سرورق / خبریں / کانگریس کا مرکزی حکومت پر الزام، کہا، ایس سی / ایس ٹی قانون ختم کرنے کی سازش-

کانگریس کا مرکزی حکومت پر الزام، کہا، ایس سی / ایس ٹی قانون ختم کرنے کی سازش-

نئی دہلی، کانگریس نے آج الزام لگایا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور آرا یس ایس کی ذہنیت شیڈولڈ کاسٹ اور شیڈولڈ ٹرائب کو ہمیشہ اقتصادی اور سماجی طورپر کمزور کرنے کی رہی ہے اس لئے وہ اس طبقہ کے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے والے قانون کو ختم کرنے کی سازش کررہی ہے۔
کانگریس کے سینئر رکن آنند شرما، کماری شیلجہ ، احمد پٹیل، جیوترادتیہ سندھیا ، رندیپ سنگھ سرجے والا اور راج ببر نے پارلیمنٹ ہاوس کے احاطے میں نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے ذریعہ کل دئے گئے فیصلے سے ایس سی اور ایس ٹی زمرہ کے لوگوں کے حقوق پر حملہ ہوا ہے۔ حکومت کو اس سلسلے میں عدالت میں نظرثانی کی عرضی دائر کرنی چاہئے یا قانون میں ترمیم کرنا چاہئے۔
سپریم کورٹ نے منگل کو حکم دیا تھا کہ ایس سی اور ایس ٹی انسداد زیادتی قانون کے تحت ملزم کی گرفتاری سے قبل اعلی افسران سے اجازت لینی ہوگی۔
کانگریسی رہنماوں نے کہاکہ ان طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لئے کانگریس حکومت 1989 میں قانون لے کر آئی تھی لیکن مودی حکومت نے ایک سازش کے تحت اسے ختم کرنے کی کارروائی شرو ع کردی ہے۔
عدالت کے اس فیصلے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے مسٹر شرما نے کہا کہ کانگریس کی حکومتوں نے دلت اور قبائلیوں کے تحفظ کے لئے جو قانونی حصار قائم کیا تھا اسے نقصان پہونچایا جارہا ہے۔یہ افسوس ناک ہے اور اس سے سماج کے اس نچلے طبقے میں خوف اور خدشہ کا ماحول بن رہاہے۔ حکومت کو قوم کے مفاد اور سماج کے مفاد میں اس سلسلے میں نظر ثانی کرنی چاہئے۔ انہوں نے اس معاملے پر حکومت کی خاموشی پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس معاملے پر حکومت نے عدالت میں دلتوں کا موقف درست انداز میں پیش نہیں کیا۔
محترمہ شیلجہ نے کہا کہ یہ قانون دلتوں کے تحفظ کے لئے بہت ضرور ی ہے اورمودی حکومت اسے ختم کرنے کی سازش کررہی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس طویل عرصے سے ریزرویشن کے سسٹم کو ختم کرنے کا اشارہ دے رہے ہیں ۔ عدالت کا فیصلہ اسی سمت میں ایک قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدالت نے جس طرح سے فیصلہ دیا ہے اور حکومت نے اس معاملے میں اپنا موقف جس خراب انداز میں رکھا اس سے واضح ہے کہ مودی حکومت ریزرویشن ختم کرنا چاہتی ہے۔
مسٹر سندھیا نے کہا کہ آزادی کے وقت لیڈروں نے آئین میں ایسا نظم کیا ہے کہ سماج میں ہر شخص اپنا رول ادا کرسکے ۔اس کے لئے امن چین کا ماحول بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ مودی حکومت ایس سی ایس ٹی طبقہ کو کمزور کرنے کی مسلسل کوشش کررہی ہے ۔ اس طبقہ کے بہبود کے لئے اسکیموں میں بجٹ الاٹمنٹ کم کردی گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ کانگریس حکومتوں کے وقت جو اسکیمیں اور پروگرام اس سماج کے لئے بنائے گئے تھے ان کو کمزور کیا جارہا ہے۔ عدالت کا فیصلہ ایس سی ایس ٹی کوپریشان کرنے کا آغاز ہے۔ یہ ریزرویشن ختم کرنے کابھی اشارہ ہے۔ مودی حکومت نے دلتوں کے لئے بنائے گئے انصاف کے نظام کو توڑنے کی مہم شروع کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس طبقہ کو پہلے اقتصادی طور پر کمزور کرچکی ہے اور اب اس کی سازش ہے کہ اس طبقہ کو پھر سے سماجی طورپر ظلم و زیادتی کا شکار بنایا جائے۔
مسٹر سرجے والا نے کہا کہ ایس سی ایس ٹی سماج پر مودی حکومت کا یہ سب سے بڑا حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے مہاراشٹر حکومت اور مرکزی حکومت دونوں فریق تھے لیکن اس معاملے میں پوری طرح سے صرف خانہ پری کی گئی ہے ۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو نوٹس دیا تھا لیکن وہ نہیں پہنچے۔ سالسٹر جنرل بھی اس معاملے میں عدالت میں حاضر نہیں ہوئے اور صرف ایڈیشنل سالسٹر جنرل نے حکومت کا موقف رکھا۔ عدالت کا یہ فیصلہ دلت مخالف ذہنیت کی علامت ہے جو دلت سماج کے حقوق، عزت اور وقار پر حملہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ کانگریس دلتوں کے تحفظ کے لئے بنے قانون کو کمزور کرنے کی کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے کہاکہ مودی حکومت کے آنے کے بعد سے دلتوں پر زیاتی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور 2016 کے ایک اعدادو شمار کے مطابق ہر بارہ منٹ پر دلتوں پر زیادتی کا ایک واقعہ پیش آرہا ہے۔
کانگریس کے ترجمان نے کہا کہ مودی حکومت کے اب تک کے دور حکومت میں شیڈولڈ کاسٹ پر زیادتی کے معاملے پانچ فیصد تک بڑھے ہیں جب کہ شیڈولڈ ٹرائب پر اس طرح کے معاملے میں ساڑھے چار فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ زیادتی کے سلسلے میں جو معاملات درج ہوئے ہیں ان میں بیس فیصد ایس سی اور پچیس فیصد ایس ٹی معاملات میں ہی سزا ہوسکی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قانون کے غلط استعمال کی بنیاد پر قوانین کو ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ غلط استعمال کو روکنے کا کام جانچ ایجنسیوں کا ہے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: