سرورق / قومی / کوہ نور پر دوبارہ دعوی کرنے کے لیے ہدایت نہیں دے سکتے :سپریم کورٹ

کوہ نور پر دوبارہ دعوی کرنے کے لیے ہدایت نہیں دے سکتے :سپریم کورٹ

نئی دہلی، 21اپریل(آئی این ایس انڈیا )سپریم کورٹ نے آج کہا کہ وہ برطانیہ سے کوہ نور کے لیے دوبارہ دعوی کرنے کے لیے یا پھر اس کی نیلامی کو روکنے کے لیے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا ہے۔چیف جسٹس جگدیش سنگھ کھےہر، جسٹس دھننجے وائی چند رچوڈ اور جسٹس سنجے کشن کول کی تین رکنی بنچ نے کوہ نور کو واپس لانے کے لیے دائر درخواست کا تصفیہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ غیر ملکی حکومت سے ایک جائیداد کو نیلام نہیں کرنے کے لیے نہیں کہہ سکتی ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ وہ کسی ایسی جائیداد کے بارے میں ہدایت جاری نہیں کر سکتی جو دوسرے ملک میں ہے۔بنچ نے کہاکہ ہم حیران ہیں کہ ایسی درخواستیں ان جائیدادوں کے لیے دائر کی گئی ہیں جو امریکہ اور برطانیہ میں ہیں، کس طرح کی یہ درخواست ہے۔عدالت عظمی نے مرکز کی طرف سے دائر حلف نامے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہند اس مسئلے پر برطانوی حکومت کے ساتھ مسلسل امکانات تلاش کر رہی ہے۔غیر سرکاری تنظیم آل انڈیا ہیومن رائٹس اینڈ سوشل جسٹس فرنٹ اور ہےریٹیج بنگال کی درخواستوں کو گزشتہ سال عدالت نے ایک ساتھ جوڑ دیا تھا۔ان درخواستوں میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان کو 1947میں آزادی ملی،لیکن مرکز میں بننے والی حکومتوں نے برطانیہ سے کوہ نور کو ہندوستان لانے کے لیے بہت کم کوشش کی ہیں ۔اس سے پہلے مرکز نے عدالت میں کہا تھا کہ برطانوی حکمرانوں نے کوہ نور ہیرے نہ تو جبرا لے گئے اور نہ ہی اسے چرایا تھا ،بلکہ اسے پنجاب کے حکمرانوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو دیا تھا۔عدالت عظمی نے مرکز سے جاننا چاہا تھا کہ کیا وہ دنیا کے سب سے زیادہ قیمتی کوہ نور ہیرے پر اپنا دعوی کرنا پسند کرتا ہے۔مرکز نے اس وقت کہا تھا کہ کوہ نور کو واپس لانے کا مطالبہ بار بار پارلیمنٹ میں ہوتا رہا ہے۔

Leave a comment

About The Daily Pasban

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: