سرورق / خبریں / کسانوں کی حالت سدھارنے کے لئے حکومت اپنے عہد پر قائم : مودی

کسانوں کی حالت سدھارنے کے لئے حکومت اپنے عہد پر قائم : مودی

شاہ جہاں پور، وزیر اعظم نریندر مودی نے آج یہاں کسان ریلی میں کسانوں کو بدحالی سے نکالنے کا عزم دہراتے ہوئے کہا کہ بدعنوانی کی دلدل میں پھنسی سابقہ حکومت کی وجہ سے استحصال کا شکار کسانوں کی حالت سدھارنے کے سمت میں حکومت تیزی سے کام کررہی ہے۔

مسٹر مودی نے کہا ’’ میرا گناہ یہی ہے کہ میں بدعنوانی کے خلاف لڑ رہا ہوں۔ خاندانی سیاست کے خلاف پوری طاقت سے کھڑا ہوں۔ ہم نے عہد کیا ہے کہ جن لوگوں نے یہاں کے لوگوں کو اٹھارہویں صدی میں جینے کے لئے مجبور کردیا ہم اسے بدل کر رکھ دیں گے۔ ہم جلد ہی تمام گھروں تک بجلی پہنچاکر رہیں گے۔ ہم نے بچولیوں اور مفت خوروں کا دھند ہ بند کروادیا ہے ۔ایسے میں وہ ہمیں ہٹانا چاہتے ہیں۔‘‘

وزیر اعظم نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک ایسے نہیں پیش کی جاتی ہے ۔ جب 90ہزار کروڑ روپے ادھر ادھر جانا بند ہوجاتے ہیں تب پیش کی جاتی ہے۔ ملک کے عوام عدم اعتمادظاہرکرنے والوں کے گھمنڈ کو چور چور کردیتے ہیں ۔ کچھ لوگ ہماری برائی کررہے تھے ۔ ہمار ے کام کا حساب مانگ رہے تھے۔

اپوزیشن اتحاد پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا’’ جب دل کے ساتھ دل ہو تو دلدل ہوجتا ہے اور جتنا زیادہ دلدل ہوتا ہے اتنا ہی کمل کھلتا ہے۔ وہ اپنے مستقبل کا اندازہ لگانے کے لئے عدم اعتماد کی تحریک لائے لیکن ان کا اندازہ غلط تھا کیوں کہ ملک بدل چکا ہے ۔ یہاں بیٹیاں اب جاگ چکی ہیں۔ اب ان کا فارمولہ کام نہیں آنے والا ہے۔ سائیکل ہو یا ہاتھی کسی کو بھی اب بنائیں ساتھی ، لیکن آپ کے ڈرامے کو عوام جان چکے ہیں۔
مسٹر مودی نے کہا کہ ان کی حکومت نے گاوں اور کسانوں کی حالت سدھارنے کا عہد کیا اور اس میں کافی حد تک کامیابی بھی ملی ہے۔ ملک کی آٹھ کروڑ دلت محروم خواتین کو گیس کا کنکشن مفت میں دیا گیا ۔ غریبوں کو ان کا اپنا چھت دینے کا کام کیا جارہا ہے ۔ اس مرتبہ پہلے کے مقابلے چھ گنا زیادہ گیہوں کی خریداری کی گئی ہے ۔ اب کسانوں کو وقت پر مناسب قیمت مل رہی ہے۔
سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کا نام لئے بغیر مسٹر مودی نے کہاکہ پہلے ایک وزیر اعظم نے کہا تھا کہ مرکز سے ایک روپیہ نکلتا ہے تو غریبوں تک پندرہ پیسہ پہونچتا ہے ۔ ہم پوچھتے ہیں اس وقت ملک میں صرف انہی کی حکومت تھی پھر بھی کون سا پنجہ پیسہ کھاجاتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ چودہ فصلوں کی امدادی قیمت تقریباً چار گنا بڑھادی گئی ہے ۔ دھان ، مکئی، دل اور تیل والی چودہ فصلوں کی سرکاری قیمت میں دو سو روپے سے اٹھارہ سو روپے کا اضافہ تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا ہے۔ حال ہی میں حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اب گنے پر لاگت قیمت کے اوپر اسی فیصد براہ راست فائدہ کسانوں کو ملے گا۔
کانگریس پر بالواسطہ حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’یہ کام تو وہ بھی کرسکتے تھے جو مگرمچھ کے آنسو بہارہے ہیں لیکن ان کو کسانوں کی فکر نہیں تھی ۔ ہماری حکومت نے طے کیا ہے کہ اس مرتبہ آپ جو گنا فروخت کریں گے اس کی منافع قیمت بیس روپے بڑھا 275 روپے فی کوئنٹل کردیا جائے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: