سرورق / خبریں / کشمیری نوجوانوں کا ہتھیار اٹھانا ہم سب کیلئے ایک بڑا چیلنج: ڈاکٹر ایس پی وید

کشمیری نوجوانوں کا ہتھیار اٹھانا ہم سب کیلئے ایک بڑا چیلنج: ڈاکٹر ایس پی وید

سری نگر ، جموں وکشمیر کے پولیس سربراہ ڈاکٹر شیش پال ویدنے کہا کہ کشمیریوں نوجوانوں کا جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کرنا ہم سب کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمولیت اختیار کرچکے نوجوانوں کو واپس لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ سال 2017 میں 70 سے 80 اور امسال مارچ تک 16 سے 17 نوجوان واپس اپنے گھر لوٹ آئے ہیں۔
پولیس سربراہ نے کہا کہ سرحد پار بیٹھے بقول ان کے ’امن کے دشمن‘ کشمیری نوجوانوں کو اکسا رہے ہیں کہ ’بندوق واحد حل ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری نوجوان بقول اُن کے اِن شیطانی مہمات سے متاثر ہوکر ہاتھوں میں اسلحہ اٹھا رہے ہیں۔ ایس پی وید نے ان باتوں کا اظہار این ڈی ٹی وی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کیا ہے۔ انہوں نے عالمی شدت پسند تنظیم ’داعش‘ کو ایک خطرناک آئیڈیالوجی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے عالمی سطح پر نوجوان متاثر ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر کوئی الگ جگہ نہیں ہے بلکہ اسی دنیا کا حصہ ہے۔ ڈاکٹر وید نے کشمیری نوجوانوں کے جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کرنے کے رجحان پر کہا ’یہ ہم سب بشمول کشمیری سماج کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ہم لوگوں کے ساتھ کام کررہے ہیں تاکہ ان نوجوانوں کو اپنے گھروں میں واپس لایا جاسکے۔ بدقسمتی سے کچھ کیسوں میں ہم کامیاب نہیں ہوپائے ہیں لیکن ہم ان میں سے کئی ایک کو واپس لانے میں کامیاب ہوچکے ہیں‘۔
انہوں نے اس رجحان میں اضافے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ’گذشتہ برس وادی بالخصوص جنوبی کشمیر سے نوجوانوں کی ایک خاصی تعداد نے جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی۔ یہ ہر ایک بشمول کشمیر کی سول سوسائٹی کے لئے چیلنج ہے‘۔ پولیس سربراہ نے تاہم کہا کہ شمولیت اختیار کرچکے نوجوانوں کو واپس لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا ’گذشتہ برس ہم اُن گھرانوں کے قریبی رابطے میں رہے جن کے بچوں نے جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ہم نے 75 سے 80 نوجوانوں کو واپس لانے میں کامیابی حاصل کی۔ اس سال بھی مختلف گھرانوں کی اپیلوں بالخصوص ماؤں کی اپیل پر 16 سے 17 لڑکے واپس اپنے گھروں کو لوٹ آئے۔ کم از کم اتنے نوجوانوں اور ان کے گھرانوں کو بچایا گیا۔ ان کو تباہی سے بچایا گیا۔ تشدد ہمیں صرف اذیت اور درد دیتا ہے‘۔
ایس پی وید نے کہا کہ سرحد پار پاکستان میں بیٹھے بقول ان کے ’امن کے دشمن‘ کشمیری نوجوانوں کو اکسا رہے ہیں کہ ’بندوق واحد حل ہے‘۔ انہوں نے کہا ’سرحد کے اُس پار بیٹھے امن کے دشمن اِن لڑکوں کو اکسا رہے ہیں کہ بندوق اٹھانا واحد حل ہے۔ ان کی برین واشنگ کی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے کچھ لڑکے اِن شیطانی مہموں سے متاثر ہوجاتے ہیں‘۔ ڈاکٹر وید نے ’داعش‘ کو ایک خطرناک آئیڈیالوجی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے عالمی سطح پر نوجوان متاثر ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’داعش ایک خطرناک آئیڈیالوجی ہے۔ پوری دنیا میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس آئیڈیالوجی سے متاثر ہوئی ہے۔ کشمیر کوئی مختلف جگہ نہیں ہے، یہ بھی اسی دنیا کا حصہ ہے۔ کچھ لڑکے متاثر ہورہے ہیں۔ ہمارے پاس ایک لڑکا تلنگانہ سے آیا تھا۔ بدقسمتی سے اس آئیڈیالوجی نے پورے دنیا میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو متاثر کیا ہے۔ ہمارے یہاں بھی کچھ لڑکے اس آئیڈیالوجی سے متاثر ہوئے ہیں‘۔
پولیس سربراہ نے مسلح تصادموں کے مقامات پر ہونے والے پتھراؤ کو بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ’مسلح تصادموں کے مقامات پر نوجوانوں کا پتھراؤ کرنا اور ہلاک ہونا دردناک ہے۔ ہم نوجوانوں سے مسلسل یہ اپیل کرتے آئے ہیں کہ وہ مسلح تصادموں کے مقامات پر نہ آئیں۔ ہماری اپیل کسی حد تک رنگ بھی لائی ہے۔ کئی ایک مسلح تصادموں کے مقامات پر کوئی پتھراؤ نہیں ہوا۔ شوپیان کے کچھ ڈورو میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد پتھراؤ کی مرتکب ہوئی۔ گولیاں جب چلائی جاتی ہیں تو وہ کسی کو بھی لگ سکتی ہیں۔ یہ بہت دور تک چلی جاتی ہیں۔ بدقسمتی سے کچھ ڈورو میں تین قیمتی جانیں ضائع ہوئیں‘۔ انہوں نے آنے والے موسم گرما کے پرامن ثابت ہونے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ’میں امید کرتا ہوں کہ موسم گرما ایک پرامن سیزن ثابت ہوگا۔ ہمیں توقع ہے کہ سیاحوں کی ایک بڑی تعداد کشمیر آئے گی۔ جہاں اتوار کو جنوبی کشمیر میں تین جگہوں پر مسلح تصادم چل رہے تھے، وہیں لاکھوں سیاحوں نے ٹیولپ گارڈن کا دورہ کیا۔ مغل باغات کے باہر دو کلو میٹر طویل قطاریں تھیں۔ یہ کشمیر کا دوسرا پہلو ہے‘۔ ایس پی وید نے جنوبی کشمیر کے حالیہ آپریشنوں کی منصوبہ بندی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا ’ہر کسی آپریشن کے لئے مناسب طریقے سے منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ آپریشن مناسب منصوبہ بندی کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتے ہیں‘۔
انہوں نے مزید کہا ’میں امید کرتا ہوں کہ ان آپریشنوں کے ذریعے وادی میں امن بحال ہوگا جس کی بے حد ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ گذشتہ دو سیزنوں کے دوران سیاحوں کے نہ آنے کی وجہ سے لوگوں کا نقصان ہوا ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ بہت جلد امن کی بحالی ہوگی‘۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: