سرورق / خبریں / کانگریس اور جے ڈی ایس کے درمیان اختلافات حل کرلئے جائیں گے:پرمیشور مخلوط حکومت کا اتحاد کا فی مضبوط ہے ۔توڑنا بی جے پی کے لئے آسان نہیں

کانگریس اور جے ڈی ایس کے درمیان اختلافات حل کرلئے جائیں گے:پرمیشور مخلوط حکومت کا اتحاد کا فی مضبوط ہے ۔توڑنا بی جے پی کے لئے آسان نہیں

بنگلورو۔ سابق وزیر اعلیٰ و کانگریس جے ڈی ایس مخلوط حکومت کی کو آرڈینیشن کمیٹی کے صدر سدارامیا کے بیانات سے مخلوط حکومت کے ساجھیداری کے اتحاد کو پہنچنے والے نقصان کی روک تھام کیلئے نائب وزیر اعلیٰ و کے پی سی سی صدر ڈاکٹر جی پرمیشور نے آج مخلوط حکومت میں شامل کانگریس وزراء سے تبادل�ۂ خیال کیا اور مخلوط حکومت کے خلاف غیر ضروری بیانات دینے سے گریز کرنے کی تاکید کی ۔ پرمیشور نے کہا کہ حکمران مخلوط ساجھیداروں کے درمیان اگر کوئی اختلافات ہوں بھی تو بات چیت کے ذریعہ حل کرلئے جائیں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ یکم جولائی کو مخلوط حکومت کی کو آرڈنیشن کمیٹی کی میٹنگ متوقع ہے ۔ اس میٹنگ میں اختلافات دور کرلئے جائیں گے ۔مخلوط حکومت کی زیادہ دیر تک بقاء پر سدارامیا کے بیانات سے پیدا ہونے والے تنازعہ سے متعلق پوچھے جانے پر پرمیشور نے کہا کہ یہ معاملہ کانگریس ہائی کمان سے تعلق رکھتا ہے ۔ ہائی کمان ہی اس پر فیصلہ کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ممکن ہے یکم جولائی کو کو آرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہو۔ دونوں پارٹیوں کی قیادت کے درمیان جو بھی اختلافات ہیں اس پر گفتگو کرکے ان کو حل کرلیا جائے گا۔انہوں نے یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ اس وقت موجود ہ مخلوط حکومت کو مستحکم بنانے کی ضرورت ہے ۔ پرمیشور نے کہا کہ آج کانگریس کے وزراء کے ساتھ ہوئی میٹنگ میں کسی بھی لیڈر جن میں سدارامیا بھی شامل ہیں کے بیانات پر کوئی بحث نہیں ہوئی ۔ یہ تمام معاملات ہائی کمان پر چھوڑ دےئے گئے ہیں۔مخلوط حکومت کی زیادہ دیر تک بقا پر شبہ ظاہر کرنے کے سدارامیا کے ویڈیو سے متعلق کئے گئے سوال پر پرمیشور نے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا۔پرمیشور نے بھی بی جے پی پر الزام لگایا کہ بی جے پی موقع کی تاک میں ہے اور مخلوط حکومت کے اتحاد کو توڑ نے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے ۔ اور کہا کہ یہ ممکن نہیں ۔ کیونکہ دونوں پارٹیوں کا اتحاد مضبوط ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مخلوط حکومت کے ساجھیداروں کے درمیان جو بھی چھوٹے موٹے اختلافات ہیں اس کو بڑھا وا دے کر بی جے پی فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہی ہے ۔ میں ان سے یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ دونوں پارٹیوں کے اتحاد کو توڑنا بی جے پی کیلئے آسان نہیں۔ ہمارا اتحاد کافی مضبوط ہے۔ پرمیشور نے بھی یہ اعتراف کیا کہ ابتدا میں تھوڑی سی غلط فہمیاں تھیں ۔ ہم نے ان کو اب حل کرلیا ہے ۔ دونوں پارٹیوں کے پالیسی معاملات میں کچھ بھی اختلافات نہیں ۔یہ اختلافات چند معاملات کو لے کر ہیں اور ہم ان تمام اختلافات کو حل کرلیں گے ۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ ریاست کی عوام کے لئے ہم ایک مستحکم مخلوط حکومت دیں گے۔مخلوط حکومت کے ساجھیداروں کے درمیان کئی معاملات پر اختلافات پائے جاتے ہیں جن میں تازہ بجٹ پیش کرنے کا معاملہ بھی شامل ہے ۔ سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا نے پچھلی حکومت میں فائنانس کا قلمدان بھی سنبھالا تھا۔ حال ہی میں انہوں نے کہا کہ تازہ بجٹ پیش کرنے کی ضرورت نہیں ۔ اس کے بجائے ذیلی بجٹ پیش کیا جاسکتا ہے۔ دودن قبل ایک ویڈیو منظر عام پرآیا ہے ،جس میں سدارامیا نے کانگریس کے چند اراکین سے بات کرتے ہوئے تازہ بجٹ پیش کرنے پر ناراضی ظاہر کی ہے ۔ اس پر پرمیشور نے کہا کہ کانگریس اورجے ڈی ایس کے اتحاد کا اہم مقصد ریاست کے عوام کو اچھا انتظامیہ فراہم کرنا ہے ، جس میں زرعی قرضے معاف کرنا بھی شامل ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ 5جولائی کو وزیراعلیٰ کمار سوامی تازہ ریاستی بجٹ پیش کریں گے ۔ بجٹ میں نئے پروگراموں اور فنڈ الوکیشن کااعلان کیا جائے گا ۔ کانگریس کے چند اراکین اسمبلی کے ساتھ سدارامیا کی میٹنگ سے متعلق کہا جارہا ہے کہ انہوں نے اپنی طاقت کامظاہرہ کرنے اراکین اسمبلی کو اکٹھا کیا تھا ۔ پرمیشورنے طاقت کامظاہرہ کرنے کی بات کومسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ پنچر کیور اسپتال میں زیر علاج تھے ۔ پارٹی کے چند اراکین نے پارٹی معاملات پر بات کرنے ان سے ملاقات کی تھی۔ریاستی کابینہ کی اگلی توسیع سے متعلق پرمیشور نے کہا کہ یہ فیصلہ ہائی کمان کرے گا ۔ کانگریس کے 6عہدے اور جے ڈی ایس کا ایک عہدہ بہت جلد پر کیا جائے گا۔پرمیشور نے کہا کہ توسیع سے پہلے بورڈس اورکارپوریشنوں کے خالی عہدے بھرتی کئے جائیں گے ۔ پرمیشور نے مزید کہا کہ پارٹی کے ریاستی صدر کی حیثیت سے تمام کویہ ہدایت دی ہے کہ وہ حکومت یا پارٹی سے متعلق کچھ بھی بیان نہ دیں ۔ سدارامیا ہمارے لیڈر ہیں اور کورآرڈنیشن کمیٹی کے چیف ہیں وہ بیانات دے سکتے ہیں۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کانگریس پارٹی سے مجھے کوئی بیزارگی نہیں: کمار سوامی

رام نگرم: مجھے کانگریس پارٹی کی طرف سے کوئی الجھن نہیں ہے اور نہ ہی …

جواب دیں

%d bloggers like this: