سرورق / خبریں / پی سی آئی ٹیم نے شجاعت بخاری کے دفتر کا دورہ کیا، ادارے سے وابستہ ملازمین کے عزم اور حوصلے کو سلام پیش کیا –

پی سی آئی ٹیم نے شجاعت بخاری کے دفتر کا دورہ کیا، ادارے سے وابستہ ملازمین کے عزم اور حوصلے کو سلام پیش کیا –

سری نگر ، جموں وکشمیر میں میڈیا کے حالات کا جائزہ لینے کے لئے یہاں آنے والی پریس کونسل آف انڈیا (پی سی آئی) کی سہ رکنی کمیٹی نے گذشتہ شام سرکردہ صحافی مرحوم سید شجاعت بخاری کے دفتر کا دورہ کرکے ادارے کے منتظمین اور ملازمین سے تفصیلی بات چیت کی۔ سینئر صحافی پروات کمار داش، یو این آئی ایڈیٹر اشوک اپادھیائے اور ماہر تعلیم پروفیسر سشما یادو پر مشتمل پی سی آئی کی سہ رکنی کمیٹی پیر کی شام یہاں پریس کالونی میں واقع ’کشمیر میڈیا گروپ (کے ایم جی)‘ کے دفتر پر پہنچی اور ادارے کے منتظمین اور ملازمین سے قریب دو گھنٹوں تک بات چیت کی۔

کشمیر میڈیا گروپ انگریزی روزنامہ ’رائزنگ کشمیر‘، اردو روزنامہ ’بلند کشمیر‘، کشمیری روزنامہ ’سنگرمال‘ اور ہفتہ وار اردو میگزین ’کشمیر پرچم‘ شائع کرتا ہے۔ تین زبانوں (انگریزی، اردو اور کشمیری) میں لکھنے کا ہنر رکھنے والے شجاعت بخاری ادارے کی طرف سے شائع ہونے والی چاروں اشاعتوں (رائزنگ کشمیر، بلند کشمیر، سنگرمال اور کشمیر پرچم) کے مدیر اعلیٰ تھے۔ رائزنگ کشمیر کے ایک صحافی نے یو این آئی کو بتایا کہ پی سی آئی ٹیم نے شجاعت بخاری کے قتل کو ایک المیہ اور بہت بڑا سانحہ قرار دیتے ہوئے ادارے کے منتظمین اور ملازمین کی صلاحیوں اور پیشہ کے تئیں عزم کو سراہا۔

انہوں نے بتایا ’پی سی آئی ٹیم نے ادارے کے منتظمین اور ہمارے ساتھ تفصیلی بات چیت کی۔ ٹیم نے ہمیں بتایا کہ شجاعت صاحب نے ایک ادارہ کھڑا کیا ہے اور اس کو مستحکم کرنا اور زندہ رکھنا آپ کی بنیادی ذمہ داری ہے‘۔ مذکورہ صحافی کے مطابق پی سی آئی ٹیم نے ادارے سے وابستہ منتظمین اور صحافیوں کو اس بات کے لئے شاباشی دی کہ شجاعت بخاری کے قتل کے عظیم سانحہ کے باوجود آپ نے ’رائزنگ کشمیر‘ کی اشاعت کا سلسلہ جاری رکھا۔
انہوں نے بتایا کہ پی سی آئی ٹیم نے شجاعت بخاری کے قتل پر ہمارے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس غم میں برابر کے شریک ہیں۔ یو این آئی ایڈیٹر اشوک اپادھیائے نے بتایا ’ہماری کشمیر میڈیا گروپ کے منتظمین اور ملازمین سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔ ہم ان کے عزم و ہمت اور جذبے کو سلام پیش کرتے ہیں‘۔ انہوں نے بتایا ’پی سی آئی چیئرمین جسٹس چندرا مولی کمار پرساد نے ہم سے شجاعت صاحب کے گھر اور دفتر جانے کی خصوصی ہدایت دی تھی‘۔ بتادیں کہ پی سی آئی کی سہ رکنی ٹیم نے اتوار کے روز شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے کریری کا دورہ کرکے مقتول کشمیری صحافی سید شجاعت بخاری کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔
پی سی آئی نے گذشتہ ہفتے جموں کشمیر میں میڈیا کے حالات کا جائزہ لینے کے لئے اپنی تین رکنی کمیٹی یہاں بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ یہ تین رکنی کمیٹی یکم جولائی سے پانچ جولائی تک ریاست کے دورے پر رہے گی اور جموں و کشمیر میں میڈیا کی صورت حال کا قریبی جائزہ لے گی۔ کمیٹی کے افراد اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کے صحافیوں ، فوٹو جرنلسٹوں، کیمرہ مینوں وغیرہ سے بات کریں گے ۔
تین دہائیوں تک میڈیا سے وابستہ رہنے والے شجاعت بخاری کو 14 جون کی شام نامعلوم بندوق برداروں نے پریس کالونی سری نگر میں اپنے دفتر کے باہر نذدیک سے گولیوں کا نشانہ بناکر قتل کردیا۔ حملے میں اُن کے دو ذاتی محافظین عبدالحمید اور ممتاز احمد کو بھی قتل کیا گیا تھا۔ ریاستی پولیس کا دعویٰ ہے کہ شجاعت بخاری اور اُن کے دو ذاتی محافظین کے قتل میں پاکستانی جنگجو تنظیم لشکر طیبہ ملوث ہے۔
پولیس کے مطابق قتل کی یہ سازش پاکستان میں رچی گئی اور اس کو یہاں شری مہاراجہ ہری سنگھ (ایس ایم ایچ ایس) اسپتال سے فرار ہونے والے پاکستانی جنگجو نوید جٹ سمیت لشکر طیبہ کے تین جنگجوؤں نے انجام دیا۔ 14 جون کی شام شجاعت بخاری کے قتل کے باوجود ’رائزنگ کشمیر‘ نے اپنا سفر جاری رکھتے ہوئے 15 جون کا اخبار شائع کیا۔ اخبار کے پہلے پورے صفحہ پر شجاعت بخاری کی تصویر اور خراج عقیدت کے الفاظ شائع کئے گئے۔
معمول کے برعکس اخبار کا پہلا صفحہ سیاہ اور سفید رنگ میں پرنٹ کیا گیا۔ چار لائنوں پر محیط خراج عقیدت کے پیغام میں کہا گیا تھا ’آپ ہم سے اچانک جدا ہوگئے۔ لیکن آپ کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور مثالی جرات ہمارے لئے ہمیشہ مشعل راہ ثابت ہوگی۔ ہم آپ کی زندگی چھیننے والے بزدلوں سے مرعوب نہیں ہوں گے۔ چاہے کچھ بھی ہوجائے، ہم آپ کے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ اللہ آپ کو جنت نصیب کرے‘۔ رائزنگ کشمیر نے اپنے ’مدیر اعلیٰ‘ کے قتل کی خبر صفحہ تین پر شائع کی تھی۔ خبر کی تین سرخیوں میں لکھا گیا تھا ’شجاعت کو خاموش کردیا گیا (شہ سرخی)۔ نڈر صحافی کو سچ لکھنے کی قیمت ادا کرنی پڑی (ذیلی سرخی)۔
دو پی ایس اوز کو بھی قتل کردیا گیا (ذیلی سرخی)‘۔ کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ’رائزنگ کشمیر‘ کا صفحہ اول ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا ’شو جاری رہنا چاہیے۔ یہ رائزنگ کشمیر کا آج کا ایشو ہے۔ ناقابل برداشت صدمے کے باوجود شجاعت کے ساتھیوں نے اخبار کی اشاعت جاری رکھی۔ یہ ان کا پیشہ کے تئیں وفاداری کا ثبوت ہے۔ یہ ان کا ان کے باس کے لئے سب سے بڑا خراج عقیدت ہے‘۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: