سرورق / خبریں / کشمیر کے بیشتر حصوں میں دوسرے دن بھی ہڑتال، جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر ایک بار پھر قدغن-

کشمیر کے بیشتر حصوں میں دوسرے دن بھی ہڑتال، جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر ایک بار پھر قدغن-

سری نگر ، سری نگر کے مختلف تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں پابندیوں کے ذریعے پائین شہر کے نوہٹہ میں واقع تاریخی و مرکزی جامع مسجد میں مسلسل دوسرے جمعہ کو بھی نماز کی ادائیگی ناممکن بنادی گئی۔ شہر کے مختلف حصوں میں پابندیوں کا نفاذ جمعرات کی صبح علیحدگی پسند قیادت کی طرف سے جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں ہوئی شہری ہلاکتوں کے خلاف دی گئی ’کشمیر بند‘ کی کال کے پیش نظر عمل میں لایا گیا تھا۔ تاہم پابندیاں جمعہ کو مسلسل دوسرے دن بھی جاری رکھی گئیں۔ حریت کانفرنس (ع) چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق جو ہر جمعہ کو جامع مسجد میں اپنا معمول کا خطبہ دیتے ہیں، نے اپنے ایک ٹویٹ میں پابندیوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ’شہر خاص میں مسلسل دوسرے جمعہ کو بھی کرفیو اور پابندیاں نافذ کی گئیں۔
جامع مسجد میں نماز کی ادائیگی ناممکن بنائی گئی۔ مسجد کے باہر سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات رکھی گئی جبکہ اس کے تمام دروازوں کو مقفل رکھا گیا۔ ہمیں شب معراج کے مقدس موقع پر بھی مسجد میں نماز ادا کرنے نہیں دیا گیا‘۔ بتادیں کہ کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کھڈونی کولگام میں سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں چار عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف جمعہ کو نماز کے بعد پرامن احتجاجی مظاہروں کی کال دی تھی۔ انتظامیہ نے احتجاجی مظاہروں کو ناکام بنانے کے لئے نہ صرف شہر کے مختلف حصوں میں پابندیاں کا نفاذ دوسرے دن بھی جاری رکھا بلکہ تیز رفتار والی فور جی اور تھری جی موبائیل انٹرنیٹ خدمات قریب تین گھنٹوں تک منقطع رکھی گئیں۔ اس کے علاوہ درجنوں علیحدگی پسند لیڈران کو تھانہ یا خانہ نظربند رکھا گیا۔
کھڈونی کے وانی محلہ میں 11 اپریل کو مسلح تصادم کے مقام پر احتجاجی مظاہروں کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں چار عام شہری جاں بحق ہوئے تھے جن کی شناخت 28 سالہ سرجیل احمد شیخ ساکنہ کھڈونی، 16 سالہ بلال احمد تانترے ساکنہ فرصل کولگام، 16 سالہ فیصل الٰہی ساکنہ ملہورہ شوپیان اورسہیل احمد ڈار ساکنہ ریڈونی کی حیثیت سے کی گئی تھی۔ جھڑپوں میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 70 بتائی گئی تھی۔ تاہم سیکورٹی فورسز کے محاصرے میں پھنسے والے جنگجو جن کی تعداد 2 بتائی جارہی تھی، فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان مسلح تصادم میں ایک فوجی اہلکار ہلاک جبکہ دو دیگر زخمی ہوئے تھے۔
دریں اثنا کھڈونی میں شہری ہلاکتوں کے خلاف جنوبی کشمیر کے چار اور شمالی کشمیر کے تین اضلاع میں جمعہ کو مسلسل دوسرے دن بھی ہڑتال کی گئی۔ موصولہ اطلاعات کے صوبہ جموں کے کشتواڑاور بھدرواہ قصبوں میں بھی جمعہ کو ہڑتال کی گئی جس کے دوران وہاں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت جزوی طور پر معطل رہی۔ وادی میں ریل خدمات مسلسل تیسرے دن بھی معطل رکھی گئیں جبکہ جنوبی کشمیر میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات 10 اور 11 اپریل کی نصف شب سے منقطع رکھی گئی ہیں۔ سری نگر میں پابندیوں کے باعث نوہٹہ علاقہ میں واقع 600 سال پرانی جامع مسجد میں مسلسل دوسرے جمعہ کو بھی نماز ادا نہ کی جاسکی۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ نقص امن کے خدشے کے پیش نظر سری نگر کے کچھ علاقوں میں جمعہ کو پابندیاں نافذ رکھی گئیں۔ ریاستی پولیس نے ’کشمیر زون پولیس‘ کے ٹویٹر ہینڈل سے ٹویٹ کرتے ہوئے پابندیوں کے نفاذ کی تصدیق کی۔ ٹویٹ میں کہا گیا ’امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے آپ کا پولیس اپنے شہریوں سے تعاون طلب کرتا ہے۔ آج (جمعہ کے روز) آپ کو سری نگر کے کچھ حصوں میں پابندیاں نظر آئیں گی۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ پابندیاں آپ کے لئے پریشانی کا سبب بنیں گی لیکن ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کو ایک عارضی وقت کے لئے نافذ کیا گیا ہے‘۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق وادی کے درجنوں مقامات پر جمعہ کو حالیہ ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ کشمیری علیحدگی پسند قیادت نے لوگوں کو جمعہ کے روز پرامن احتجاجی مظاہرے کرنے کے لئے کہا تھا۔ علیحدگی پسند قائدین کو کسی بھی احتجاجی مظاہرے یا ریلی کا حصہ بننے سے روکنے کے لئے تھانہ یا خانہ نظربند رکھا گیا ہے۔
میرواعظ کو گذشتہ دو ہفتوں سے مسلسل اپنے گھروں میں نظربند رکھا گیا ہے۔ یاسین ملک کو 11 اپریل سے سینٹرل جیل سری نگر میں مقید رکھا گیا ہے۔ پابندیوں کے نفاذ کے طور پر پائین شہر کی بیشتر سڑکوں کو جمعہ کی صبح ہی سیل کردیا گیا تھا جبکہ ان پر لوگوں کی نقل وحرکت کو روکنے کے لئے بڑی تعداد میں سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں کی نفری تعینات کی گئی تھی۔ نوہٹہ کے مقامی لوگوں نے بتایا کہ تاریخی جامع مسجد کے دروازوں کو جمعہ کی صبح ہی مقفل کردیا گیا تھا۔ دریں اثنا پابندیوں کے نفاذ کے طور پر نالہ مار روڑ کو ایک بار پھر خانیار سے چھتہ بل تک مکمل طور پر سیل کردیا گیا تھا۔ اس روڑ کے دونوں اطراف رہائش پذیر لوگوں نے بتایا کہ فجر نماز کی ادائیگی کے فوراً بعد اس روڑ پر سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے اہلکار تعینات کئے گئے جنہوں نے لوگوں کی آمدورفت محدود کردی۔
سیکورٹی فورسز نے نواب بازار، زالڈگر، راجوری کدل اور نوہٹہ میں بھی تمام اہم سڑکوں کو سیل کردیا تھا۔ سخت ترین پابندیوں کے نتیجے میں پائین شہر میں تمام تعلیمی ادارے جمعہ کو بند رہے جبکہ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کا کام کاج ٹھپ رہا۔ سرکاری اور نجی دفاتروں میں کام کرنے والے ملازمین بھی اپنے ہی گھروں تک محدود ہوکر رہ گئے ۔ ادھرسیول لائنز میں جے کے ایل ایف کے گڑھ مانے جانے والے ’مائسمہ‘ میں بھی جمعہ کو پابندیاں نافذ رہیں۔ مائسمہ اور اس سے ملحقہ بڈشاہ چوک اور تاریخی لال چوک میں سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی تھی۔ دریں اثنا وادی میں حالیہ ہلاکتوں کے خلاف جنوبی اور شمالی کشمیر میں مسلسل دوسرے دن بھی ہڑتال کی گئی۔
جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر کے قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے کاروباری اور دیگر سرگرمیاں مفلوج رہیں۔ شمالی کشمیر کے قصبہ سوپور سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے تمام قصبوں اور دیگر تحصیل ہیڈکوارٹروں میں ہڑتال کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے تمام قصبوں اور دیگر تحصیل ہیڈکوارٹروں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آمد ورفت معطل رہی۔ سوپور اور شمالی کشمیر میں پتھراؤ کے کسی بھی واقعہ سے نمٹنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کردی گئی تھی۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: