سرورق / خبریں / کیا یوپی میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھی کرناٹک میں انتخابی تشہیر کریں گے یوگی؟

کیا یوپی میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھی کرناٹک میں انتخابی تشہیر کریں گے یوگی؟

نئی دہلی۔ اترپردیش اور بہار کی 5 سیٹوں پر ضمنی انتخابات کے نتائج آ چکے ہیں۔ کرناٹک میں حکمراں پارٹی کانگریس اور اہم اپوزیشن پارٹی بی جے پی کو بھی اترپردیش ضمنی انتخابات کے نتائج کا بے صبری سے انتظار تھا۔ کچھ مہینے پہلے، ضمنی انتخابات کو لے کر کرناٹک نے کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی تھی۔ لیکن، جیسے جیسے ووٹنگ کی تاریخ نزدیک آتی گئی، کرناٹک حکومت کی دلچسپی بھی بڑھتی گئی۔ سی ایم سدارمیا کی اس دلچسپی کی وجہ تھے یوپی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ جو کرناٹک میں بی جے پی کے لئے انتخابی مہم کا اسٹار چہرہ ہیں۔
یو پی کی گورکھپور نشست یوگی آدتیہ ناتھ کی کرم بھومی رہی ہے۔ یہاں جیت حاصل کرنا بی جے پی کے ساتھ ساتھ یوگی کے وقار کا بھی سوال تھا۔ تاہم، بی ایس پی حمایت یافتہ ایس پی امیدوار پروین نشاد نے یہاں جیت حاصل کر لی۔ یہی نہیں، پھول پور لوک سبھا کی نشست بھی ایس پی کے کھاتہ میں گئی ہے۔ ایسے میں جب گورکھپور اور پھول پور سیٹ پر بی جے پی کی ہار ہوئی، تو کرناٹک کے وزیراعلی سدارمیا بڑی مسکراہٹ کے ساتھ بی ایس پی اور ایس پی کو فتح کی مبارکباد دینا نہیں بھولے۔
یوپی ضمنی انتخابات کے نتائج آنے کے بعد سدارمیا نے ٹویٹ کیا اور دونوں سیٹوں پر جیت درج کرنے والے بی ایس پی حمایت یافتہ ایس پی امیدواروں کو مبارکباد دی۔ سدارمیا نے یوگی کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے یوگی کو دوسری ریاستوں سے پہلے اپنی ریاست یوپی پر توجہ مرکوز کرنے کی اپیل بھی کر ڈالی۔
کرناٹک وزیراعلی نے ٹویٹ کیا، “یوپی کے وزیر اعلی اور نائب وزیر اعلی کے لئے لوک سبھا سیٹ ہارنا بی جے پی کے لئے توہین آمیز ہے۔ اس تاریخی جیت کے لئے سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کو مبارکباد۔ غیر بی جے پی پارٹیوں کا اتحاد ہی بی جے پی کی شکست میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ” سدارمیا نے لکھا، “شاید اب یوگی آدتیہ ناتھ کرناٹک میں ترقی کو لے کر لیکچر دینے میں وقت ضائع نہیں کریں گے۔
بتا دیں کہ کرناٹک میں بی جے پی کے لئے انتخابی مہم چلانے کے دوران یوگی نے کانگریس پر ترقی اور قانون و انتظام کی صورت حال کو لے کر حملہ کیا تھا۔ لیکن، گزشتہ چند مہینوں میں یوگی کو ریاست میں مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔
یو پی کے وزیراعلی یوگی کی تقریروں کو لے کر سدارمیا نے انہیں فرقہ پرست لیڈر بتایا تھا جس کا بنیادی مقصد کرناٹک کے ووٹروں کو ہندوؤں اور مسلمانوں میں تقسیم کرنا تھا۔ تاہم، سخت مخالفت کے باوجود بھی یوگی اب تک چار مرتبہ کرناٹک کا دورہ کر چکے ہیں۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: