سرورق / خبریں / کشمیر میں جنگجوؤں کا دبدبہ قائم، حالات میں کوئی سدھار نہیں: عمر عبداللہ

کشمیر میں جنگجوؤں کا دبدبہ قائم، حالات میں کوئی سدھار نہیں: عمر عبداللہ

جموں ، نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ وادی کشمیر میں جنگجوؤں کا دبدبہ قائم ہوچکا ہے اور اس میں کوئی کمی نظر نہیں آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادی کے حالات ٹھیک ہونے کے بجائے ہر گذرتے دن کے ساتھ خراب ہوتے جارہے ہیں اور کولگام کا واقعہ اس کا بین ثبوت ہے۔
عمر عبداللہ نے ان باتوں کا اظہار پیر کے روز یہاں پارٹی دفتر شیر کشمیر بھون میں منعقدہ ایک پارٹی تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا ’وادی میں ملی ٹینسی کا دبدبہ ہے۔ مجھے اس میں کوئی کمی نظر نہیں آرہی ہے‘۔
عمر عبداللہ کا یہ بیان اُن میڈیا رپورٹوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے جن کے مطابق وادی میں رواں برس کے آغاز سے اب تک کم از کم 50 نوجوانوں نے مختلف جنگجو تنظیموں بالخصوص حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے وادی کے موجودہ حالات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا ’کیا آپ کو وادی کے حالات سدھرتے ہوئے نظر آرہے ہیں؟ مجھے تو وہاں صرف خون خرابہ نظر آتا ہے۔ کولگام میں تین لوگ مارے گئے، مجھے تو حالات میں کوئی بہتری نظر نہیں آئی۔ یہ کہنا کہ ریاست میں گورنر راج نافذ ہونے سے کشمیر کے حالات بہتر ہوگئے ہیں، صحیح نہیں ہے‘۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ ریاست میں نئی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے مرکزی اور ریاستی بی جے پی لیڈر شپ کی طرف سے متضاد بیانات سامنے آرہے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا ’رام مادھو (بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری) نے کہا ہے کہ بی جے پی کی جانب سے ریاست میں حکومت بنانے کی کوئی کوشش نہیں ہے۔ حالانکہ رام مادھو اور بی جے پی کے ریاستی یونٹ کے کہنے میں فرق ہے۔
بی جے پی کے ریاستی سطح کے لیڈر بار بار کہتے ہیں کہ ریاست میں حکومت بنائی جائے گی لیکن بھاجپا کی مرکزی لیڈر شپ کچھ اور کہتی ہے۔ اب ہم انتظار کریں گے اور دیکھیں گے کہ سچ کون کہہ رہا ہے اور جھوٹ کون کہہ رہا ہے۔ میں یہ ایک بار پھر دہرانا چاہتا ہوں کہ ہماری طرف سے حکومت بنانے کی کوئی کوشش نہیں ہے‘۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ ریاست میں اسمبلی کو تحلیل کرنے سے ہی ہارس ٹریڈنگ اور جماعتوں کو توڑنے کی کوششوں پر بریک لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا ’نیشنل کانفرنس مسلسل اسمبلی کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کرتی آئی ہے۔
ہارس ٹریڈنگ سے متعلق تمام افواہوں ، سیاسی جماعتوں کو توڑنے کی تمام تر کوششوں اور متبادل حکومت کے قیام سے متعلق تمام تر حربوں کو صرف اسمبلی کو تحلیل کرنے سے ناکام بنایا جاسکتا ہے۔ ہم فوری انتخابات کا مطالبہ نہیں کرتے ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ انتخابات کرانے کے لئے ابھی حالات سازگار نہیں ہیں‘۔
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے پی ڈی پی میں بغاوت کو مذکورہ پارٹی کا اندرونی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا ’اب تک صرف تین چار ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اپنی لیڈر شپ کے خلاف بات کی ہے۔ اگر پی ڈی پی کے اندر بغاوت ہے تو یہ ان کا اندرونی مسئلہ ہے۔ یہ ان کی لیڈر شپ کو سلجھانا ہوگا۔
پی ڈی پی کو بنانے میں نیشنل کانفرنس کا کوئی ہاتھ نہیں۔ پی ڈی پی کے بگاڑنے میں بھی ہمارا کوئی ہاتھ نہیں ہے‘ ۔ پی ڈی پی وزراء پر لگائے گئے بدعنوانی کے الزامات پر عمر عبداللہ نے کہا ’لوگوں نے ہمارے پاس کئی ایسی باتیں پہنچائی ہیں جن سے سابقہ مخلوط حکومت کے وزراء پر کرپشن کے الزامات لگتے ہیں۔ صرف پی ڈی پی کے ہی نہیں بلکہ بی جے پی کے کچھ وزراء کے خلاف بھی کرپشن کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
یہ تمام باتیں گورنر صاحب کے پاس پہنچائی جائیں گی۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان الزامات کی تحقیقات ہو۔ اگر یہ الزامات صحیح ثابت ہوتے ہیں تو کاروائی بھی ہو‘۔ انہوں نے کہا ’بجٹ اجلاس کے دوران بی جے پی کے ایک رکن نے بھی یہ نہیں کہا کہ جموں کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ ہر ایک وزیر اور رکن نے محبوبہ مفتی کی تعریفیں کیں۔ اچانک کرسی جانے کے بعد آپ کو اچانک یہ خرابی کہاں سے نظر آئی‘۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی بھی کہتے تھے کہ جموں وکشمیر کو شیخ محمد عبداللہ اور مفتی محمد سعید کے خاندان سے آزادی دلائی جائے گی لیکن پھر مفتی سعید سے گلے مل گئے۔ انہوں نے کہا ’آج آپ کہتے ہو کہ آپ کو دو خاندانوں سے آزادی حاصل کرنی ہے۔ میرے اور محبوبہ مفتی کے خاندان کا ذکر ہوتا ہے۔
امت جی (بی جے پی صدر) یہی تقریر مودی جی نے 2014 میں کی تھی۔ کہا تھا کہ جموں وکشمیر کو ان دو خاندانوں سے آزادی دلائی جائے گی۔ 2015 ء میں اُسی مفتی صاحب سے آپ گلے ملے۔ تب کہاں گئے وہ خاندان؟ جب آپ کو اقتدار چاہئے تھا تب آپ پرانی باتیں بھول گئے۔ یہ ان لوگوں کی عادت ہے۔ کیونکہ ان کا مقصد اور منزل کرسی ہے۔ یہ کرسی حاصل کرنے کے لئے وہ کسی بھی جگہ آگے لگانے کے لئے تیار ہیں۔ چاہیے وہ مذہبی فساد ہو یا علاقائی فساد‘ ۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: