سرورق / خبریں / کمپے گوڈا بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طرف جانے والاایک متبادل اور پرفضاء راستہ-

کمپے گوڈا بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طرف جانے والاایک متبادل اور پرفضاء راستہ-

بنگلور، 21؍ جنوری(فتحان نیوز)ٹریفک کے اژدھام سے پریشان بنگلور کے مسافرین، اپنی منزل کی طرف جانے والے کسی بھی نئے راستہ کو اگرچہ کہ وہ نامکمل ہی کیوں نہ ہو ، راحت کا سامان فراہم کرنے والاتصور کرتے ہیں۔ کمپے گوڈا ہوائی اڈہ کی طرف پچھلے سال کھولا گیانیا راستہ اس کی ایک مثال ہے۔تقریباًنو سال کے انتظار کے بعد پچھلے سال ایرو انڈیا شو سے قبل جب حکام نے اس راستہ کو مسافرین کے لئے کھولنے کا اعلان کیاتھا تو لوگوں نے راحت کی سانس لی اور بہت جلد اس ٹول فری راستہ پر سواریوں کی آمد و رفت میں اضافہ ہوتا چلاگیا حالانکہ راستہ مکمل طور پر ابھی تیار نہیں ہواہے، اس کا ایک بڑا حصہ ابھی کچا ہے اور پتھریلی زمین سواریوں کو ہچکولے دیتی رہتی ہے اور رات کے وقت یہاں روشنی کا بھی صحیح انتظام نہیں کیا گیا ہے، اس سب کے باوجود ٹریفک اژدھام سے بچاؤ اور ٹول بھرنے کے سردرد سے حفاظت اور شہر کے بڑے حصہ تک آسان آمد و رفت نے شہریوں بالخصوص ٹیاکسی ڈرائیوروں اور روزانہ ائیر پورٹ کی طرف جانے والے افراد کو اس راستہ کے استعمال کی طرف متوجہ کردیا ہے اور لوگ ٹریفک اژدھام والے معمول کے راستہ کے مقابلہ اب اسی کو ترجیح دینے لگے ہیں۔شہر کے انجنئیر ایچ اجیت کا کہنا ہے کہ بہت دنوں سے انہیں یہ خیال آتا رہتا تھا کہ بنگلور میں ہوائی اڈہ کے لئے ایک ہی راستہ کیوں بنایا گیا ہے حالانکہ اکثر شہروں میں انہوں نے دیکھا ہے کہ ہوائی اڈوں کی طرف جانے کے لئے یا ان سے باہر نکلنے کے لئے کئی کئی راستے موجود ہوتے ہیں۔اجیت نے کہا کہ’’ ایرو انڈیا شو کے موقع پر نیا راستہ کھولا گیا تو میں ہینور کے قریب آوٹر رنگ کی طرف ایک بھی سگنل کی رکاوٹ کے بغیر اور بہت ہی آسانی کے ساتھ نکلنے میں کامیاب ہوا تھا‘‘۔ٹی ناگاراجو، ایک ٹیاکسی ڈرائیور ہر دن شہر سے اےئر پورٹ کی طرف دو یا تین مرتبہ مسافرین کو لے کر جاتا ہے اور وہ نئے راستہ کے لئے حکام کا شکر گذار ہے، اس کا کہنا ہے کہ’’اس نئے راستہ کی وجہ سے بہت فائدہ ہوا ہے، حضوصاً کے آر پورم اور وھائٹ فیلڈ کی طرف جانے والے مسافرین کو لے جانے میں اس سے بڑی سہولت ہوتی ہے۔اگر اس راستہ کو ایک ہفتہ کے لئے بھی بند کر دیا جائے گا تو ہمیں بہت پریشانی ہوگی کیونکہ ساری ٹریفک دوبارہ ہیبال کے راستہ پر چلی جائے گی جس کی وجہ سے ہمیں ٹریفک جام میں گھنٹوں گزارنے پڑیں گے‘‘۔خوش قسمتی سے اجیت اور ناگاراجو کی طرح ائیر پورٹ کا نیا راستہ استعمال کرنے والے مسافرین کو بنگلورشہر کی ٹریفک پولیس کی طرف سے بھی سہارا مل گیا ہے۔ایرو انڈیا شو سے قبل پولیس کی جانب سے تیار کردہ چارٹر کے مطابق سال 2015 کے بعد بنگلور ائیر پورٹ کی طرف جانے والے مسافرین کی تعداد میں زبردست ضافہ ہوا ہے اور یہ تعداد اس وقت 3.67 ملین ( یعنی تیس لاکھ 67 ہزار )تک پہنچ چکی ہے، اسی کی بنیاد پر پولیس نے ہیبال کے راستہ پر ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کے مقصد سے ،ایرو انڈیا شو کے لئے ایک دوسرے متبادل راستہ کو کھولے جانے کی وکالت کی تھی۔ٹریفک پولیس کے اڈیشنل کمشنر آر ہیتیندر کا کہنا ہے کہ ’’شہر کے جنوب مشرقی علاقہ کے عوام کے لئے یہ راستہ بہت مفید ہے اور بلاری روڈ پر ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے میں بھی یہ مددگار ثابت ہو رہا ہے‘‘۔’’سٹیزنس فار بنگلورو‘‘ نامی عوامی تنظیم کے رکن سرینواس الاویلی کا کہنا ہے کہ ’’جہاں راستوں کی مرمت اور تیاری کا معاملہ ہوتا ہے حکومت کو چاہئے کہ ہنگامی صورت حال کا احساس کرے۔ائیر پورٹ بننے کے دس سال بعد بھی اس کی طرف جانے کے لئے صرف ایک ہی راستہ موجود ہے اور یہ کوئی فخر کی بات نہیں ہے‘‘۔ائیر پورٹ کے لئے آسان راستہ کی فراہمی اور بلاری روڈ پر ٹریفک کے اژدھام کو کم کرنے کے ساتھ ہی بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس نئے راستہ کی وجہ سے اسٹیل فلائی اوورس کی ضرورت کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔سی ایف بی کے ایک دوسرے رضا کار وجے کنداجی نے ایک قدم آگے بڑھ کر یہ تجویز پیش کی ہے کہ ٹریفک کے اژدھام کو کم کرنے کے لئے ریلوے کی سہولیات کو کیوں نہ استعمال کیا جائے؟ ان کا کہنا ہے کہ’’کمپے گوڈا ائیر پورٹ کی طرف جانے والی ٹریفک کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے، ایک متبادل راستہ کی یقیناً ضرورت ہے لیکن اس کے لئے روڈ ہی کا ہونا ضروری نہیں، چونکہ ائیر پورٹ کے قریب ہی ایک ریلوے ٹریک بھی موجود ہے یہ بات قابل فہم ہے کہ اس راستہ پر ایک ریل گاڑی ہی شروع کی جائے‘‘۔شہر کے ایک ٹریفک ماہر ایم این شری ہری کا کہنا ہے کہ’’پی ڈبلیو ڈی کو چاہئے تھا کہ وہ ائیر پورٹ کے لئے متبادل راستہ کو بہت پہلے ہی تیار کر لیتی، حکومت کو بھی چاہئے تھا کہ وہ اسٹیل برڈج کے بجائے اسی راستہ کو ترجیح دیتی‘‘۔ان لوگوں کے لئے جو دھول مٹی سے کوئی پریشانی محسوس نہیں کرتے، کمپے گوڈا ائیر پورٹ کا یہ کچا راستہ بنگلور شہر کے دیہی چہرے کو وا کر تا ہے اور ہیبال روڈ پر دیکھے جانے والے اسٹیل اور کانکریٹ کے جنگل کے مقابلہ میں ایک خوش گوار احساس کو پیدا کرتا ہے۔سب سے پہلے یہ ایک طویل کچے راستہ کی طرف راہنمائی کرتا ہے،جو کہ بعض نوجوانوں میں جوش بھی پیدا کر سکتا ہے لیکن احتیاط ضروری ہے۔اسی کچے راستہ پر ہیجالا کی جانب دائیں طرف مڑیں تو مختلف اقسام کے اجناس کی فصلوں سے پر ہرے ہرے زمینی حصوں پرمشتمل کھیتیوں کا خوش گوار نظارہ ملے گا۔تھوڑا آگے جائیں تو یہ کھیتیاں ریلوے ٹریک سے متصل چلتی ہوئی نظر آتی ہیں، یہ ریلوے ٹریک یلہنکا ۔ دیونہلی ۔ چکبالاپور والی لین ہے۔ایک اہم اور قابل دید مقام دوڈا جالا کا ریلوے اسٹیشن ہے جو کہ ایک قدیم عمارت ہے اور ایک ریلوے اسٹیشن کے لئے ایک منفرد حیثیت کی حامل ہے۔اس سے تھوڑا اور آگے جائیں تو شہر کی معروف اکییاما مندر کی پہاڑی ہے جہاں کئی ہندو معتقدین زیارت کے لئے جاتے ہیں۔شاہراہ پر واپس آئیں تو چکجالاکے قدیم قلعہ کی باقیات نظر آتی ہیں۔کیا یہ سب کمپے گوڈا ائیر پورٹ کے اس نئے راستہ کی بحالی کے سلسلہ جدو جہد کرنے کے لئے کافی وجوہات نہیں ہے-

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: