سرورق / خبریں / پی یو سی میں داخلہ کے خواہش مند طلباء کیلئے سائنس میں کا-

پی یو سی میں داخلہ کے خواہش مند طلباء کیلئے سائنس میں کا-

بنگلورو۔اگرچہ کہ آپ کو اپنے میدان کار کے انتخاب کا فیصلہ کسی بھی وقت کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے اور اس کے لئے کسی بھی وقت دیر نہیں ہوتی، لیکن جن طلباء نے ابھی ابھی اپنی دسویں جماعت یا ایس ایس ایل سی کو مکمل کیا ہے ان کے لئے ایسا لگتاہے کہ ہر دن ان کے لئے قابل انتخاب موضوعات اور مضامین میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔عام طور پر گیارھویں اور بارھویں جماعت میں داخلہ لینے والے طلباء جو سائنس کے مضمون کا انتخاب کرتے ہیں ، وہ اپنے اختیارات کو کھلا رکھنے کے لئے اور حفظ ما تقدم کے طور پر کامرس اور آرٹس کے مضامین کا بھی انتخاب کر لیتے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں انہیں تعلیمی سفر جاری رکھنے کے لئے راستے مسدود نہ ہو جائیں۔جو طلباء سائنس کے مضمون کو اختیار کر رہے ہیں ان کے سروں سے بوجھ کو ہلکا کرنے کے لئے شہر کے کئی اسکول اور کالج، دلچسپ نصابی مجموعات فراہم کر ہے ہیں۔چونکہ ریاضی ایک مشکل مضمون ہوتا ہے، کالجوں میں داخلہ کے جاریہ موسم میں سائنس کے میدان میں فزکس، کمسٹری اور بیالوجی کے ساتھ ہوم سائنس اور ایلکٹرانکس جیسے مضامین کے مجموعوں کی مانگ میں کافی اضافہ ہوا ہے۔جگناتھ جی جو اپنے لڑکے کو کمپیوٹر سائنس کے ساتھ سائنس کے شعبہ میں داخل کرا رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی الجھن کا شکار طالب علم کے لئے سائنس کا انتخاب سب سے بہتر ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ’’آشرتھ اس بات کا فیصلہ نہیں کر پارہا تھا کہ اسکولی تعلیم کے بعد کس میدان کا انتخاب کرے۔میں اسے کسی بھی فیصلہ کے لئے مجبور نہیں کر رہا ہوں، سائنس کا انتخاب اسے آگے چل کر فیصلہ کرنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے‘‘۔دسویں جماعت مکمل کرنے والی نویا ہیگڈے نے ، پی سی ایم ای(ایلکٹرانکس) میں درخواست دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ایک تو اس وجہ سے کہ وہ ایلکٹرانک انجینئر بننا چاہتی ہے اور اس لئے بھی کہ وہ ایلکٹرانکس کو پسند کرتی ہے۔چونکہ اس مضمون کے انتخاب کی سہولت اسے پی یو سی ہی میں حاصل ہے اس کے لئے آگے چل کر اس بات کا فیصلہ کرنے کے لئے کافی وقت حاصل ہوگا کہ وہ اسی مضمون کو آگے جاری رکھے یا اپنا راستہ تبدیل کرلے۔نویا نے بتایا کہ’’میں نے اس میدان میں مجھے حاصل روزگار کے مواقع کے سلسلہ میں ابھی کچھ زیادہ تحقیق نہیں کی ہے۔ جب میں اس مضمون کو پڑھنے لگوں گی تبھی جا کر مجھے اس کے مثبت اور منفی جہات کا پتہ چل سکتا ہے‘‘۔ماؤنٹ کارمل پی یو کالج کافی عرصہ سے اپنے سائنس کے ایک مجموعہ میں ریاضی کی جگہ پر ہوم سائنس کا مضمون طلباء کو فراہم کرتا رہا ہے، دیگر تین مضامین فزکس، کمسٹری اور بایولوجی ہیں۔اس کے بالمقابل دہلی پبلک اسکول ، شمال (سی بی ایس ای) میں حالانکہ اس کے سائنس کے مجموعہ میں فزکس، کمسٹری اور ریاضی کو لازمی قرار دیا گیا ہے، لیکن اس کے ساتھ اختیاری مضامین میں سے اقتصادیات، نفسیات، قانونی مطالعات، فنون لطیفہ یا اس کے علاوہ حقوق انسانی اور عمومی مطالعات جیسے موضوعات کو بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔دہلی پبلک اسکول شمال، کے پرنسپل منجو بالا سبرامنیم نے بتایا کہ’’پہلے ہم لوگ ان مضامین کو صرف کامرس یا آرٹس کے طلباء کو ہی فراہم کرتے تھے، لیکن حالیہ دنوں میں طلباء کی طرف سے ان موضوعات میں دلچسپی کو دیکھتے ہوئے ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ انہیں سائنس کے شعبہ میں بھی داخل نصاب کیا جائے۔سائنس کے طلباء ، جس میدان میں دلچسپی رکھتے ہیں اس میں کوشش کرتے ہوئے اپنے لئے دیگر راستوں کو بھی کھلا رکھنا چاہتے ہیں‘‘۔اگر آپ سولہ سالہ میگھنا چودھری کی باتوں پر یقین کرتے ہیں تو،سینئر سکینڈری (گیارہویں جماعت یا پی یو سی) کے سالوں میں سائنس کے انتخاب آگے چل کر کافی وسیع انتخابات کی منزلوں کے دروازے کھولتا ہے۔میگھنا کا کہنا ہے کہ’’میں اپنے تحت الکلیاتی تعلیم کے دور میں کامرس یا آرٹس کا انتخاب کر سکتی ہوں، اگلے دو سالوں تک کے لئے سائنس کی تعلیم حاصل کرنا میرے لئے اس سہولت کو فراہم کرتا ہے، اگر میں چاہتی ہوں تو اسی میدان میں آگے بڑھ سکتی ہوں جبکہ کامرس یا آرٹس کے نصابات اس طرح کی سہولت فراہم نہیں کرتے اور وہ اس سلسلہ میں کافی محدود حیثیت کے حامل ہوتے ہیں۔انوینچر اکیڈمی کے آئی ایس سی شعبہ میں تمام طلباء کے لئے صرف سائنس ہی نہیں بلکہ انتخاب ہر ایک شعبہ میں حاصل ہوتا ہے، طلباء ہر طرح کے موضوعات اور مضامین کو جمع کرکے ان کا انتخاب کر سکتے ہیں۔تمام مضامین کو چار زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے اور طلباء کو ہر ایک زمرہ سے ایک مضمون کا انتخاب کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ اپنے لئے مناسب اور اپنی دلچسپی کے مطابق مجموعہ تیار کر سکیں۔اگر سائنس سب کے لئے نہیں ہے تو پھر کامرس اور آرٹس کے طلباء کے لئے بھی اختیارت موجود ہیں۔سینٹ جوزفس پی یو کالج میں طلباء اسٹیٹکس، بزنس اسٹڈیز اور اکاؤنٹنسی کے ساتھ کمپیوٹر سائنس کا انتخاب بھی کر سکتے ہیں۔دوسری طرف ملیشورم میں واقع ایم ای ایس پی یو کالج ،آرٹس کے شعبہ میں داخلہ لینے والے اپنے طلباء کو تاریخ ، اقتصادیات اور سماجیات کے ساتھ منطق کے انتخاب کا بھی اختیار دیتا ہے۔آئی سی ایس ای کے تحت دسویس جماعت کی طالبہ شارون پریتیکا کا کہنا ہے کہ’’میں نے کامرس کے نصاب کو اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے، میں چارٹرڈ اکاؤنٹنسی کرنا چاہتی ہوں، لیکن کامرس کے ساتھ کمپیوٹر سائنس کا اجتماع ایک اچھا انتخاب ہوتا ہے‘‘۔بشپ کاٹن بائز اسکول میں کوئی بھی طالب علم انگریزی، اقتصادیات، حسابات اور کامرس کے لازمی مضامین کے ساتھ، ریاضی، کاروباری مطالعات، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، کمپیوٹر سائنس یا پھر جسمانی یا ورزشی تعلیم میں سے کسی ایک مضمون کا انتخاب بھی کر سکتا ہے۔ایک اور کامرس کے نصاب کو اختیار کرنے کے خواہش مند، کیرن ونسنٹ کا کہنا ہے کہ ،طلباء کو چاہئے کہ وہ امتحانات کے بعد انہیں حاصل ہونے والے چھٹیوں کے دو ماہ کو اس بات کا فیصلہ کرنے کے لئے استعمال کرلیں کہ انہیں کونسا شعبہ منتخب کرنا ہے اور کون کون سے مضامین کو اختیار کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ’’اگر ہم ان دنوں میں اس پر غور نہیں کر لیتے ہیں تو پھر عین داخلہ کے موقع پر ہم عمومی موضوعات کو منتخب کر نے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔میرے لئے، میں جس موضوع میں دلچسپی رکھتا ہوں، آزادی کے ساتھ اس کے انتخاب کا اختیار خوش آئند بات ہے‘‘۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: