سرورق / خبریں / چیئرمین کو تحریک مواخذہ کے نوٹس کے خامی یا خوبی جانچنے کا حق نہیں: کانگریس

چیئرمین کو تحریک مواخذہ کے نوٹس کے خامی یا خوبی جانچنے کا حق نہیں: کانگریس

نئی دہلی، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دیپک مشرا کے خلاف تحریک مواخذہ کا نوٹس خارج کئے جانے پر کانگریس نے سوال اٹھاتے ہوئے آج کہا کہ راجیہ سبھا کے چیئرمین کو نوٹس کی خوبی یا خامی جانچنے کا حق نہیں ہے۔ کانگریس کے میڈیا انچارج رنديپ سنگھ سورجےوالا نے ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں کہا کہ آئین کی دفعات کے مطابق 50 ارکان پارلیمنٹ کی طرف سے نوٹس دینے کے ساتھ ہی تحریک مواخذہ کی کارروائی شروع ہو جاتی ہے۔ راجیہ سبھا کے چیئرمین نوٹس پر فیصلہ نہیں دے سکتے کیونکہ یہ ان کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔ انہیں نوٹس کی خوبیاں یا خامیاں طے کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے ایم کرشن سوامی کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین کو عدالتی یا انتظامی اختیارات حاصل نہیں ہیں تو وہ نوٹس پر خصوصیات دوش کی بنیاد پر فیصلہ نہیں دے سکتے۔
مسٹر سورجےوالا نے کہا کہ یہ واقعی ‘جمہوریت کو مسترد کرنے والوں’ اور ‘جمہوریت بچانے والوں’ کے درمیان جدوجہد ہے۔انہوں نے کہا کہ “آئین کو مت كچلو” انہوں نے مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی کا نام لئے بغیر کہا کہ 64 ارکان کی طرف سے تحریک مواخذ کا نوٹس دینے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی راجیہ سبھا کے لیڈر اور وزیر خزانہ نے تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے نوٹس کو انتقامی ‘پٹیشن ‘ قرار دیا ۔ کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ وہ واقعی راجیہ سبھا کے چیئرمین کو فیصلہ لکھا رہے تھے۔ کانگریس لیڈر نے سوال کیا کہ کیا ‘ انتقامی پٹیشن ‘ اب ‘ریسکیو آرڈر’ بن گئی ہے۔ انهوں نے کہا کہ اگر تمام الزامات تحقیقات سے پہلے ثابت ہو جائیں تو آئین اور جج انکوائری ایکٹ کی کوئی مطابقت نہیں رہ جائے گی۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: