سرورق / خبریں / چیف جسٹس کے خلاف مواخذے کی تحریک کا نوٹس نائیڈو نے کیا نامنظور –

چیف جسٹس کے خلاف مواخذے کی تحریک کا نوٹس نائیڈو نے کیا نامنظور –

نئی دہلی۔ نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو نے ہندوستان کے چیف جسٹس (سی جے آئی) دیپک مشرا کے خلاف مواخذہ کی تحریک لانے والی تجویز کو مسترد کردیا ہے۔ ہندوستان کے اٹارنی جنرل کےکے وینو گوپال اور آئین کے ماہرین سے بات چیت کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا۔ موصولہ معلومات کے مطابق، سی جے آئی کے خلاف عائد کردہ الزامات بے بنیاد پائے گئے جس کے بعد یہ تجویز مسترد کردی گئی۔
دیپک مشرا کے خلاف مواخذے کی تجویز لانے کے لئے کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن نے جمعہ کو نائب صدر کو نوٹس دیا تھا۔ اپوزیشن کی تجویز پر 7 جماعتوں کے 71 ممبران پارلیمنٹ نے دستخط کئے تھے۔ راجیہ سبھا سیکرٹریٹ کے ذرائع کے مطابق، نائیڈو نے عرضی کو منظور یا مسترد کرنے کو لے کر آئین کے ماہرین سبھاش کشیپ سمیت دیگر ماہرین سے قانونی رائے لی تھی۔
سی جے آئی کے خلاف مواخذہ کی تحریک لانے کے لئے اپوزیشن نے بتائیں تھیں یہ اہم وجوہات
اپوزیشن نے سی جے آئی کے خلاف پہلا الزام خراب وقار کا لگایا ہے۔ کانگریس کا الزام ہے کہ سی جے آئی دیپک مشرا کا رویہ ان کے عہدہ کے مطابق نہیں ہے۔ کئی معاملوں میں وہ سپریم کورٹ کے باقی ججوں کی رائے نہیں لیتے ، انہوں نے کئی معاملوں میں آئینی ہدایات کی خلاف ورزی کی ۔
اپوزیشن نے سی جے آئی پر دوسرا الزام پرساد ایجوکیشن ٹرسٹ سے فائدہ اٹھانے کا لگایا ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ سی جے آئی دیپک مشرا نے اس سلسلہ میں داخل سبھی عرضیوں کو متاثر کیا ۔ کیونکہ وہ پرساد ایجوکیشن ٹرسٹ سے وابستہ سبھی معاملوں کی سماعت کرنے والی بینچ کی قیادت کررہے تھے ۔ ایسا کرکے انہوں نے ججوں کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی ۔
اپوزیشن نے سی جے آئی دیپک مشرا پر سپریم کورٹ کے روسٹر میں منمانے طریقہ سے تبدیلی کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ سی جے آئی نے کئی اہم کیسوں کو دوسری بینچ سے کوئی واجب وجہ بتائے دوسری بینچ میں منتقل کردیا ۔ کئی اہم معاملات جو دوسری بینچ میں زیر غور تھے ، ماسٹر آف روسٹر کے تحت سی جے آئی نے ان معاملوں کو بھی اپنی بینچ میں منتقل کرلیا ۔
اپوزیشن نے سی جے آئی دیپک مشرا پر اہم کیسوں کی تقسیم میں بھید بھاو کا الزام بھی لگایا ہے۔ در اصل سی بی آئی اسپیشل کورٹ کے جج بی ایچ لویا کا کیس سی جے آئی نے سینئر ججوں کو ہوتے ہوئے جونیئر جج ارون مشرا کی بینچ کو دیدیا تھا۔ جنوری میں سپریم کورٹ کے چار سینئر ججوں نے جب عدالتی نظام کو لے کر پریس کانفرنس کی تھی تب اس معاملہ کو اہمیت سے اٹھایا بھی تھا۔
اپوزیشن نے سی جے آئی پر پانچواں الزام زمین قبضہ کرنے کا لگایا ہے۔ اپوزیشن کے مطابق جسٹس دیپک مشرا نے 1985 میں ایڈووکیٹ رہتے ہوئے فرضی حلف نامہ دکھا کر زمین کی تحویل لی تھی ۔ اے ڈی ایم کے ذریعہ الاٹمنٹ رد کئے جانے کے باوجود ایسا کیا گیا تھا ۔ حالانکہ سال 2012 میں سپریم کورٹ پہنچنے کے بعد انہوں نے زمین سرینڈر کردی تھی ۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: