سرورق / خبریں / کشمیر کے تعلیمی اداروں میں کشیدگی، طلباء اور سیکورٹی فورسز کے مابین شدید جھڑپیں –

کشمیر کے تعلیمی اداروں میں کشیدگی، طلباء اور سیکورٹی فورسز کے مابین شدید جھڑپیں –

سری نگر ، جنوبی کشمیر کے شوپیان اور اننت ناگ اضلاع میں یکم اپریل کو ہوئے تین الگ الگ جنگجو مخالف آپریشنوں کے دوران 13 مقامی جنگجوؤں اور 4 عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف وادی کشمیر کے درجنوں تعلیمی اداروں بشمول یونیورسٹیوں ، کالجوں اور ہائر سکینڈری اسکولوں میں جمعرات کو شدید احتجاجی مظاہرے بھڑک اٹھے جس کے دوران سیکورٹی فورسز نے گرمائی دارالحکومت سری نگر اور ضلع کپواڑہ میں پتھراؤ کے مرتکب احتجاجی طلباء کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے شیلوں کا شدید استعمال کیا۔
طلباء اور سیکورٹی فورسز کے مابین ہونے والی ان جھڑپوں میں متعدد طالب علم اور سیکورٹی فورس کے اہلکار زخمی ہوئے ۔ ان جھڑپوں کے دوران متعدد گاڑیوں کے شیشے چکنا چور ہوئے۔ مختلف کالجوں کے طالب علموں کی طرف سے سری نگر میں کئے گئے احتجاجی مظاہروں کے دوران کاروباری اور دیگر سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ سری نگر کے تاریخی امرسنگھ کالج کے طالب علموں نے احتجاج کے دوران پولیس کی ایک پکٹ کو آگ لگادی۔ ان احتجاجی طالب علموں کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں جو کئی گھنٹوں تک جاری رہیں۔ جھڑپوں کے دوران سیکورٹی فورسز نے پتھراؤ کے مرتکب احتجاجی طالب علموں کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کے گولوں کا شدید استعمال کیا۔ سیکورٹی فورسز نے کالج کے احاطے کے اندر بھی آنسو گیس کے شیل داغے۔ یہ بات یہاں قابل ذکر ہے کہ وادی میں جمعرات کو تعلیمی ادارے تین روز کی تعطیل کے بعد کھل گئے تھے۔
ان تعلیمی اداروں کو جنوبی کشمیر میں یکم اپریل کو ہوئی اموات کے بعد وادی میں پیدا شدہ کشیدہ صورتحال کے پیش نظر احتیاطی طور پر تین روز تک بند رکھا گیا تھا۔ تاہم تین روز کی تعطیل کے بعد جمعرات کو جب جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان کو چھوڑ کر دوسرے 9 اضلاع میں تعلیمی ادارے کھل گئے تو درجنوں مقامات پر طالب علموں نے سڑکوں پر آکر احتجاج شروع کردیا۔ بعض ایک مقامات بالخصوص سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر کے طالب علموں نے جنوبی کشمیر میں یکم اپریل کو جاں بحق ہوئے جنگجوؤں اور عام شہریوں کے حق میں غائبانہ نماز جنازہ ادا کی۔ مختلف کالجوں اور اسکولوں کی طالبات نے تاریخی لال چوک کے ریگل چوک میں احتجاج کرکے سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں کیں۔ طالبات نے سیکورٹی فورسز پر پتھراؤ کیا۔
احتجاجی طالبات نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہ چاہتی ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا حل نکالا جائے۔ انہوں نے بندوقیں اٹھانے کی بھی دھمکی دے دی۔ ایک احتجاجی طالبہ نے کہا ’ہم خود بندوق اٹھانے کے لئے تیار ہیں۔ بس ایک بار ہمارے بھائی ہمیں اجازت دیں، ہم بندوقیں اٹھائیں گے‘۔ انہوں نے کہا ’ہمارے بھائی جاں بحق ہورہے ہیں۔ میرا اپنا بھائی شہید ہوا ہے‘۔ ایک اور طالبہ نے کہا کہ وہ مسئلہ کشمیر کا حل چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا ’کشمیر میں مائیں اپنے لخت جگر کھورہی ہیں ۔ اب تک ہزاروں گھر اجڑ چکے ہیں۔ ہم مسئلہ کشمیر کا حل چاہتے ہیں۔
محبوبہ مفتی اسمبلی میں کشمیر کی آزاد کی بات کریں‘۔ مذکورہ طالبہ نے مزید کہا ’ہم چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا گولیوں سے نہیں بات چیت سے حل نکالا جائے‘۔ اطلاعات کے مطابق سری نگر میں تاریخی امرسنگھ کالج اور وومنز کالج کے علاوہ ڈگری کالج بمنہ، اسلامیہ کالج حول اور گاندھی کالج کے طالب علموں نے بھی شدید احتجاج کیا۔ طلباء کے احتجاج کی وجہ سے سری نگر کے کچھ علاقوں میں کاروباری اور دیگر سرگرمیاں گھنٹوں تک متاثر رہیں۔ اس دوران کئی ایک گاڑیوں کے شیشے چکنا چور ہوئے۔ شمالی کشمیر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ڈگری کالج کپواڑہ کے طالب علموں نے بھی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں کیں۔ اسی ضلع کے ڈگری کالج ہندواڑہ کے طالب علموں کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم تین طالب علم زخمی ہوئے ہیں۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: