سرورق / کھیل / کوہلی نے کیا دھونی کا دفاع –

کوہلی نے کیا دھونی کا دفاع –

لندن، سابق ہندوستانی کپتان مہندر سنگھ دھونی کی آج یہ حالت ہے کہ وہ ذرا بھی سست کھیلتے ہیں تو فوری طور پر ناقدین کے نشانے پر آ جاتے ہیں۔ ہندستان کی انگلینڈ کے خلاف ہفتہ کو دوسرے ون ڈے میں شکست میں کچھ ایسا ہی ہوا۔
لارڈز میں ہندستان کی 86 رنز کی شکست میں تقریبا تمام بلے باز قصوروار تھے لیکن شائقین کا غصہ نکلا دھونی پر۔ایسے حالات میں ہندوستانی کپتان وراٹ کوہلی نے اپنے پیشرو کپتان کا جم کر دفاع کیا ہے۔
دھونی نے میچ میں تھرڈمین پر سنگل لے کر اپنے 10 ہزار رن پورے کئے لیکن اسٹیڈیم میں کوئی تالی نہیں بجی، یہاں تک کہ ہندستانی ڈریسنگ روم بھی خاموش رہا۔
323 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے وقت آخری 10 اوور میں شائقین نے دھونی کی هوٹنگ تک کر ڈالی اور جب وہ ایک بڑا شاٹ کھیلنے کی کوشش میں باؤنڈري پر آؤٹ ہوئے تو ناظرین نے تالیاں ہی بجا ڈالیں۔
وراٹ نے شائقین کے اس برتاؤ کی مذمت کرتے ہوئے دھونی کا دفاع کیا اور ایسے رویے کو بدقسمتی بتایا۔انگلینڈ نے 322 رنز کا بڑا اسکور کھڑا کر دیا تھا، جس کے جواب میں ہندستانی ٹیم پورے 50 اوور میں صرف 236 رنز ہی بنا پائی۔باقی بلے بازوں کی طرح دھونی کو بھی شاٹ مارنے میں دقت ہو رہی تھی اور دھونی کی ہر ڈاٹ بال پر پرستار طرح طرح کی آوازیں نکال رہے تھے ۔
گزشتہ میچ کے سنچری میکر روہت شرما نے 26 گیندوں پر دو چوکوں کی مدد سے 15 رن، شکھر دھون نے 30 گیندوں میں چھ چھکوں کے سہارے 36، کپتان وراٹ کوہلی 56 گیندوں میں دو چوکوں کی مدد سے 45، سریش رینا نے 63 گیندوں میں ایک چوکے کے سہارے 46، مہندر سنگھ دھونی 59 گیندوں میں دو چوکوں کی مدد سے 37 اور ہردک پانڈیا 22 گیندوں میں 21 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
شکھر کو چھوڑ کر باقی تمام بلے بازوں کو باؤنڈري لگانے میں کافی پریشانی ہو رہی تھی لیکن شائقین نے سارا غصہ دھونی پر نکال دیا۔
وراٹ نے کہاکہ ایسا کئی بار دیکھا گیا ہے، جب بھی وہ اچھا نہیں کھیل پاتے، لوگ ایسا کرتے ہیں۔یہ بدقسمتی کی بات ہے۔ہم سب انہیں سب سے بہترین فنشر کہتے ہیں، لیکن جب وہ اچھا نہیں کھیل پاتے تو لوگ انہیں نشانے پر لے لیتے ہیں۔کرکٹ میں خراب دن آتے ہیں، یہ دن صرف ان کے لئے نہیں پوری ٹیم کے لئے برا رہا ۔ لوگ بہت جلد نتیجے پر پہنچنے کی کوشش میں رہتے ہیں جو ٹھیک نہیں ہے۔مجھے دھونی اور ٹیم کے باقی کھلاڑیوں کی قابلیت پر پورا بھروسہ ہے۔
کپتان نے ساتھ ہی کہاکہ دھونی کا پلان یہی تھا کہ ہندستان کو بڑی شکست نہیں ملے اور وہ اننگز کو جتنا آگے لے جا سکتے ہیں لے جائیں۔ہم 160 یا 170 رنز جیسے فرق سے ہارنا نہیں چاہتے تھے تو وہ اننگز کو آخری اوورز تک لے جانے کی کوشش کر رہے تھے۔
وراٹ نے کہاکہ ٹیم دھونی کی ہو رہی تنقید سے متاثر نہیں ہے۔جب وہ اچھا کھیلتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں کہ وہ بہترین فنشر ہیں اور جب چیزیں ٹھیک نہیں ہوتی ہیں تو لوگ ان کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔دھونی ہی نہیں بلکہ ہم سب ایک بلے بازی یونٹ کے طور پر ناکام رہے۔
لیگ اسپنر يجویندر چہل نے بھی کہاکہ میں دھونی کی پوزیشن سمجھتا ہوں۔انہوں نے سیریز میں زیادہ بیٹنگ نہیں کی تھی، وہ لو آرڈر بلے بازوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، اگر وہ اپنے شاٹ کے لئے جاتے تو شاید آؤٹ ہو سکتے تھے اور ہندستان 50 اوور بھی پورے نہیں کر پاتا۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

وزیر کھیل راٹھور سے ملے لکشے سین –

نئی دہلی، جونیئر ایشیائی بیڈمنٹن چمپئن شپ میں 53 سال کے طویل وقفے کے بعد …

جواب دیں

%d bloggers like this: