سرورق / بین اقوامی / کیا امریکہ اور اسرائیل نے ایران کو سبق سکھانے کا فیصلہ کر لیا؟

کیا امریکہ اور اسرائیل نے ایران کو سبق سکھانے کا فیصلہ کر لیا؟

دبئی ، ایک ایسے وقت میں جب روس اور اسرائیل کے درمیان اسرائیل کی سرحد کے قریب شامی علاقوں میں ایرانی ملیشیا کو دور رکھنے کے ایک معاہدے کی باتیں ہو رہی ہیں اسرائیلی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ نے ایران پرحملے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں کے قریب سمجھی جانے والی ایک نیوز ویب سائیٹ ’ڈیپکا فائل‘ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ واشنگٹن اورتل ابیب ایران پر حملے کی تیاری کررہے ہیں۔ اسرائیلی ویب سائیٹ نے دونوں ملکوں کے ایران بارے میں پلان کو’ایران پروجیکٹ‘ کا نام دیا ہے اور دونوں ملکوں کے حکام نے 29 جون کو اس پر غور بھی کیا تھا۔ جس اجلاس میں یہ پلان پیش کیا گیا اس میں اسرائیل کے آرمی چیف جنرل گیڈی آئزن کوٹ اور امریکی فوج کے اعلیٰ حکام موجود تھے۔رپورٹ کے مطابق’ایران پروجیکٹ‘ کا نام اسرائیلی آرمی چیف کے ساتھ امریکہ کے دورے پرآئے میجر جنرل نیٹزن الون نے پیش کیا۔ اس میں امریکی چیف آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل جوزف ڈانفورڈ اور سینٹرل کمانڈ کے چیئرمین جنرل جوزف فوٹیل بھی موجود تھے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران پرحملے کی نگرانی کا ٹاسک 53 سالہ میجر جنرل الون ہی کو سپرد کیا گیا ہے حالانکہ وہ 34 سالہ ملٹری سروس کے بعد ریٹائرمنٹ لینے کی تیاری کررہے ہیں۔ اْنہیں یہ ٹارگٹ ان کا فوج کی خفیہ یونٹوں اور انٹیلی جنس کے شعبے میں ماہرانہ خدمات کی انجام دہی کی بنیاد پر دیا گیا ہے۔ تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ میجر جنرل نیٹزن الون کو اسرائیلی اور امریکی حکام نے اس بات پرقائل کیا کہ وہ ’ایران پروجیکٹ‘ کی نگرانی کے لئے ملازمت سے ریٹائرمنٹ میں تاخیر قبول کریں۔’ایران پروجیکٹ‘ میں مْمکنہ طور پر سرجیکل اسٹرائک کی کارروائی کی جائے گی جس میں ایران کی جوہری تنصیبات، بیسٹک میزائل لانچنگ پیڈ اور مشرق وسطیٰ میں ایرانی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جب دیکھا کہ امریکہ اور روس کے درمیان تعلقات بند گلی میں پھنس گئے اور ایران اور حزب اللہ شام کے محاذ پر سرگرم ہیں۔ جنوبی شام میں اسرائیلی سرحد کی طرف ان کی پیش قدمی جری ہے، ایسے میں وقت ضائع کئے بنا ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی جائے۔رپورٹ میں ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کی بیرون ملک تنظیم فیلق القدس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کے اس بیان کو بھی شامل کیا گیا ہے جس میں انہوں نے چار جولائی کو صدر حسن روحانی کی آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی کی حمایت کی تھی اور کہا تھا کہ صدر روحانی کے حکم پر پاسداران انقلاب آبنائے ہرمز بند کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ ویب سائیٹ کی رپورٹ میں نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف پالیسی میں نرمی یا لچک کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایران کی طرف سے معاندانہ سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ تہران نے آبنائے ہرمز کو بھی آبی ٹریفک کے لئے بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ایسے میں یہ ممکن نہیں کہ امریکی صدر تہران کے حوالے سے اپنے موقف میں کوئی نرمی دکھائیں گے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: