ہیں۔ہم نے کے آر پورم دیوا سندرا جنکشن، آئی ٹی آئی گیٹ اور آر ایم زیڈ انفنیٹی دفتر جہاں روزانہ سینکڑوں افراد اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈال کر سڑک عبور کرتے ہیں ، ان تمام مقامات پر اسکائی واک تعمیر کرنے کی گذارش کے ساتھ بی بی ایم پی کو خط روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ‘‘۔کے آر پورم ٹریفک پولیس تھانے میں ایک افسر نے بتایا کہ یہاں زیادہ تر دو پہیہ گاڑی سوار ٹریفک سگنل کو توڑ کر آگے نکل جاتے ہیں اور جلدی میں جاتے ہوئے سڑک کے درمیان تعمیر کردہ رکاوٹ یا سامنے سے آنے والی دوسری گاڑیوں سے ٹکرا جاتے ہیں ۔افسر نے کہا کہ’’زیادہ تر حادثات رات دیر گئے یا پھر علی الصبح واقع ہوتے ہیں، جب سب کے سب تیز رفتاری کے ساتھ گاڑیاں چلارہے ہوتے ہیں ، ان گاڑیوں کی رفتار پر قابو پانے کے لئے جگہ جگہ اسپیڈ بریکر تعمیر کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔
خانگی بسوں کا مسئلہ:
اس راستہ پر سڑک حادثات کی تعداد میں اضافہ کے لئے ایک اور اہم وجہ خانگی بسوں کی طرف سے دو چار مزید مسافرین کو حاصل کرنے کے لئے تیز رفتار ڈرائیونگ بھی ہو سکتی ہے۔مذکورہ افسر نے بتایا کہ ’’خانگی بسیں سب سے بڑا مسئلہ ہوتی ہیں، اور ضرورت ہے کہ ان پر قابو حاصل کیا جا ئے، عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ وہ لوگ بے حد لاپرواہی کے ساتھ اور تیز رفتار گاڑی چلاتے ہیں اور اس طرح دوسری گاڑیوں اور راہگیروں کی زندگیوں کو خطرہ میں ڈالتے ہیں، یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ وہ بس اڈے پر پہنچنے کے لئے تیزی کے ساتھ بسیں چلاتے ہوئے جاتے ہیں اور سامنے کی دوسری گاڑیوں سے ٹکرا جاتے ہیں‘‘۔تھانہ کے عملہ کے ایک رکن نے بتایا کہ اس راستہ پر کوئی بھی ضابطوں کی پابندی نہیں کرتا، انہوں نے بتایا کہ ’’ہمیں مزید عملہ کے اراکین کی ضرورت ہے اور اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ مصروف اوقات میں اس سڑک کی سختی کے ساتھ نگرانی کی جائے ، اس طرح شاید کسی حد تک حادثات کو کم کیا جا سکتا ہے‘‘۔کے آر پورم کے بعد سب سے زیادہ خطرناک راستہ یلہنکا کا ہے جہاں اس سال جون کے مہینہ تک 23 حادثات میں 23 ہی افراد کی موت واقع ہوئی ہے، اس کے بعد چکجالا کا علاقہ ہے جہاں تیز رفتار گاڑیاں اکثر حادثات کا شکار ہوتی رہتی ہیں۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: