سرورق / خبریں / کتاب دیکھ کر امتحان لکھنے کا طریق�ۂکار زیر غور پہلی تا 5ویں جماعت اوپن بک ایگزام، پرائمری مرحلہ میں انگریزی تعلیم لازمی: مہیش

کتاب دیکھ کر امتحان لکھنے کا طریق�ۂکار زیر غور پہلی تا 5ویں جماعت اوپن بک ایگزام، پرائمری مرحلہ میں انگریزی تعلیم لازمی: مہیش

چامراج نگر: پہلی جماعت تا 5ویں جماعت کے پرائمری اسکول طلبہ کے لئے کتاب دیکھ کر امتحان لکھنے کا طریقہ کار اور انگریزی زبان کی ابتدائی جماعتوں میں ہی خواندگی کا طرز متعارف کروانے کے لئے غور وفکر ہو رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ریاستی وزیر تعلیم برائے پرائمری و ہائی اسکول این مہیش نے کیا۔ شہر میں تمام طبقات کے طلبہ کے لئے منعقدہ پرتیبھا پرسکار (امتیازی اعزاز) تقریب میں خطاب کرتے ہوئے ریاستی مخلوط حکومت میں شامل ایس پی کے رکن اسمبلی مہیش نے کہاکہ یونیورسل، پرائیویٹ اور آؤٹ لیٹ کے اس تیز رفتار زمانہ میں پرائیویٹ شعبوں میں سب سے زیادہ روزگار کے مواقع دستیاب ہورہے ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر میں روزگار حاصل کرنے کیلئے انگریزی بات چیت ضروری ہے۔ بات چیت کے علاوہ انگریزی میں مہارت بھی لازمی ہے۔ اس اعتبار سے طلبہ کو انگریزی کی معیاری تعلیم فراہم کرتے ہوئے برسرروزگار کرنے کی کوشش ہونی چاہئے۔ اس بات کے پیش نظر ابتدائی جماعتوں میں انگریزی تعلیم کو لازمی کرنے پرغور کیا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پرائمری مرحلہ میں کتابیں بند کر کے امتحان لکھنے کا رواج چل رہا ہے۔ یہ غیر سائنٹفک طریقہ ہے۔ اس طریقہ کار سے بچوں کو مجرمانہ جذبہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اور چوروں کی مانند ان کی کڑی نگرانی کی جاتی ہے۔ اس لئے یہ طریقہ غیر معقول ہے، کتابیں دیکھ کر امتحان لکھنے کے طریقہ کار سے بچوں میں مکالمہ کی صفت بیدار ہوتی ہے۔ بات چیت میں یہ طریقہ مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اگر بچہ کسی سوال کا جواب دینے سے قاصر ہے تو اس کو پاس میں بیٹھے دیگر بچوں سے پوچھ کر جواب لکھنے کا ماحول بنانا چاہئے۔اساتذہ کو چاہئے کہ وہ بچوں کو مکمل آزادی دیں، کتابیں دیکھ کر امتحان لکھتے وقت بچوں کو یہ اچھی طرح معلوم ہونے کا قوی امکان ہے کہ سوال کا درست اور صحیح جواب کیسے لکھا جاتا ہے۔ ایک مرتبہ ان طلبہ کو احساس ہوجائے تو دوسری بار وہ خود کتاب بند کر کے لکھنے پر آمادہ ہوں گے۔ اس ضمن میں علاقائی تعلیم افسر (بی ای او) تعلیمی ماہرین کے ساتھ کارگاہ کرتے ہوئے نظام تعلیم میں تبدیلی لانے پر غور کررہے ہیں۔ رکن پارلیمان آر دھروا نارائن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولتیں بالکل میسر نہیں ہیں۔ اس پر فوری توجہ دی جائے۔ اس سے پہلے سروا سکھشنا ابھیان اور راشٹریہ مادھیمک سکشھنا ابھیان کے تحت زیادہ سے زیادہ امداد دستیاب ہونی تھی۔ مگر اب مقدار میں کمی آگئی ہے۔ تعلیمی شعبہ کو حکومت کی جانب سے 22ہزار کروڑ روپئے امداد فراہم کی جاتی ہے۔ 22ہزار کروڑ مالی امدادکا 80فیصد اساتذہ کی تنخواہوں پر خرچ ہوجاتاہے۔ وزیر تعلیم کو چاہئے کہ وہ وزیر اعلیٰ سے درخواست کرتے ہوئے سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کریں۔ بنیادی ضرورتوں کیلئے زیادہ سے زیادہ مالی امداد کو یقینی بنائیں۔ وزیر برائے بہبودی پسماندہ طبقات سی پٹا رنگا شیٹی نے صدارتی خطاب کیا۔ پروگرام میں ڈاکٹر شیوکمار و دیگر اساتذہ شریک رہے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: