سرورق / خبریں / چندرا بابو نائیڈو کی دہلی میں اہم لیڈران سے ملاقات، تیسرے محاذ سمیت متعدد امور پر بات چیت-

چندرا بابو نائیڈو کی دہلی میں اہم لیڈران سے ملاقات، تیسرے محاذ سمیت متعدد امور پر بات چیت-

نئی دہلی، آندھراپردیش کے وزیراعلی و تلگودیشم پارٹی کے قومی صدر این چندرابابونائیڈو تیسرے محاذ اور ریاست کو خصوصی درجہ نہ دیئے جانے کے مسئلہ پر منگل کو دہلی پہنچے ۔اپنی آمد کے بعد انہوں نے پارلیمنٹ کے احاطہ میں واقع گاندھی جی کے مجسمہ پر گلہائے عقیدت پیش کئے۔ انہوں نے مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈران سے پارلیمنٹ کے سنٹرل ہال میں ملاقات کی اور ریاست سے ہوئی ناانصافی سے واقف کروایا۔
چندرابابونائیڈو نے پارلیمنٹ میں فاروق عبداللہ اور جیوتی رادتیہ سندھیا کے علاوہ این سی پی کے صدر شردپوار ان کی دخترسپریہ سولے،جتیندر ریڈی، اور ٹی ایم سی کے ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات کی ۔ سمجھا جاتا ہے کہ مودی حکومت کے خلاف تلگودیشم کی تحریک عدم اعتماد پر حمایت کرنے کی چندرابابونے ان لیڈران سے خواہش کی۔ اس ملاقات کے دوران انہوں نے قومی جماعتوں کی جانب سے آندھراپردیش سے روا رکھے گئے رویہ،اے پی کو خصوصی درجہ دینے سے انکار اور اے پی تنظیم نو قانون کے وعدوں کی تکمیل میں مرکزی حکومت کی ناکامی کے بارے میں بھی بات چیت کی۔
اس ملاقات کے موقع پر اے پی سے ہورہی ناانصافی کے اظہار کیلئے انہوں نے اپنی شرٹ کی جیب پر سیاہ پٹی لگائی تھی۔ اسی دوران تلگودیشم کے ارکان پارلیمنٹ نے اے پی کو خصوصی درجہ دینے کامطالبہ کرتے ہوئے اپنا احتجاج جاری رکھا۔ لوک سبھاکے رکن این سیواپرساد نے اپنے انوکھے طرز کے احتجاج کے ذریعہ لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروالی ۔آج وہ لوک اداکار کے لباس میں پارلیمنٹ پہنچے اور اپنی پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ احتجاج کرتے ہوئے اے پی کو خصوصی درجہ دینے کامطالبہ کیا۔
تلگودیشم کے تمام ارکان پارلیمنٹ نے بھی اپنی شرٹس کی جیب پر سیاہ پٹیاں لگاتے ہوئے اے پی سے ہورہی ناانصافی کے خلاف احتجاج کیا۔
تلگودیشم کے رکن پارلیمنٹ جی جیہ دیو اور ان کی پارٹی کے دیگر ارکان پارلیمنٹ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چندرابابونائیڈو نے اے پی سے ہوئی ناانصافی سے سرکردہ پارٹیوں کے لیڈران کو واقف کروایااور تعاون پر مبنی وفاقیت پر تبادلہ خیال کیا۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: