سرورق / کھیل / کھیل سے متعلق بل لانے میں سیاسی عزم کی کمی: بندرا

کھیل سے متعلق بل لانے میں سیاسی عزم کی کمی: بندرا

نئی دہلی، اولمپک میں ہندوستان کےواحد انفرادی سونے کا تمغہ حاصل کرنے والے نشانے باز ابھینو بندرا نے موجودہ نظام پر سخت حملہ کرتے ہوئے جمعہ کے روز کہا کہ آج ملک میں کھیلوں سے متعلق بل کی سخت ضرورت ہے لیکن اسے لانے کے لئے سیاسی عزم کا فقدان ہے۔
بندرا نے او پی پی آئی (صحت اور امید) کی سالانہ کانفرنس میں اپنے کریئر کے آغاز سے لیکر موجودہ کھیل نطام پر گہرائی سے نظر ڈالتے ہوئے کہا کہ ہم ہر اولمپک کے وقت اس بات کا ہی رونا روتے ہیں کہ ہمیں ایک دو تمغے کیوں ملے، یہ سلسلہ آئندہ چار برس تک برقرار رہتا ہے۔ چار برس بعد پھر سے ویسے ہی حالات ہوتے ہیں اور ہم اسی طرح شور مچاتے ہیں جبکہ ہمیں اپنی حکمت عملی میں تسلسل قائم رکھنے کی ضرورت ہے۔
نشانے بازی سے ریٹائرمنٹ لینے کے بعد ملک میں نوجوان نشانے بازوں کو تیار کرنے والے بندرا نے کہا کہ ملک میں کھیل نظام میں تبدیلی لانے کی سخت ضرورت ہے۔ کھیلوں سے متعلق بل، آج کے وقت کی اہم ضرورت ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ سیاسی عزم کے فقدان کے سبب بل نہیں لایا جارہا ہے۔ جب تک ہم ایسا نہیں کریں گے تو ہم چار برس بعد اولمپک کھیلوں کے وقت اس بات کے لئے شور مچائیں گے کہ ہمیں زیادہ تمغے کیوں حاصل نہیں ہوتے۔
سال 2008 کے بیجنگ اولمپک میں سونے کا تمغہ جیتنے والے بندرا نے کھیلوں کے منظر نامے میں سدھار لانے کے لئے، منصوبے میں تسلسل لانا ہوگا، گراس روٹ سطح پر کھیلوں کو فروغ دینا ہوگا اور باصلاحیت نوجوان میں سرمایہ کاری کرنی ہوگی تبھی ہم مستقبل کے لئے اچھے کھلاڑی سامنے لاسکیں گے۔ جب تک آپ نئی نسل تیار نہیں کریں گے تو مستقبل کے چمپئن کیسے تیار ہوں گے۔
نشانے بازی کے تین سنٹر چلانے والے بندرا نے کہا کہ ہمارا بہترین سینٹر موہالی ہے۔ فی الحال میرے تین سینٹر ہیں لیکن میں ملک میں مزید سینٹر کھولنا چاہتا ہوں۔ ہندوستان میں کھیلوں کو فروغ دینے اور با صلاحیت نوجوانوں کو تراشنے کی ضرورت ہے۔ اولمپک میں تمغے جیتنے اور اس سے دور رہ جانے میں محض ایک فیصد کا فاصلہ رہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج مغربی ممالک، اولمپک تمغے جیتنے کے لئے اسی ایک فیصد پر محنت کر رہے ہیں جس سے سونے اور 15 ویں مقام کا فیصلہ ہوتا ہے۔ ہم اس معاملے میں ابھی بہت پیچھے ہیں۔ میری بھی یہی کوشش ہے کہ اس ایک فیصد کے فاصلے کو کم کیا جائے تاکہ ہمارے کھلاڑی اولمپک میں زیادہ تمغے جیت سکیں۔
بیجنگ اولمپک کے اپنے سونے کے تمغے کے سفر کا ذکر کرتے ہوئے بندرا نے کہا کہ بیجنگ کے لئے میں نے کافی سخت تیاری کی ہے۔ ایک انسان کے طور پر جو کچھ ممکن ہوسکتا ہے وہ میں نے کیا ہے۔ اس لئے مجھے خود پر پورا یقین تھا۔
تیاری کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہاں میرا ایونٹ ہونا تھا وہ 10 ہزار شائقین کی صلاحیت والا ایک بڑا ہال تھا، ایسے ہال میں نشانے بازی کرنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ آپ کی یکسوئی پر اس کا اثر پڑتا ہے۔ اس کی تیاری کے لئے میں نے ایک شادی ہال کرائے پر لیا۔ اس میں میں نے ایک شوٹنگ رینج بنایا اور پھر بڑے ہال میں کھیلنے کی پریکٹس کی۔ اس کے علاوہ میں نے جرمنی میں کمانڈو ٹریننگ بھی کی۔
میونخ سے بیجنگ جانے کے اپنے سفر کے بارے میں بندر انے مزید کہا کہ ہوٹل سے نکلنے سے پہلے میں نے وہاں کے منی بازار سے ایک بوتل چرائی۔ فائنل سے عین قبل میں کافی نروس ہوگیا تھا اور میں نے وہ پوری بوتل ہی پی ڈالی اور اگلے دن سونے کا تمغہ اپنے نام کرلیا۔
تاریخ رقم کرنے کے بعد اپنے اس سفر کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جب آپ اپنا خواب پورا کرلیتے ہیں تب آپ کے سامنے پھر کوئی ہدف نہیں رہ جاتا۔ کھلاڑی کے سامنے اولمپک تمغے کے بعد ایک صفر آجاتا ہے۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔
اولمپک تمغہ فاتح نے کہا کہ اس وقت مجھے محسوس ہوا کہ کریئر کے سرفہرست مقام پر مجھے ریٹائرمنٹ لے لینی چاہیے لیکن اس کے بعد میں نے میڈیٹیشن کورس کیا جہاں مجھے دل سے محسوس ہوا کہ نشانے بازی جاری رکھنی ہے۔ پھر میں نے 34 برس کی عمر میں سال 2016 میں ریو اولمپک کے بعد ریٹائرمنٹ لیا۔ اس وقت مجھے محسوس ہوا کہ کھیل سے ہٹنے کا یہ صحیح وقت ہے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

وزیر کھیل راٹھور سے ملے لکشے سین –

نئی دہلی، جونیئر ایشیائی بیڈمنٹن چمپئن شپ میں 53 سال کے طویل وقفے کے بعد …

جواب دیں

%d bloggers like this: