سرورق / خبریں / کرناٹک اسمبلی انتخابات: ریڈی برادران کے ذریعہ بی جے پی کو ہوسکتا ہے فائدہ –

کرناٹک اسمبلی انتخابات: ریڈی برادران کے ذریعہ بی جے پی کو ہوسکتا ہے فائدہ –

بنگلور: کرناٹک میں آئندہ ماہ ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لئے بی جے پی کی دوسری فہرست میں بلّاری کے گلی سوم شیکھر ریڈی کو ٹکٹ ملنے سے ان کے بڑی بھائی گلی جناردن ریڈی کافی انتہائی خوش ہیں۔ اپنے قریبی دوستوں کے ساتھ ملاقات میں اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوٹنے والے ہیں اور ان کی یہ دوسری اننگ بہت اچھی ثابت ہو گی۔ جناردن ریڈی کے قریبی ذرائع کے مطابق اس میٹنگ کے کچھ ہی منٹ بعد انہوں نے بی جےپی کے ریاستی لیڈران کو فون کیا اور ریڈی خاندان کے تین افراد کو ٹکٹ دینے کے لئے شکریہ ادا کیا۔
ابھی ایک ماہ کی بات ہے، ریڈی برادران کے سیاسی مستقبل کو لے کر پس وپیش کا معاملہ تھا اور بی جے پی ہائی کمان بھی کرناٹک اسمبلی انتخابات میں ان کو رول دیئے جانے پر خاموش بیٹھا تھا۔ وہیں دو ہفتہ قبل بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ نے ایک پریس کانفرنس میں بھی کہا تھا کہ بی جے پی کے ریڈی برادران سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
امت شاہ کے اس بیان کو ریڈی برادران کے سیاسی خاتمہ کی طرح دیکھاجارہا تھا اور اس سے پریشان ریڈی کنبہ بھی اپنے مستقبل پر بحث کرنے میں مصروف ہوگئے تھے۔ ان میں سے کچھ نے تو کانگریس اور جے ڈی ایس سے بھی رابطہ شروع کردیا تھا۔ حالانکہ اسی درمیان ریڈی برادران کے قریبی دوست اور بلّاری سے ممبرپارلیمنٹ شری را ملوپردے کے پیچھے کام کرتے رہے اور پارٹی ہائی کمان کو ریڈی برادران کو مزید ایک موقع دینے کےلئے راضی کرلیا۔
شری راملو کرناٹک میں ایک مضبوط لیڈر تسلیم کئے جاتے ہیں اور ریاست کے تین اضلاع چتردرگا، بلّاری اور رائے چور میں ان کی اچھی گرفت ہے۔ پارٹی کے داخلی ذرائع کے مطابق بی جے پی نہیں چاہتی ہے کہ ریڈی برادران کو ناراض کرکے وہ یہ سیٹیں گنوا دے۔ شاید یہی وجہ رہی کہ پارٹی نے سوم شیکھر ریڈی کے علاوہ ان کے قریبی سنا فکیرپا کو بھی بلّاری دیہی سیٹ سے ٹکٹ دیا ہے۔ سوم شیکھر کو بی جے پی سے بلّاری شہر سے ٹکٹ دیاگیا ہے، جہاں کانگریس کے موجودہ ممبراسمبلی انل لاڈ کو 2008کے اسمبلی انتخابات میں انہوں نے 1000ووٹوں کے فرق سے شکست دی تھی۔
ریڈی برادران حالانکہ ان الزامات سے بے پرواہ نظر آئے۔ تقریباً 50,000کروڑ روپئے کے مبینہ کانکنی گھوٹالہ کے الزام میں حیدرآباد اور بنگلور کے اضلاع میں تقریباً 4سال بند رہے گلی جناردن ریڈی عوامی زندگی سے تقریباً لاپتہ ہی ہوگئے تھے۔ وہیں سپریم کورٹ نے بھی ریڈی برادران کو اپنی ریاست میں داخلہ پر پابندی عائد کرکے ان کی مشکلوں میں مزید اضافہ کردیا تھا۔ 5-6سالوں میں ان کے دشمنوں نے علاقے میں اپنی پکڑ بنالی تھی۔ ایسے میں ریڈی شری را ملو کو چھوڑ کر ریڈیوں کا پورا کنبہ سیاست سے باہر تھا، جس سے ان کا مستقبل تاریک نظر آرہا تھا۔حالانکہ گذشتہ دوماہ کے دوران ہوئے سیاسی اتھل پتھل نے ان کو اپنی سیاسی زندگی بنانے کے لئے ایک موقع اور دے دیا ہے۔
کرناٹک میں 2013میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے دوران ریڈی جیل میں تھے اور ان کا “مائننگ ایمپائر” خطرے میں پڑا تھا۔ بی جے پی نے بھی انہیں پارٹی سے بے دخل کردیا تھااور ان کے قریبی بی شری راملو نے بی ایس آر کانگریس نام سے اپنی علیحدہ پارٹی بنالی تھی، جس نے اس الیکشن میں تین سیٹوں پر جیت حاصل کی تھی۔ وہیں 2014آنے سے قبل بی جے پی سے الگ ہوئے دونوں فریق یدی یورپا، کے جے پی اور دوسرا بی ایس آر کانگریس بی جے پی میں لوٹ آئے اور اس کے بعد ہوئے لوک سبھا الیکشن میں ریاست کی 28سیٹوں میں سے 17پر کمل کھلانے میں مدد کی۔
سپریم کورٹ نے جناردن ریڈی کے بلّاری میں گھسنے اور میڈیا سے ان کی بات چیت پر پابندی عائد کررکھی ہے۔ ریڈی نے دو ہفتے قبل سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرکے بلّاری میں ان کے داخلہ پر عائد پابندی کو ہٹانے کا مطالبہ کیاتھا، لیکن عدالت عظمیٰ نے اس سے انکار کردیا۔
دوسری طرف ریاست میں ریڈی برادران کی واپسی کا بی جے پی کے جنرل سکریٹری سی ٹی روی نے بچائو کیاہے۔ انہوں نے نیوز 18سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ریاست میں اسمبلی کی224سیٹیں ہیں، ہر سیٹ کافی اہم ہے، ریڈی ہمیں کچھ سیٹوں پر مدد کررہے ہیں، اس میں کچھ غلط نہیں ہے۔
دراصل ریڈی برادران کو خوف ہے کہ کانگریس اگر اقتدار میں دوبارہ آئی تو ان کے سلطنت کی بربادی طے ہے اور یہی وجہ ہے کہ کرناٹک کے اس جنگ میں بی جے پی اور ریڈی دونوں ہی اپنی شناخت برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: