سرورق / خبریں / کشمیر میں کشیدگی، ریل اور انٹرنیٹ خدمات معطل، تعلیمی ادارے بند اور امتحانات ملتوی –

کشمیر میں کشیدگی، ریل اور انٹرنیٹ خدمات معطل، تعلیمی ادارے بند اور امتحانات ملتوی –

سری نگر ، انتظامیہ نے جنوبی کشمیر کے شوپیان اور اننت ناگ اضلاع میں اتوار کو ہوئے تین الگ الگ جنگجو مخالف آپریشنوں کے دوران مقامی جنگجوؤں اور عام شہریوں کی اموات کے بعد وادی کے مختلف حصوں میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر ریل خدمات کو کلی جبکہ موبائیل انٹرنیٹ خدمات کو جزوی طور پر معطل کرکے رکھ دیا ہے۔ انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ وادی کے تمام تعلیمی اداروں میں پیر کے روز درس وتدریس کا عمل معطل رہے گا جبکہ پیر کو لئے جانے والے تمام امتحانات ملتوی کئے گئے ہیں۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مختلف خدمات کی معطلی کے یہ اقدامات احتیاطی طور پر اٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صورتحال میں بہتری کے ساتھ ہی ان خدمات کو بحال کیا جائے گا۔ ریلوے عہدیداروں کے مطابق وادی میں پیر کو ریل خدمات کلی طور پر معطل کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ سری نگر اور بانہال کے درمیان ریل خدمات اتوار کے روز ہی معطل کی گئی تھیں، تاہم بڈگام اور شمالی کشمیر کے بارہمولہ کے درمیان بیشتر ریل گاڑیاں چلائی گئی تھیں۔
محکمہ ریلوے کے ایک عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا کہ ہم نے آج (پیر کے روز) چلنے والی تمام ریل گاڑیاں معطل کردی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سری نگر سے براستہ جنوبی کشمیر جموں خطہ کے بانہال تک کوئی ریل گاڑی نہیں چلے گی۔ اسی طرح سری نگر اور بارہمولہ کے درمیان بھی کوئی ریل گاڑی نہیں چلے گی۔ مذکورہ عہدیدار نے بتایا کہ بتایا کہ ہمیں گذشتہ شام ریاستی پولیس کی طرف سے ایک ایڈوئزری موصول ہوئی جس میں ریل خدمات کو احتیاطی طور پر معطل رکھنے کا مشورہ دیا گیا ۔
انہوں نے بتایا’ ہم نے اس ایڈوائزری پر عمل درآمد کرتے ہوئے ریل خدمات کو معطل رکھنے کا فیصلہ لیا۔ ریلوے عہدیدار نے بتایا کہ یہ فیصلہ ریل گاڑیوں کے ذریعے سفر کرنے والے مسافروں اور ریلوے املاک کو نقصان سے بچانے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ماضی میں احتجاجی مظاہروں کے دوران ریلوے املاک کو بڑے پیمانے کا نقصان پہنچایا گیا۔ وادی کشمیر میں گذشتہ برس یعنی سال 2017 کے دوران ریل خدمات کو سیکورٹی وجوہات کی بناء پر کم از کم 50 بار جزوی یا کلی طور پر معطل رکھا گیا۔ سال 2016 میں حزب المجاہدین کے معروف کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر ریل خدمات کو قریب چھ مہینوں تک معطل رکھا گیا تھا۔
اس دوران جنوبی کشمیر کے چار اضلاع شوپیان، اننت ناگ، پلوامہ اور کولگام اور ضلع سری نگر میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات پیر کو مسلسل دوسرے دن بھی منقطع رکھی گئیں۔ وادی کے باقی پانچ اضلاع بارہمولہ، بانڈی پورہ، کپواڑہ، بڈگام اور گاندربل میں صرف سست رفتار والی ٹو جی خدمات کو چالو رکھا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ موبائیل انٹرنیٹ خدمات کو معطل رکھنے کا فیصلہ کسی بھی طرح کی افواہ بازی کو پھیلنے سے روکنے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صورتحال میں بہتری کے ساتھ ہی انٹرنیٹ خدمات کو بحال کیا جائے گا۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ موبائیل انٹرنیٹ خدمات کو جنگجوؤں کے جلوس جنازہ کی ویڈیوز، سیکورٹی فورسز کی فائرنگ و شلنگ اور احتجاجی مظاہروں کی ویڈیوز کی اپ لوڈنگ کو روکنے کے لئے بند رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مواصلاتی کمپنیوں کو یہ خدمات تاحکم ثانی معطل رکھنے کے لئے کہا گیا ہے۔ دریں اثنا انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ وادی کے تمام تعلیمی اداروں میں پیر کے روز درس وتدریس کا عمل معطل رہے گا جبکہ پیر کو لئے جانے والے تمام امتحانات ملتوی کئے گئے ہیں۔ تعلیمی اداروں کو ظاہری طور پر احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر معطل رکھا گیا ہے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: