سرورق / خبریں / کرناٹک اسمبلی انتخابات 2018 : ذات پات کی بنیاد پر ملے گی پارٹی کو جیت –

کرناٹک اسمبلی انتخابات 2018 : ذات پات کی بنیاد پر ملے گی پارٹی کو جیت –

کرناٹک اسمبلی انتخابات کے لئے پارٹیاں اپنے امیدواروں کی فہرست کو پورا کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔ پارٹیوں کے انتخابی ایجنڈے اب بڑے ایشوز سے تبدیل ہو کر چھوٹے ایشوز کی جانب ہو گئے ہیں۔ یہاں ایک طرف کانگریس ، بی جے پی اور جے ڈی ایس تینوں ہی اقتدار میں آنے کا دعویٰ کر رہی ہیں۔ وہیں دوسری جانب ان پارٹیوں کے لیڈران اور سیاسی تجزیہ کار انتخابات کے بعد کے امکانات پر بات کر رہے ہیں۔
کرناٹک جیسی ریاست میں جہاں ذات پات کا اپنا الگ ہی حساب ہے وہاں ہر بحث کاسٹ تجزیہ کار پر جا کر ختم ہوتی ہے۔ وزیر اعلی ٰ سدارمیا اور کانگریس دوبارہ حکومت بنا نے کو لے کر پر اعتماد ہیں ۔ وہیں بی جے پی کو جیت کی پوری امید ہے اور اس کے پاس اپنا الگ ڈیٹا ہے۔ وہیں جے ڈی ایس اقتدار میں آنے کے لئے پوری کو شش میں ہے او ر اس کی اپنی الگ اعداو شمار ہیں۔

پہلا امکان
کانگر یس دوبارہ انتخابات جیتے۔ انتخابات جیتنے کے لئے کانگریس کو کم سے کم 40 فیصد ووٹ حاصل کرنا ہوگا اور اس کے لئے اسے بی جے پی کو 35 اور جے ڈی ایس کو 20 فیصد پچھاڑنا ہوگا۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سدارمیا کے خلاف اپر کاسٹ ووٹرس بڑی تعداد میں بندھتے ہیں تو انہیں اپنے کور ووٹ بینک (اقلیت، پسماندہ طبقات اور دلت )کو مضبوط کرنا ہوگا ۔’لیکڈ ‘ کاسٹ سنسر کے مطابق کرناٹک میں اپر کاسٹ کےقریب 35 فیصد ووٹرس ہیں اور ایس ٹی کو ملا کر اہندا ووٹر 60 فیصد ہیں۔ لیکن اس سے کانگریس کی منزل آسان نہیں ہوگی کیوں کہ اس گروپ میں مختلف ذاتیں اورعقائد کے ماننے والے لوگ ہیں۔ صرف اوبی سی کی 99 ذاتیں ہیں ۔سدارمیا کی ذات کوروبا ریاست کی آبادی کا 7 فیصد ہے اور او بی سی کا 30 فیصد ہے۔ سداار میا نے کہا کہ تمام ذاتیں اور مذاہب کانگریس کو ہی ووٹ کریں گے۔ سبھی کے اپنی نظریات ہیں اور یہ کہنا غلط ہوگا کہ ایک خاص ذات ہی کسی خاص پارٹی کے لئے ووٹ کرتی ہے۔ کانگریس سب کی ہے ہم نے آہندہ کے لئے کافی کچھ کیاہے۔ میں یہ کہتے ہوئے فخر محسوس کرتا ہوں کہ میں ایک آہندہ ہوں لیکن میں مختلف ذاتوں اور خاص طور پر اپر کاسٹ کے خلاف نہیں ہوں۔ ‘‘
سیاسی ماہرین کہتے ہیں کہ اگر دو تہائی اہندہ ووٹرس کانگریس کی حمایت کرتے ہیں تو اپر کاسٹ کا تھوڑا ووٹ بھی کانگریس کو انتخابات میں جیت دلا دیگا۔

دوسرا امکان
بی جے پی حکومت بناتی ہے: بی جے پی کا اہم ووٹ بینک لنگایت ہیں جن کی ریا ست میں 14 فیصد آبادی ہے۔ کچھ لنگایت تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ وہ 17 فیصد سے ذیادہ ہیں۔ لنگایت کے الگ مذہب کی مانگ اور کانگریس کے ان کو حمایت دینے سے معاملہ تھوڑا پیچیدہ ہو گیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ دیگر لنگایت اب بی جے پی کو اپنی پارٹی نہیں مانتے ہیں اور وہ کانگریس کے لئے ووٹ کر سکتے ہیں ۔ لیکن بی جے پی کو یقین ہے کہ لنگایت کا زیادہ تر ووٹ بی جے پی کو ہی ملیگا۔ اگر بی جے پی او بی سی ،دلت اور ایس ٹی ووٹوں کو تقسیم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے اور لنگایت اور دیگر اپر کاسٹ ووٹرس کا ساتھ اسے ملتا ہے تو بی جے پی جیت سکتی ہے ۔ یہ سچ ہے کہ بی جے پی کو گزشتہ 15 سالوں سے او بی سی اور دلتوں کی مختلف ذاتوں کی حمایت ملتی آ رہی ہے۔ تاہم لنگایت ووٹوں میں کمی ، کچھ او بی سی اور دلت ووٹ سے بی جے پی کا جیتنا مشکل ہے ، نہیں تو بی جے پی کو ریا ست میں پھر سے موقع مل سکتا ہے۔

تیسرا امکان
جے ڈی ایس کامیا ب ہوتی ہے: اس کے لئے جے ڈی ایس کو اپنے کور ووٹ بینک کو اپنے وکالیگا کے علاوہ دیگر ووٹوں کی بھی ضرورت ہوگی‘ ’لیکڈ ‘ کاسٹ سنسس کے مطابق کرنا ٹک میں وکالیگا صرف 11 فیصد ہیں ۔ جب کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی آبادی 15 سے 16 فیصد ہے۔وکالیگا برادری کی حمایت سے جے ڈی ایس کافی سیٹیں جیت سکتی ہے۔لیکن 40 سیٹوں سے ذیادہ پانے کے لئے گوڑا کی پار ٹی نون ۔گوڑا ذاتوں اور اقلیتی ووٹوں کی ضرورت ہوگی ۔ 2004 میں جے ڈی اسی نے 58 سیٹیں جیتی تھیں تب او بی سی دلت اور مسلم ووٹرس کی مدد سے وہ کامیاب ہوئے تھے۔تب سدارمیا ان کے ساتھ تھے۔ کانگریس ، بی جے پی اور جے ڈی ایس کے درمیان او بی سی ، دلت اور اقلیتوں کے ووٹ تقسیم سے ایک معلق اسمبلی بن سکتی ہے۔ سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا سیاست میں قابض رہنے کے لئے اس کی امید کر رہے ہیں

چوتھا امکان
کانگریس یا بی جے پی کو 100یا 90 سے زیادہ سیٹیں مل سکتی ہیں۔ دوسرے نمبر پر آنے والی پارٹی پہلی سے زیادہ پیچھے نہیں ہوگی لیکن تیسری پارٹی جے ڈی ایس سے کافی آگے ہوگی اور ایسا تب ہی ہوگا جب اپر کاسٹ ، دلت اور او بی سی کے ووٹ کانگریس اور بی جے پی میں برابر تقسیم ہو جائیں اور جے ڈی ایس کو بڑی تعداد میں نون۔وکولیگا ووٹ نہ ملے ایسے میں جے ڈی ایس بہت کمزور ہو جائگا اور وہ پھر کسی ایک پارٹی کی جانب بھی جا سکتا ہے۔
لیکن ایک بات طے ہے کہ سیاسی ماہرین اور لیڈر نتائج کے دن تک ان امکانات پر مباحثہ کریں گے اور بعد میں اسی ذاتی مساوات کی بنیاد پر انتخابات کا پوسٹ مارٹم کریں گے۔

 

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: