سرورق / خبریں / کرناٹک اسمبلی انتخابات : بی جے پی کی حکومت سازی کی راہیں مشکل ، کانگریس- جے ڈی ایس آئے ساتھ –

کرناٹک اسمبلی انتخابات : بی جے پی کی حکومت سازی کی راہیں مشکل ، کانگریس- جے ڈی ایس آئے ساتھ –

بنگلورو، گوااور منی پور کے واقعات سے سبق لیتے ہوئے کانگریس نے کرناٹک اسمبلی انتخابات کے رجحانات کی بنیاد پر ہی جنتادل ایس کو نئی حکومت تشکیل دینے کے لئے حمایت کا اعلان کردیا۔
کانگریس جنرل سکریٹری غلام نبی آزاد نے آج یہاں یہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جنتادل ایس کے رہنما ایچ ڈی دیوے گوڑا اور انکے بیٹے ایچ ڈی کمارسوامی کے ساتھ اس بارے میں ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی ہے اورانھوں نے کانگریس کی طرف سے حمایت دینے کی تجویز قبول کرلی ہے ۔
انھوں نے کہا کہ شام کودونوں پارٹیوں کے رہنما گورنر وجو بھائی والا سے ملکر ریاست میں نئی حکومت بنانے کا دعوی پیش کریں گے ۔
کانگریس نے سب سے بڑی پارٹی کے طورپر ابھری بھارتیہ جنتاپارٹی کو حکومت بنانے سے روکنے کےلئے جنتادل ایس کو حمایت دینے کا اعلان کیا ۔گوااور اور منی پور میں سب سے بڑی پارٹی ہونے کے باوجود کانگریس حکومت نہیں سکی تھی کیونکہ بی جےپی نے اس سے پہلے ہی دوسری پارٹیوں کو اپنے ساتھ ملاکر اکثریت ثابت کردی تھی ۔
مسٹر آزادنے کہا ،’’ہم نے مسٹر دیوے گوڑا جی اور مسٹر کمار سوامی کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کی ہے ۔انھوں نے ہماری تجویز قبول کرلی ہے ۔ہم نے جنتادل ایس سے حکومت کی قیادت کرنے کو کہاہے ۔ہم دونوں کی سیٹیں بی جےپی سے زیادہ آرہی ہیں ۔‘‘انھوں نے کہا کہ دونوں پارٹیاں شام کو گورنرسے ملکر حکومت بنانے کا دعوی پیش کریں گی ۔وزیرا علی کون ہوگا یہ فیصلہ جنتادل (ایس)کے لیڈر مسٹر دیوے گوڑا اور مسٹر کمار سوامی کریں گے ۔
کانگریس نے جب یہ اعلان کیا تو اس وقت نتائج اور رجحانوں کی بنیاد پر بی جےپی 104سیٹوں پر آگے تھی جبلہ کانگریس 76سیٹوں پر اور جنتادل ایس 39سیٹوں پر سبقت لئے ہوئے تھی ۔نتائج صرف 112سیٹوں کے ہی آئے تھے جن میں 64بی جے پی کے حق میں ،33کانگریس کے اور 14جنتادل ایس کے حق میں تھے ۔
حمایت کا اعلان کرنے کے موقع پر مسٹر آزاد کے ساتھ رخصت پزیر وزیر اعلی سدارمیا ،پارٹی کے سینئر لیڈر ملک ارجن کھڑگے ،اشوک گہلوت اور کرناٹک کانگریس کے ریاستی صدر جی پرمیشور بھی موجودتھے ۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: