سرورق / خبریں / کمار سوامی حکومت پر خطرات کا سایہ ناراض کانگریس اراکین اسمبلی نے دکھائے باغیانہ تیور –

کمار سوامی حکومت پر خطرات کا سایہ ناراض کانگریس اراکین اسمبلی نے دکھائے باغیانہ تیور –

بنگلورو: کرناٹک میں جے ڈی ایس کے ساتھ مل کر حکومت بنانے والی کانگریس پارٹی پر ٹوٹنے کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔ کابینہ میں جگہ نہیں پانے والے تقریباً ایک درجن سینئر لیڈروں نے بغاوت کا جھنڈا بلند کرکے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ہوائی دھمکیاں نہیں ہیں۔کانگریس پارٹی نے اتحادی حکومت میں ایم بی پاٹل، دنیش گنڈو راؤ، رام لنگا ریڈی، آر روشن بیگ، ایچ کے پاٹل، تنویر سیٹھ، شامانور شیوشنکرپا اور ستیش جارکی ہولی سمیت گزشتہ سدارمیا کابینہ کے کئی اہم ارکان کو نئی اتحادی حکومت میں جگہ نہیں دی گئی ہے۔ یہ لیڈروں کا فی ناراض ہیں اور ان کے درمیان کافی میٹنگیں بھی ہوچکی ہیں۔دوسری جانب کرناٹک کے وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے کابینہ کی توسیع سے ناخوش چل رہے کانگریس اراکین اسمبلی کو جمعہ کو سمجھانے کی پہل کی۔ انہوں نے کانگریس کے مرکزی قیادت سے مسئلے کاحل تلاش کرنے کے لئے اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔ وزیراعلیٰ کمار سوامی نے ریاست کے سینئر کانگریسی لیڈر ایم بی پاٹل سے ملاقات کی، جن کی قیادت میں ناراض پارٹی ممبران اسمبلی میٹنگیں کررہے ہیں۔ حالانکہ کچھ لیڈر حکومت کے گرنے کی امیدوں کو خارج کررہے ہیں جبکہ کچھ پارٹی کے مفاد میں اتحاد کی قربانی دینے کی حمایت میں نظر آئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جو لیڈر لنگایت طبقے کو الگ سے منظوری دینے کا مطالبہ کرنے کے سربراہ تھے، انہیں وزیر نہیں بنایا گیا ہے، ان میں ایم بی پاٹل اور ایشور کھانڈرے کے نام اہم ہیں۔سابق وزیراعلیٰ سدا رمیا کا کہنا ہے کہ پارٹی متحد ہے اور یہ کہنا غلط ہے کہ ان کے حامیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے نیوز۔18 کو بتایا کہ سبھی میرے حامی ہیں۔ ہم جلد ہی حل نکال لیں گے۔ وہیں کرناٹک بی جے پی صدر بی ایس ایڈی یورپا نے کہا کہ دیوے گوڑا اور ان کے بیٹے کمار سوامی کانگریس کو برباد کررہے ہیں اور اگر اتحاد بچ گیا تو یہ پارٹی جلد ہی تاریخ بن جائے گی۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ کانگریس اعلیٰ کمان اس معاملے پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے جبکہ اس نے اتحادی حکومت بنانے کے لئے پوری طاقت لگادی تھی۔ناراض لیڈرس جلد ہی کانگریس صدر راہل گاندھی سے ملنے کا منصوبہ بنارہے ہیں۔ بنگلور سے ایک کانگریس رکن اسمبلی نے کہا کہ بی جے پی کے پاس104؍اراکین اسمبلی ہیں اور وہ پوری نظر بنائے ہوئے ہیں۔ پارٹی کا کوئی بھی غلط قدم حکومت گراسکتا ہے اور اس سے بی جے پی کی واپسی ہوسکتی ہے۔کانگریس، جے ڈی ایس، بی ایس پی اور ایک آزاد ممبراسمبلی مل کر کمار سوامی حکومت کے پاس118؍ اراکین اسمبلی ہیں جبکہ بی جے پی کے پاس 104؍اراکین اسمبلی ہیں۔ بجٹ ووٹنگ کے دن اگر10-15؍ اراکین اسمبلی کے نہیں آنے پر حکومت گرجائے گی اور اس سے کانگریس فکر مند ہے۔ جے ڈی ایس میں باغیانہ تیوراپنائے گئے ہیں، لیکن وہ اتنے مضبوط نہیں ہیں۔دوسری جانب ناراض کانگریسی ممبران اسمبلی سے ملاقات کے بعد کمار سوامی نے کہا کہ ویسے یہ معاملہ سیدھے ان سے نہیں جڑا ہے۔لیکن وہ حکومت کے استحکام کے لئے کانگریس جے ڈی ایس اتحاد کے لیڈر کے طور پر ممبران اسمبلی کو سمجھانے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کا تعلق مجھ سے نہیں ہے۔ کیونکہ یہ کانگریس پارٹی کے اندر کئے گئے فیصلے ہیں، میں ان کا (پاٹل کا) دردسمجھتاہوں کہ ضرورت کے وقت انہوں نے کانگریس پارٹی کے لئے کام کیا، لیکن اب وہ مایوس ہیں۔کمار سوامی نے کہا کہ پاٹل نے ان سے کہا کہ وہ اکیلے نہیں ہیں اور وہ اپنے خیالات والے ممبران اسمبلی کے ساتھ مشورہ کرکے فیصلہ لیں گے۔ میں نے ان کے جذبات کو محسوس کیا، میں دہلی کے (کانگریسی لیڈروں) سے مسئلے کا حل نکالنے کے لئے فوری کارروائی کرنے کی اپیل کرتا ہوں۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: