سرورق / بین اقوامی / کانگریس: ری پبلکنز’الاخوان المسلمون‘ کو دہشت گرد تنظیم قراردینے کیلئے بے چین –

کانگریس: ری پبلکنز’الاخوان المسلمون‘ کو دہشت گرد تنظیم قراردینے کیلئے بے چین –

واشنگٹن، امریکی کانگریس کے ارکان ایک مرتبہ پھر الاخوان المسلمین تنظیم کو امریکی قوانین کے مطابق دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے لئے حرکت میں آ گئے ہیں۔ قومی سلامتی کی ذیلی پارلیمانی کمیٹی نے ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس کے درمیان واضح انقسام کے بیچ اس تجویز پر بحث کی۔مذکورہ کمیٹی کے سربراہ راس ڈیسانٹس کے مطابق الاخوان المسلمون تنظیم کی شاخیں 70 ملکوں میں موجود ہیں جن میں ایسی تنظیمیں بھی ہیں جن کو دہشت گرد قرار دیا جا چکا ہے۔ ڈیسانٹس نے سابق صدر باراک اوباما کی پالیسی ترک کر دینے پر ٹرمپ انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔ اوباما انتظامیہ نے الاخوان کے ساتھ اس طرح کا معاملہ کیا تھا کہ گویا وہ ایک ممکنہ حلیف ہو۔ امریکی وزارت خزانہ اکتوبر 2017 میں ایرانی پاسداران انقلاب کو ایک دہشت گرد تنظیم کا درجہ دے چکی ہے۔ اس کے نتیجے میں پاسداران اور اس کے ساتھ کام کرنے والوں پر پابندیوں کا دروزاہ کھل گیا۔ تاہم وزارت خارجہ کے ذریعے تنظیموں کو دہشت گرد قرار دئے جانے کی صورت میں ان تنظیموں اور ان کے ساتھ معاملہ بندی کرنے والوں کو زیادہ سخت سے قوانین اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان تنظیموں کی براہ راست یا بالواسطہ مدد کرنے والوں کو دہشت گرد تنظیم کو مادی سپورٹ فراہم کرنے کے الزام میں فوجداری عدالتی کارروائی کا سامنا ہوتا ہے۔ کمیٹی نے الاخوان المسلمون اور اس کی ذیلی تنظیموں کے امور کے متعدد ماہرین کی آراء کو سنا۔ ماہرین کے مطابق الاخوان ایک سیاسی اور مذہبی منصوبے پر کاربند ہے اور بنیادی طور پر اس کا مقصد بقیہ سیاسی تنظیموں کے معاند ہے۔ الاخوان امریکی سیاسی نظام کو مسترد کرتی ہے۔ تنظیم کی سوچ غیر ملکیوں کے لئے تعصّب پر مبنی ہے۔ امریکہ کو چاہئے کہ وہ ترکی اور قطر کے ساتھ اِن دونوں ممالک کی الاخوان تنظیم کے لئے سپورٹ کے حوالے سے بات کرے۔ یہ دونوں ممالک ایسی تنظیم کی حمایت کرتے ہیں جو امریکہ کے معاند اور اپنے طور پر شدت پسند ہے۔ ایک ماہر نے پوری الاخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم کا درجہ دینا دشوار قرار دیا۔ لہذا تجویز دی گئی کہ اس کی ذیلی اور زیر انتظام تنظیموں کو دہشت گرد قرار دیا جائے۔ وزارت خزانہ کو چاہئے کہ حالیہ پابندیاں سخت کرے اور ان ذیلی تنظیمیوں کی مدد کرنے والوں پر پابندیاں عائد کرے۔ کانگریس کے اس اجلاس نے ایک مرتبہ پھر الاخوان المسلمون کے حوالے سے امریکی سیاست دانوں کے انقسام کو ثابت کر دیا ہے۔ ریپبلکنز یہ سمجھتے ہیں کہ الاخوان المسلمون تنظیم ایک خطرہ ہے اور اس کی سرکوبی کے لئے تنظیم کے ساتھ سختی سے نمٹنا چاہئے۔ دوسری جانب ڈیموکریٹس الاخوان تنظیم کو تشدد سے بری قرار دینے کے واسطے کوشاں ہیں۔ ذیلی پارلیمانی کمیٹی میں شامل ایک سینئر ڈیموکریٹ اسٹیفن لِنچ نے خبردار کیا کہ الاخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم کا درجہ دینے کے امریکی قومی سلامتی پر اور بعض ممالک کے ساتھ تعاون پر بْرے اثرات مرتّب ہوں گے۔ انہوں نے اس سلسلے میں سابق امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کی گفتگو کا حوالہ دیا۔سابق صدر باراک اوباما کی انتظامیہ میں 2012 تک امریکی وزارت خارجہ میں انسداد دہشت گردی کے رابطہ کار کے طور پر کام کرنے والے سابق سفیر ڈینیل بنمجمین کے مطابق الاخوان المسلمون عالمی سطح پر خطرہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق الاخوان 70ء کی دہائی سے تشدد کا استعمال ترک کر چکی ہے۔ ڈینیل نے زور دیا کہ اس موقف کو بڑھاوا نہ دیا جائے کیوں کہ الاخوان کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے سے امریکہ مخالف جذبات میں اضافہ ہو گا۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: