سرورق / خبریں / کولار کے ریشم کاشتکاروں کی مدد کیلئے حکومت سامنے آئے کم سے کم امدادی قیمت 350؍فی کلو گرام مقرر کرنے اور سلک مینجمنٹ بورڈ کے احیا کا مطالبہ

کولار کے ریشم کاشتکاروں کی مدد کیلئے حکومت سامنے آئے کم سے کم امدادی قیمت 350؍فی کلو گرام مقرر کرنے اور سلک مینجمنٹ بورڈ کے احیا کا مطالبہ

کولار۔ ریشم کی قیمتوں میں حددرجہ کمی کے سبب کولار ضلع کے پریشان حال کاشتکاروں کی مددکے لئے کرناٹک سلک مینجمنٹ بورڈ (کے ایس ایم بی) کے احیا کامطالبہ کیا جارہا ہے۔ حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا جارہا ہے کہ فی کلوگرام ریشم کی خریداری سے سرکاری امداد رقم کم سے کم 350؍ روپئے مقرر کی جائے۔ ریشم کے کاشتکاروں کے مسائل حل کرنے کے لئے بسوراج کمیٹی کی رپورٹ لاگو کی جائے تاکہ ریشم کے لاکھوں کاشتکارکو فائدہ ہو۔ اس کے علاوہ مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ چین سے ریشم کی درآمد ات پر 43؍ فیصدکے حساب سے ٹیکس لگائے۔ کولار کے ریشم بازار کے روبرواحتجاج کرتے ہوئے کسانوں نے حکومت کے سامنے اپنے مطالبات پیش کئے۔رعیت سنگھا کے ریاستی نائب صدر کے نارائن گوڈا نے کہا کہ کولار ضلع میں 50؍ ہزارہیکٹر علاقے میں 50؍ ہزار سے زیادہ ریشم کے کاشتکار ہیں جو سالانہ 82 ؍ میٹرک ٹن ریشم کی پیداوارکے ذریعہ 5068؍ کروڑروپئے کی آمدنی کے لئے ذمہ دار ہیں۔ ریشم کی کاشت میں کولار ضلع کا نمایاں حصہ ہے۔ ریشم کی قیمتیں اچانک کم ہونے کی وجہ سے ضلع کے بے شمار کاشتکار کنگال ہوگئے ہیں ۔ حالات سے پریشان ریشم کے کاشتکار دوسرے کاروبار کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہوگئے ۔ انہو ں نے کہا کہ نہ صرف 60؍ فیصد کاشتکار ریشم پر منحصر ہیں بلکہ ضلع کے ہزاروں لوگوں کی روزی روٹی کا انحصار بھی ریشم کے کاروبار سے جڑا ہوا ہے۔ریشم کی قیمتوں میں کمی اور کاروبار کم ہونے کی وجہ اِن لوگوں کی سڑک پر آنے جیسی حالت ہوگئی حکومت کو چاہئے کہ وہ مدد کے لئے سامنے آئے۔ انہوں نے بتایا کہ حالانکہ فی کلوگرام ریشم 300؍ سے 600؍ روپئے کے درمیان تھی لیکن اس میں 100؍ سے 250؍ روپئے تک کی کمی ہوئی ۔ اس کے علاوہ کھاد کی بڑھتی قیمت ، مزدوروں کے فقدان ، پانی کی کم ہوتی سطح کی وجہ سے ایک کلوگرام ریشم کی پیداوار کے لئے 230؍ روپئے کی لاگت ہوتی ہے۔گرتی ہوئی قیمت کی وجہ سے کاشتکار ریشم کی پیداوار کا خرچ بھی پورا نہیں کرپارہا ہے ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کرناٹک سلک مینجمنٹ بورڈ کے ذریعہ فی کلوگرام 350؍ روپئے کے حساب سے ریشم کی خریدی کو یقینی بنایا جائے۔ اس موقع پر بات کرتے ہوئے سنگھا کے ضلعی صدر اے نلنی گوڈا نے کہا کہ ریشم کی کاشت کو اپناذریعہ معاش بناتے ہوئے لوگوں کے لئے حکومت کی طرف سے کوئی امداد نہیں دی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ ریشم کے بازار کا سارا انتظام نجی ہاتھوں میں ہے۔ اور کاشتکار ان لوگوں کی منھ مانگی قیمت پرریشم فروخت کرنے کیلئے مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکار کو چاہئے کہ وہ کم سے کم امدادی رقم پر کاشتکاروں سے ریشم خریدے۔اس احتجاج میں رعیت سنگھا کے ضلعی صدر مرگل سرینواس ، ضلع کنوینر کے سرینواس گوڈا ، ہوسہلی وینکٹیش ،میسے وینکٹیشیا،مارونڈہلی شواریڈی ، رنجیت ، ارہلی منی سوامی، منی کرشنپا، آنند،کرشنپا ،ساگر، پرشوتم ، امرنارائن سوامی وغیرہ نے حصہ لیا۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

اتحاد کے لئے ہدف اور نظریہ میں یکسانیت ہونی چاہئے: کانگریس

جبل پور‘ کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ اور انتخابی مہم کمیٹی کے سربراہ جیوترادتیہ سندھیا نے …

جواب دیں

%d bloggers like this: