سرورق / خبریں / کشمیر کے حالات انتہائی خراب ، خون خرابے کا خاتمہ ضروری پروفیسر محمدرفیع کی ہلاکت پر عمر عبداللہ کا اظہار افسوس

کشمیر کے حالات انتہائی خراب ، خون خرابے کا خاتمہ ضروری پروفیسر محمدرفیع کی ہلاکت پر عمر عبداللہ کا اظہار افسوس

کرگل : (یو ا ین آئی) نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ وادی کشمیر کے حالات انتہائی خراب ہیں اور ہر روز کہیں نہ کہیں خون خرابہ ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس خون خرابے کا کوئی نہ کوئی علاج نکالنا پڑے گا۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہاکہ کب تک ہم اپنی آنے والی نسل کو قربان کرتے رہیں گے ؟ عمر عبداللہ نے ان باتوں کا اظہار اتوار کو یہاں پارٹی کے ایک جلسہ کے حاشئے پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر میں حالات بہت خراب ہیں۔ کوئی دن ایسا نہیں گذرتا جب ہمیں وادی کے کسی نہ کسی علاقے سے خون خرابے کی خبر نہیں ملتی۔ اس خون خرابے کا کوئی نہ کوئی علاج نکالنا پڑے گا۔ کب تک ہم اپنی آنے والی نسل کو قربان کرتے رہیں گے ۔ چاہے وہ ملی ٹینٹ ہیں یا پتھرباز، وہ تو ہمارے ہیں۔ انہوں نے غلط راستہ اختیار کیا ہے ۔ انہیں صحیح راستے پر لانا ہمارا فرض ہے ۔ مجھے یہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے حکمران اس میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ انہیں اس کا کوئی افسوس ہی نہیں ہے ۔ اُن کی نسبت ہمیں زیادہ افسوس ہے۔ عمر عبداللہ نے اسسٹنٹ پروفیسر سے جنگجو بنے ڈاکٹر محمد رفیع بٹ کی جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں ہلاکت پر کہا کہ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کشمیر میں پڑھے لکھے نوجوان کیونکر بندوقیں اٹھاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سے زیادہ برا کیا ہوسکتا ہے ۔ جو آدمی پڑھا لکھا ہے اور ایک اچھی نوکری پر ہے ۔ جس کا کام ہماری آنے والی نسل کو تیار کرنا ہے ۔ وہ حالات سے اس حد تک مایوس ہوگیا تھا کہ وہ خود بندوق اٹھانے کے لئے تیار ہوگیا۔ اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آخر کار کیا ہوا کہ وہ اپنی نوکری چھوڑ کر بندوق اٹھانے کے لئے تیار ہوا۔ ہمیں یہ جاننا پڑے گا کہ اس نے یہ قدم کیوں اٹھایا۔ آگے اس طرح کے حالات پیدا نہ ہوں۔ہمیں اس کے لئے اقدامات اٹھانے پڑیں گے ۔ عمر عبداللہ نے سری نگر میں جنگجوؤں کی طرف سے اپنے مہلوک ساتھی کو گن سلوٹ پیش کرنے کے واقعہ پر کہاکہ بندوق کی سلامی دینا کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ بندوق کی سلامی ہم ابھی تک جنوبی کشمیر میں دیکھ رہے تھے لیکن پہلی بار سری نگر کے بیچوں بیچ عیدگاہ میں مہلوک جنگجو کو سلامی دی گئی۔ اگر اس سے ہمارے حکمران پریشان نہیں ہوں گے تو مجھے نہیں پتہ کہ وہ کس سے پریشان ہوتے ہیں۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: