سرورق / خبریں / کٹھوعہ آبروریز وقتل معاملہ: لال سنگھ کا سخت رخ، کہا آصفہ کیس کی سی بی آئی انکوائری ہونی ہی چاہیے –

کٹھوعہ آبروریز وقتل معاملہ: لال سنگھ کا سخت رخ، کہا آصفہ کیس کی سی بی آئی انکوائری ہونی ہی چاہیے –

جموں ، جموں وکشمیر کی کابینہ سے مستعفی ہونے والے بی جے پی لیڈر چودھری لال سنگھ نے سخت رخ اپناتے ہوئے کہا ہے کہ آصفہ عصمت دری و قتل کیس کی سی بی آئی انکوائری ہونی چاہیے۔ انہوں نے ہفتہ کو یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا ’کمسن آصفہ کو انصاف ملنا چاہیے۔ خاطیوں کو جیل بھیجا جائے۔ جو سی بی آئی انکوائری انہوں نے (ہندو ایکتا منچ نے) مانگی ہے وہ ہونی چاہیے‘۔

واضح رہے کہ ریاستی پی ڈی پی بی جے پی مخلوط حکومت میں شامل دو بھاجپا وزراء چندر پرکاش گنگا اور چودھری لال سنگھ نے گذشتہ شام اپنے استعفیٰ نامے پارٹی کے ریاستی صدر ست شرما کو سونپ دیے۔ بی جے پی کے اِن دو وزراء نے یکم مارچ کو ضلع کٹھوعہ میں آصفہ عصمت دری و قتل کیس کے ملزمان کے حق میں ہندو ایکتا منچ کے بینر تلے منعقد ہونے والے ایک جلسہ میں شرکت کرکے سول و پولیس انتظامیہ کے عہدیداروں کو گرفتاریاں عمل میں نہ لانے کی ہدایات دی تھیں۔
کٹھوعہ میں جلسہ سے خطاب کے دوران ان وزراء نے ایک مخصوص کیمونٹی کے لوگوں کو یقین دلایا تھا کہ کیس کو سی بی آئی کے حوالے کیا جائے گا۔ لال سنگھ نے سی بی آئی انکوائری کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ’لوگوں کا کہنا ہے کہ دو تین بار انکوائری ٹیمیں تبدیل کی گئیں۔ یہ تحقیقات متنازعہ بن گئی ہے۔ اس تنازعے کو ختم کرنے کے لئے اگر سی بی آئی انکوائری کی جاتی ہے تو کیا حرج ہے‘۔
انہوں نے کہا ’تین چار مہینوں میں تصویر صاف ہوگی‘۔ یہ پوچھے جانے پر کیا اسے پارٹی کی جانب سے بلی کا بکرا بنایا گیا ہے تو لال سنگھ کا جواب تھا ’میں بکرا نہ کل تھا اور نہ کبھی بنوں گا۔ میں انسان ہوں‘۔ انہوں نے کہا ’میں خاطی نہیں ہوں۔ اگر ملک میں غلط پیغام جاتا ہے تو بہتر ہے استعفیٰ دیا جائے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آصفہ کیس کی انکوائری صحیح ہونی چاہیے۔ لوگوں نے اگر سی بی آئی انکوائری کی مانگ سامنے رکھی ہے تو میرا ماننا ہے کہ سی بی آئی غلط انکوائری نہیں کرتی ہے‘۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: