سرورق / خبریں / کشمیریوں کو جیلوں میں بھرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا: میرواعظ عمر فاروق

کشمیریوں کو جیلوں میں بھرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا: میرواعظ عمر فاروق

سری نگر ، حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق نے کہا کہ کشمیریوں کو جیل خانوں میں بھرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وادی میں اب صحافیوں ، وکلاء ، بزنس کیمونٹی کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے حتیٰ کہ خواتین کو پابند سلاسل کرکے جیلوں میں بند کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے تمام سیاسی قیدیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جارحانہ حربوں سے نہ یہاں کی قیادت اور نہ یہاں کے عوام کو خوفزدہ کیا جاسکتا ہے اور نہ انہیں ڈرایا اور دھمکایا جاسکتا ہے ۔
میرواعظ نے ان باتوں کا اظہار سری نگر کی مرکزی و تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ سے قبل نمازیوں کے ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ بتادیں کہ جامع مسجد سری نگر میں آج دو ہفتوں کے بعد نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی۔ میرواعظ نے حکمرانوں کی جانب سے مرکزی جامع مسجد پر بار بار کی قدغن ، نماز کی ادائیگی پر پابندی، شہر خاص کو مقفل کرنے ، بندشیں اور رکاوٹوں کے نفاذ کو ایک لاحاصل مشق قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے حربوں سے حق و انصاف پر مبنی تحریک کو دبایا نہیں جا سکتا اور اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ رکاوٹوں ، ظلم وتشدد اور فوجی قوت کے بل پر یہاں کے عوام کے جذبات اور احساسات کو ختم کیا جاسکتا ہے تو بقول ان کے بھارت کے ارباب سیاست کو چاہئے کہ وہ انگریزوں کے خلاف اپنی تحریک آزادی کا مطالعہ کریں اور اس سے سبق حاصل کریں کہ کیا قدغنوں، بندشوں اور رکاوٹوں سے کسی قوم کی تحریک آزادی کو آج تک دبایا جاسکا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ سینکڑوں کی تعداد میں کشمیری سیاسی نظر بند بھارت کی مختلف ریاستوں کی جیلوں میں مقید ہیں اور ان میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو گزشتہ ۱۵ اور ۲۰ برسوں سے ایام اسیری کاٹ رہے ہیں ۔ حریت چیئرمین نے اپنے خطاب میں کہا کہ تحقیقاتی ایجنسیوں جیسے این آئی اے اور ای ڈی نے جن حریت پسند رہنماؤں کو گرفتار کیا ہے ان کی مدت قید کو ایک سال مکمل ہونے والا ہے لیکن اتنی مدت گزر جانے کے باوجود ان لوگوں کے خلاف کچھ بھی ثابت نہیں کیا جاسکا ہے ۔ انہوں نے کہا ’ان لوگوں کے خلاف جو چارج شیٹ تیار کی گئی ہے اور جن بے بنیاد اور من گھڑت الزامات میں پھنسا کر انہیں جیلوں میں بند کردیا گیا ہے اس کو دیکھ کر ہنسی آتی ہے‘ ۔
میرواعظ نے کہا کہ اب صحافیوں ، وکلاء ، بزنس کیمونٹی کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے حتیٰ کہ خواتین کو پابند سلاسل کرکے جیلوں میں بند کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا ’ کیا حکومت یہ سمجھتی ہے کہ یہاں کی مزاحمتی قیادت اور کارکنوں کو جیلوں میں بھرنے سے عقوبت خانوں میں بند کرنے سے تحریک دب سکے گی ؟ان حربوں سے یہ مسئلہ حل ہونے والا نہیں ۔ یہ سب انتقام گیری کے حربے ہیں ، این آئی اے اور ای ڈی ور دوسری ایجنسیوں کے ذریعہ برابر یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ یہاں کی تحریک سپانسرڈ ہے اور روپے کا لالچ دیکر یہاں کے لوگوں کو اکسایا جارہا ہے ۔ یہ تاثر غلط ہے ، ہمارے بہت سے لوگ جیلوں میں بند ہیں، حریت کانفرنس کی جملہ سرگرمیوں پر پابندیاں عائد ہے ۔ ہماری پر امن سیاسی اور تحریکی سرگرمیوں پر قدغنیں عائد ہیں ۔ کیا اس ایک سال کے دوران یہاں کے حالات خراب نہیں ہوئے؟ اصل میں یہ تحریک یہاں کے عوام کے دلوں اور جذبوں میں رچی بسی ہے اور اب یہ تحریک یہاں کی چوتھی نسل کو منتقل ہو چکی ہے‘ ۔
میرواعظ نے کہا کہ حکومت ہندوستان کو حقائق کا اعتراف کرنا چاہئے کیونکہ بقول ان کے آج بھارت میں حکومت سے باہر کی جماعتیں بھی سرکاری ایجنسیوں پر سوالات اٹھا رہے ہیں اور بہ بانگ و دہل یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ ایجنسیاں حکومت کے کنٹرول میں ہے اور ان ایجنسیوں کو سیاسی مفادات کے حصول کے لئے استعمال کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری مزاحمتی قیادت اور عوام کوڈرانے ، دھمکانے یا این آئی اے کی وساطت سے نوٹس اجرا کرنے سے دبایا نہیں جاسکتا اور ان حربوں سے ہم خوفزدہ نہیں ۔ میرواعظ نے جیلوں میں مقید کشمیری حریت پسند رہنماؤں شبیر احمد شاہ، الطاف احمد فنتوش، ایڈوکیٹ شاہد الاسلام، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال ، نعیم احمد خان، فاروق احمد ڈار ، شاہد یوسف، آسیہ اندرابی ، فہمیدہ صوفی، نائید نسرین ،تاجر ظہور وٹالی اور دوسرے سینکڑوں محبوس حریت پسندوں کے عزم اور حوصلے کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ جیلوں میں ان لوگوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہہ ہے اور ان لوگوں کو پیشہ ور مجرموں کے ساتھ رکھا جارہا ہے اور جیلوں میں ان کو شدید عتاب اور عذاب کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
میرواعظ نے ان قیدیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جارحانہ حربوں سے نہ یہاں کی قیادت اور نہ یہاں کے عوام کو خوفزدہ کیا جاسکتا ہے اور نہ انہیں ڈرایا اور دھمکایا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا’ ہم اپنی حق و انصاف سے عبارت جدوجہد سے دست بردار نہیں ہوں گے اور حصول مقصد تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی‘۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: