سرورق / خبریں / کارپوریٹروں کو رکن پارلیمان مدوہنومے گوڈا کی نصیحت کارپوریشن اجلاس میں شہر کی ترقی کے بارے میں صحت مند بحث ضروری –

کارپوریٹروں کو رکن پارلیمان مدوہنومے گوڈا کی نصیحت کارپوریشن اجلاس میں شہر کی ترقی کے بارے میں صحت مند بحث ضروری –

ٹمکور:کارپوریشن اجلاس میں صرف ہنگامہ اور گڑبڑ مچانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ مسائل پر بحث کی جائے تو اپنے مسائل کا حل دھونڈ نکالنے میں آسانی ہوگی۔ یہ بات رکن پارلیمان ایس پی مدو ہنومے گوڈا نے کہی۔ انہوں نے یہاں سٹی کارپوریشن دفتر کے میٹنگ ہال میں گزشتہ روز میئر سدھیشور کی صدارت میں منعقدہ عام اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ کارپوریشن اجلاس میں شہر کی ترقی کے بارے میں بحث کی جانی چاہئے۔ اجلاس چلانے کیلئے کمشنر نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس کو ملتوی کردینا ٹھیک نہیں ہے ایک افسر کی غیر حاضری پر اجلاس کو ملتوی کرنا ٹھیک نہیں ہے، ہر ایک مسئلہ پر بحث کر کے فیصلہ کیا جائے۔جیسے ہی اجلاس کا آغاز ہوا، سابق میئر ایچ روی کمار نے کہا کہ آج عام اجلاس منعقد ہوا ہے۔ اس اجلاس میں کمشنر ہی نہیں ہیں ایسے میں ہمارے مسائل اور سوالوں کا جواب کون دے گا؟ سابق میئر کے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے میئر سدھیشور نے کہا کہ اسمبلی اجلاس میں اسمارٹ سٹی کے معاملے میں بحث جاری ہے۔ اس لئے کمشنر اسمبلی گئے ہوئے ہیں،اسمارٹ سٹی منصوبے کے بارے میں تفصیلی جانکاری صرف کارپوریشن کمشنر ہی دے سکتے ہیں۔ ایک اور سینئر آفیسر تپے ردرپا کو ذمہ داری سونپی گئی ہے اور ہر مسئلہ اور سوال کا جواب وہی دیں گے۔اپوزیشن لیڈر اندرا کمار سمیت دیگر اراکین نے اعتراض ظاہر کیا۔ اراکین نے مطالبہ کیا کہ بغیرکمشنر کے میٹنگ منعقد کرنا ٹھیک نہیں ہے اس سے پہلے جب آپ رکن تھے اس وقت یہی مطالبہ آپ کا بھی رہا ہے۔اس درمیان ایم پی مہیش نے کہا کہ میئر ہی اجلاس چلائیں اور ان کے قریبی حامی مسائل پر بحث کریں گے ہر ایک معاملے پربحث کی جائے تو رکن ایچ روی کمار نے کہا کہ سابقہ حکومت کی میعاد مکمل ہوچکی ہے اس کے باوجود نامزد اراکین کو اجلاس کیلئے مدعو کیاجارہا ہے،آخر کیوں؟ اس دوران اراکین کے درمیان ہنگامہ کھڑا ہوگیا حکومت کے حکم نامہ کو پڑھ کر سنایا گیا اور کہا کہ آئندہ کے احکامات جاری ہونے تک نامزد اراکین کی رکنیت برقرار رہے گی۔ اپوزیشن لیڈر اندرا کمار نے سوال کیا کہ پچھلے تین سالوں سے کتنے بورویل کھدائے گئے ہیں، اس کی تفصیل بتائی جائے تو افسروں کی طرف سے کوئی واضح جواب نہیں ملا جس پر میئر نے خود جواب دینے کی کوشش کی اس درمیان تمام اراکین نے کہا کہ افسروں کی پشت پناہی کے پیچھے کیا راز ہے۔ کارپوریٹر کردنا رادھیا نے کہا کہ کارپوریشن میں کسی بھی طرح کی تفصیل یا جانکاری پوچھی جائے تو اسکا صحیح جواب نہیں ملتا ہے۔ پچھلی فائلوں کے بارے میں موجودہ افسروں اور عملہ کو پوچھے جانے سے یہی جواب ملتا ہے کہ انہیں یہ فائل سونپی نہیں گئی ہے۔یو بی ڈی صاف کرنے کیلئے 10 ہزار روپئے کابل ادا کرنے کیلئے رقم نہ ہونے کا بہانہ بنایا جاتا ہے، کارپوریشن اجلاس کیلئے کھانا فراہم کرنے والوں کا بل تاحال ادا نہیں کیا گیا ہے شرم آنی چاہئے۔ کارپوریٹر نیاز احمد نے کہا کہ قومی شاہراہ 206 کے گبی گیٹ کے قریب مین ہول خراب ہوچکا ہے اور گندہ پانی سڑک پر بہہ رہا ہے جس سے عوام کو تکلیف محسوس ہورہی ہے۔ افسروں کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔مین ہول ٹھیک کرانے کیلئے رقم نہ ہونے کا جواب ملتا ہے۔ کارپوریٹر بال کرشنا نے سوال کیا کہ شہر میں پینے کے پانی کے مراکز قائم کئے گئے ہیں ان کی تعداد کتنی ہے اور اس نگرانی کی ذمہ داری کسے سونپی گئی ہے؟ تو افسروں نے جواب دیا کہ ان شفاف پینے کے پانی کے مراکز کو تاحال سلم کلیرنس بورڈ کی طرف سے ہمارے حوالے نہیں کیا گیا ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ عوام سے ٹیکس کے ذریعہ تالابوں کا سیس لیا جارہا ہے مگر اب تک تالابوں کی ترقی کیلئے کتنا فنڈ خرچ کیا گیا ہے؟اس اجلاس میں ڈپٹی میئر جئے لکشمی، وینکٹیش گوڈا اور دیگر موجود تھے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: