سرورق / خبریں / کشمیر میں 13 جنگجوؤں اور 4 شہریوں کی ہلاکت کے خلاف مکمل ہڑتال، مختلف حصوں میں پابندیاں –

کشمیر میں 13 جنگجوؤں اور 4 شہریوں کی ہلاکت کے خلاف مکمل ہڑتال، مختلف حصوں میں پابندیاں –

سری نگر ، جنوبی کشمیر کے شوپیان اور اننت ناگ اضلاع میں اتوار کو ہوئے تین الگ الگ جنگجو مخالف آپریشنوں کے دوران 13 مقامی جنگجوؤں اور 4 عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف وادی کشمیر کے سبھی دس اضلاع اور جموں خطہ کے ضلع رام بن کے بانہال اور اس سے ملحقہ علاقوں میں پیر کے روز مکمل ہڑتال کی وجہ سے معمول کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔ انتظامیہ نے مقامی جنگجوؤں اور شہری ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر گرمائی دارالحکومت سری نگر کے سات پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کردی ہیں۔ وادی میں اتوار کو صورتحال اُس وقت کشیدہ رخ اختیار کرگئی جب جنوبی کشمیر کے شوپیان اور اننت ناگ اضلاع میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ تین مختلف معرکہ آرائیوں میں بڑے پیمانے پر جنگجوؤں اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کی خبریں وادی کے اطراف وکناف میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئیں۔
اتوار کو وادی کے متعدد مقامات پر احتجاجیوں کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ تاہم شوپیان اور اننت ناگ میں مسلح تصادم کے مقامات پر احتجاجیوں کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ ہونے والی جھڑپیں جان لیوا ثابت ہوئیں۔ ضلع شوپیان کے درگڈ سوگن و کچھ ڈورہ اور ضلع اننت ناگ کے دیالگام میں ہوئے جنگجو مخالف آپریشنوں میں جہاں 13 مقامی جنگجو اور 3 فوجی اہلکار جاں بحق ہوئے وہیں اِن مسلح تصادموں کے مقامات پر احتجاجیوں کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں 4 عام شہری ہلاک جبکہ قریب 200دیگر زخمی ہوئے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق سبھی مہلوک جنگجوؤں کا تعلق جنوبی کشمیر کے اضلاع سے ہے اور یہ سب جنگجو تنظیم حزب المجاہدین سے وابستہ تھے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ حالیہ برسوں میں ایک دن کے اندر جنگجوؤں کی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔ فوج کی پندرہویں کور کے جی او سی اے کے بھٹ، ریاستی پولیس سربراہ ایس پی وید اور آئی جی سی آر پی ایف ذوالفقار حسن نے اتوار کو ایک نیوز کانفرنس میں 13 جنگجوؤں کی ہلاکت کو ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے ’اتوار‘ کو ایک خصوصی دن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خوش ہیں کہ سیکورٹی فورسز ایک دن کے اندر جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد کو ہلاک کرنے میں کامیاب ہوئے۔ کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے جنوبی کشمیر میں مسلح تصادموں کے دوران مقامی جنگجوؤں اور عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف آج پورے کشمیر میں ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال کی کال دی تھی۔
تاہم انتظامیہ نے ہڑتال کے دوران احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر سری نگر کے سات پولیس تھانوں میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کردیں۔ اس کے علاوہ وادی کے تمام تعلیمی اداروں میں آج (پیر کو) تعطیل کا اعلان کیا گیا۔ اس کے علاوہ کشمیر یونیورسٹی ، اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر نے آج (پیر کو) لئے جانے والے تمام امتحانات کردیے۔ سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ امن وامان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ضلع سری نگر کے سات پولیس تھانوں بشمول خانیار، نوہٹہ، صفا کدل، ایم آر گنج، رعناواری، کرال کڈھ اور مائسمہ میں دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پابندیاں اگلے احکامات تک جاری رہیں گی۔ تاہم جنوبی کشمیر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق کچھ ایک علاقوں بشمول قصبہ کولگام میں غیراعلانیہ کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔ ریاستی پولیس نے سری نگر میں پابندیوں کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ایک عارضی اقدام قرار دیا ہے۔
کشمیر زون پولیس کے ٹویٹر ہینڈل سے ایک ٹویٹ میں کہا گیا ’امن وقانون کو بنائے رکھنے کے لئے آپ کا پولیس آپ سے تعاون طلب کرتا ہے۔ آج (پیر کے روز) آپ شہر کے کچھ علاقوں میں پابندیاں پائیں گے۔ اگرچہ اس سے آپ کو پریشانی ہوگی، لیکن ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ یہ احکامات عارضی ہیں۔ آپ کسی بھی راحت کے لئے 100 ڈائیل کریں‘۔ اسی ہینڈل سے ایک اور ٹویٹ میں کہا گیا ’ہم لوگوں سے گذارش کرتے ہیں کہ وہ قیاس آرائیوں اور افواہوں پر کان نہ دھریں۔ ان کا مقصد امن کے ماحول کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے‘۔ پیر کو ہڑتال کے دوران جہاں وادی کی تجارتی انجمنوں نے کشمیری نوجوانوں کی ہلاکت کے خلاف تاریخی لال چوک میں احتجاجی دھرنہ دیا ، وہیں کشمیر یونیورسٹی کے ہوسٹلوں میں مقیم طلباء نے نہ صرف کیمپس کے اندر احتجاجی مظاہرے کئے بلکہ مہلوک جنگجوؤں اور شہریوں کی غائبانہ نماز جنازہ بھی پڑھی۔
سری نگر کے پابندی والے علاقوں میں سینکڑوں کی تعداد میں ریاستی پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کے اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔ تمام راستوں بشمول نالہ مار روڑ کو خانیار سے لیکر چھتہ بل تک خاردار تاروں سے سیل کردیا گیا ہے۔ نالہ مار روڑ کے دونوں اطراف رہائش پذیر لوگوں نے بتایا کہ انہیں اپنے گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ پائین شہر میں واقع تاریخی جامع مسجد کے اردگرد سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورس اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔ ادھر سیول لائنز میں جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے گڑھ مانے جانے والے مائسمہ کی طرف جانے والے بیشتر راستوں کو خاردار تار سے سیل کردیا گیا ہے۔ مائسمہ میں امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسزکی بھاری جمعیت تعینات کردی گئی ہے۔ دریں اثنا وادی کے سبھی دس اضلاع اور جموں خطہ کے ضلع رام بن کے بانہال اور اس سے ملحقہ علاقوں میں پیر کو علیحدگی پسند قیادت کی اپیل پر مکمل ہڑتال رہی۔
سری نگر کے جن علاقوں کو پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ اور اسٹیٹ روڑ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی گاڑیاں سڑکوں سے غائب رہیں۔ سرکاری دفاتراور بینکوں میں معمول کا کام کاج بری طرح سے متاثر رہا۔
جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر کے قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے کاروباری اور دیگر سرگرمیاں مفلوج رہیں۔ شمالی کشمیر کے قصبہ سوپور سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے تمام قصبوں اور دیگر تحصیل ہیڈکوارٹروں میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے تمام قصبوں اور دیگر تحصیل ہیڈکوارٹروں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آمد ورفت معطل رہی۔ سوپور اور شمالی کشمیر میں پتھراؤ کے کسی بھی واقعہ سے نمٹنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کردی گئی تھی۔ وادی کشمیر کے دوسرے حصوں بشمول وسطی کشمیر کے گاندربل اور بڈگام اضلاع سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اِن اضلاع میں بھی مکمل ہڑتال کی گئی۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: