سرورق / بین اقوامی / کم جونگ اون اور مون جے ان نے ہاتھوں میں ہاتھ لیکر بات کی –

کم جونگ اون اور مون جے ان نے ہاتھوں میں ہاتھ لیکر بات کی –

سیول ، شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے اعلی رہنماؤں نے ایک دہائی کے بعد آج پہلی بار ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے بات چیت کی ہے۔ گزشتہ سال تک شمالی کوریائی صدر کم جونگ اون اپنی میزائل ٹکنالوجی کے دم پر جنوبی کوریا اور پڑوسی ممالک کو خوفزدہ کر رہے تھے لیکن آج ان کا لہجہ اور انداز دیکھ کر ہر کوئی حیران رہ گیاکہ ان میں اس طرح کی تبدیلی کیسےآگئی۔ یہ ڈرامائی ملاقات کافی اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ آنے والے ہفتوں میں، کم جونگ اون کی ملاقات امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی ہے ، جو شمالی کوریا کے جوہری ہتھیار پر تبادلہ خیال کریں گے ۔
دونوں کوریائی ممالک کے رہنماؤں کی ملاقات پان مونجوم سرحدی گاؤں میں ہوئی ہے ، جہاں کوئی بھی آبادی نہیں ہے۔ اس میٹنگ سے پہلے کم جونگ نے کہا کہ ’’ہم ایسے ابتدائی لائن پر ہیں جہاں امن، خوشحالی اور بین الاقوامی تعلقات کی نئی تاریخ لکھی جائے گی‘‘۔
جنوبی کوریائی حکام نے کہا کہ اس انتہائی نجی میٹنگ کے دوران، کم جونگ نے اپنے ہم منصب مون جے ان کے سے کہا وہ دہائیوں سے جاری دشمنی کو ختم کرنے کے لئے میٹنگ میں آئے ہیں اور ہنستے ہوئے انہوں نے کہا کہ میزائل کا ڈر دکھاکر بے چینی بڑھانے کے سلسلے میں اظہار افسوس کرنے آئے ہیں۔
حکام نے کہا کہ شمالی کوریائی رہنما نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ سیول میں صدر کے بلیو مون ہاؤس کا دورہ کرنے کے خواہاں ہیں اور مستقبل میں اسی طرح کی ملاقات چاہتے ہیں۔ دونوں رہنماوں کے درمیان بات چیت ڈیڑھ گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہی اور اس دوران رازداری کا مکمل خیال رکھا گیا ۔
کم جونگ کا آج دن میں ایک پودہ لگانے کا پروگرام بھی ہے اور اس کے بعد وہ شام میں مسٹر مون کے ساتھ عشائیہ میں شریک ہوں گے اور رات کو ایک فلم بھی دیکھیں گے۔لیکن کچھ ماہرین اس بات کو لیکر شک و شبہ ہیں کہ کیا کم جونگ واقعی اپنے دہائیوں پرانے ہتھیار پروگرام کوچھوڑ سکتے ہیں۔
اس سے قبل، دو ممالک کے اعلی رہنماؤں نے سال 2000 اور 2007 میں ملاقات کی تھی لیکن اس ملاقات میں شمالی کوریا کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام یا دو طرفہ تعلقات بڑھانے کی سمت میں کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی لیکن کم جونگ نے آج، کہا کہ ’’اس سے پہلے جو بات چیت ہوئی اس کے نتائج نہیں آسکے لیکن آج ہم موجودہ مسائل پر بات کریں گے اور اس سے بہتر نتائج کی توقع کی جانی چاہئے‘‘۔
کم جونگ نے گفتگو شروع کرنے سے پہلے جنوبی کوریا کے امن ہاؤس میں جاکر وزیٹرس بک لکھا’’آج ایک نئی تاریخ کا آغاز ہے اور تاریخ کے اس نقطہ آغاز سے امن کا ایک نیا دور پیدا ہو گا‘‘۔ ان کی حفاظت کے سلسلے میں اتنا احتیاط برتا گیا تھا کہ شمالی کوریائی سیکورٹی ماہرین نے ان کے داخل ہونے سے پیلے وہاں کسی بھی طرح کے دھماکہ خیز مواد اور دیگر انٹیلی جنس آلات کی جانچ کی اور کرسیوں اور گیسٹ بک پر خاص طرح کےجراثیم کش کیمیکل کا چھڑکاؤ کیا۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: