سرورق / خبریں / کشمیر اور بنگلہ دیش کے درمیان سیاحتی روابط کو فروغ دینے کی کوششیں تیز –

کشمیر اور بنگلہ دیش کے درمیان سیاحتی روابط کو فروغ دینے کی کوششیں تیز –

سری نگر، کشمیر اور بنگلہ دیش کے درمیان سیاحتی روابط کو مزید فروغ دینے کے لئے پڑوسی ملک کے لئے 16 ٹور آپریٹرس کا ایک وفد اِن دنوں وادی کے دورے پر ہے۔ وفد کی قیادت کرنے والے رضاالاکرم جوکہ بنگلہ ’اِن باؤنڈ ٹور آپریٹرس ایسوسی ایشن‘ کے صدر بھی ہیں، کا کہنا ہے کہ قدرتی خوبصورتی سے مالا مال یہ وادی بنگلہ دیشی سیاحوں کی ایک پسندیدہ جگہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے کشمیری ٹور آپریٹرس کو بنگلہ دیش میں رواں برس اکتوبر میں ہونے والے ’ٹریول میلے‘ میں شرکت کی دعوت دی۔ رضاالاکرم کا کہنا ہے کہ کشمیر کی طرح بنگلہ دیش بھی ’غلط تصورات‘ کا شکاربن گیا ہے۔
انہوں نے گذشتہ شام یہاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ’باہر کی دنیا بنگلہ دیش کو ایک غریب ملک کی نظر سے دیکھتی ہے جبکہ یہ حقیقت نہیں ہے۔ ہمارے یہاں مڈل کلاس طبقہ بھی سیروتفریح کی غرض سے دنیا کے مختلف ممالک کے دوروں پر جاتا ہے۔ سنگاپور میں گذشتہ چند برسوں میں بنگلہ دیشی سیاح سب سے زیادہ خرچ کرنے والے سیاح ثابت ہوئے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ بنگلہ دیش میں لوگوں کو بتایا جائے کہ وہ قدرتی خوبصورتی سے مالا مال کشمیر کا دورہ کریں‘۔
رضا الاکرم نے کہا کہ 2017 میں بنگلہ دیش سے سب سے زیادہ 17 لاکھ سیاح سیر وتفریح کی غرض سے ہندوستان آئے۔ انہوں نے کہا ’2017 میں بنگلہ دیش کے 17 لاکھ سیاحوں نے انڈیا کا دورہ کیا۔ یہ کسی بھی ملک سے انڈیا آنے والے سب سے زیادہ سیاح تھے۔ ہم چاہتے ہیں کہ بنگلہ دیش سے انڈیا آنے والے سیاح کشمیر کا بھی دورہ کریں۔ یہ ایک انتہائی خوبصورت جگہ ہے‘۔ بنگلہ دیش سے کشمیر آنے والے سیاحوں کے اس وفد نے مختلف سیاحتی مقامات بشمول گلمرگ، سونہ مرگ، ٹیولپ گارڈن اور مغل باغات کی سیر کی ہے۔
ناظم سیاحت کشمیر محمود احمد شاہ کا کہنا ہے کہ اگر بنگلہ دیش پر فوکس کیا جاتا ہے تو وہاں سے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد کشمیر آسکتی ہے۔ انہوں نے کہا ’بنگلہ دیش سیاحت کے لحاظ سے ایک بڑے مارکیٹ کی حیثیت سے ابھر رہا ہے۔ ہمارے لئے اس پر فوکس کرنا بہت ضروری ہے۔
گذشتہ دو برسوں کے دوران بنگلہ دیشی سیاحوں کی وادی آمد میں اضافہ درج کیا گیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر بنگلہ دیش پر فوکس کیا جائے تو وہاں سے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد کشمیر آسکتی ہے‘۔ مسٹر شاہ نے کہا کہ بنگلہ دیش غریب ملک نہیں ہے بلکہ وہاں سب سے زیادہ ملٹی نیشنل کمپنیز ہیں۔ انہوں نے کہا ’بنگلہ دیشی سیاحوں کو کشمیر کی طرف متوجہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ وہاں سیاحتی انڈسٹری سے وابستہ لوگوں کو یہاں بلایا جائے اور انہیں اپنے پروڈکٹ دکھائے جائیں۔ یہ حقیقت نہیں کہ بنگلہ دیش میں لوگ غریب ہیں۔ بنگلہ دیش میں سب سے زیادہ ایم این سیز ہیں‘۔
ناظم سیاحت نے کہا کہ بنگلہ دیش اور کشمیر کے درمیان بہت مشترکات ہیں۔ انہوں نے کہا ’دونوں خطوں میں رہنے والے لوگ کرکٹ پسند کرتے ہیں اور ایک مشترکہ مذہب سے تعلق رکھتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا ’بنگلہ دیش کشمیر کی سیاحت کے لئے ایک بڑا مارکیٹ ثابت ہوسکتا ہے اور وہاں کے سیاحوں کو کشمیر کی طرف متوجہ کرنے کی جانب یہ ایک قدم ہے‘۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی گرمی کے نتیجے میں کشمیر میں سیاحوں کی آمد میں اضافہ درج ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا ’اللہ بھی ہم پر بہت مہربان ہے۔ ہمارے سیاحتی شعبے کی سب سے بڑی طاقت یہاں کا موسم ہے۔ آج جب ملک کے بیشتر حصوں میں شدت کی گرمی پائی جارہی ہے، وہیں کشمیر میں موسم بالکل خوشگوار ہے‘۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: