سرورق / خبریں / پنجاب میں یونیسیف کے تعاون سے خسرہ اور روبیلاکا ٹیکہ 73لاکھ بچوں کو لگانے کا ہدف۔ برہم مہندرا –

پنجاب میں یونیسیف کے تعاون سے خسرہ اور روبیلاکا ٹیکہ 73لاکھ بچوں کو لگانے کا ہدف۔ برہم مہندرا –

چنڈی گڑھ, حکومت پنجاب کے وزیر صحت اور خاندانی بہبود برہم مہندرا نے خسرہ اور وبیلا ٹیکہ کاری مہم کو میڈیا سے کامیاب بنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ چھ ہفتے تک چلنے والی اس مہم میں 73لاکھ بچوں کو ٹیکہ لگایا جائے گا۔ یہ بات انہوں نے یونیسیف کے تعاون سے حکومت پنجاب کی ٹیکہ کاری مہم کے لئے میڈیا ورک شاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہاکہ یکم مئی سے چلنے والی اس مہم میں اسکول کو مرکز بنایا گیا ہے جہاں بچے سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب میں سرکاری اور سرکار امداد ایافتہ اسکولوں کی تعداد میں تقریباً ساڑھے 19ہزار ہے جب کہ پرائیویٹ اسکولوں سمیت ان کی تعداد 29131 ہوجاتی ہے۔5200 ورکروں پر مشتمل ٹیکہ لگانے والوں میں 1700سپروائزر ہوں گے اور اس سلسلے میں عالمی صحت تنظیم اور یونیسیف کی بھی مدد شامل ہے۔
انہوں نے کہاکہ یونیسیف کے تعاون سے 45دنوں تک چلنے والی مہم میں تمام طبقوں کی مدد لی جائے گی تاکہ کوئی بچہ ٹیکہ لگنے سے محروم نہ رہ جائے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت پنجاب پوری تیاری کے ساتھ آئی ہے اور ہم اس میں تمام طرح کی طاقتوں کو جھونک دیں گے اور اس میں آنگن واڑی، آشا کارکنوں اور دیگر طبی کارکنوں کو شامل کیا گیا ہے۔
مسٹر مہندرا نے کہاکہ حکومت کی کوشش ہوگی کہ کوئی بھی بچہ ٹیکہ سے بچ نہ پائے اور اس کے لئے بڑے پیمانے پر مہم چلائی جارہی ہے اور تمام طریقہ کار اپنائے جارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اگر کوئی بچہ چھوٹ جاتا ہے تو اس کے اضافی انتظام کے ساتھ اضافی ٹیکہ کاری مہم بھی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ ہمارا ہدف خسرہ روبیلا کو جڑ سے ختم کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ دیگر ممالک کے مقابلے میں ہندوستان میں خسرہ کا معاملہ زیادہ پیش آتا ہے اور اس کا اوسط 30فیصد ہے۔ انہوں نے کہاکہ خسرہ کی ٹیکہ کاری 1985سے شروع کی گئی تھی۔
انہوں نے کہاکہ روبیلا کا کیس سب سے زیادہ بچوں اور خاص طور پر بچیوں میں ہوتا ہے اور جس کے اثرات دور تک مرتب ہوتے ہیں اور حاملہ ہونے والی خواتین کے بچوں پر اس کا اثر ہوتا ہے۔انہوں نے کہاکہ سات مرحلوں میں پورے ملک کا احاطہ کیا جائے گا جن میں تین مرحلے ہوچکے ہیں اور چوتھا مرحلہ جاری ہے۔ اس مرحلے میں ہریانہ اور پنجاب شامل ہے۔
انہوں نے کہاکہ 2015 میں خسرہ کی وجہ سے عالمی سطح پر 134,200بچوں کی موت ہوئی تھی۔ ان میں سے49,200 یعنی 36 فیصد بچے ہندوستان کے تھے۔ایک اندازہ کے مطابق اب بھی ہر سال35 ہزار بچے موت کے منھ میں چلے جاتے ہیں۔روبیلا اور خسرہ متاثرہ خاتون کے بچے معذور ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔اس بیماری سے جتنے اموات ہوتی ہیں ان میں 30فیصد ہندوستانی بچے ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اگر 95فیصد بچے ٹیکہ لگاتے ہیں باقی ماندہ پانچ فیصد بچے اس بیماری سے محفوظ ہوجاتے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں کہ خسرہ روبیلاکا ٹیکہ لگانے کے بعد کسی کو خسرہ یا روبیلا ہوسکتا ہے، انہوں نے کہاکہ 95 فیصد محفوظ ہے اور دوبارہ خسرہ ہونے کا اندیشہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے 2020 تک اس کو ختم کرنے کا ہدف رکھاہے۔
مسٹر مہندرانے کہاکہ ٹیکہ کاری مہم کے سلسلے میں لوگوں میں بہت ساری غلط فہمیاں پھیلی ہوئی ہیں جس سے پریشانی لاحق ہوتی ہے ۔ اس کے لئے میڈیا، مذہبی لیڈروں، مدرسے، اسکولی بچوں اور دیگر اداروں کی خدمات لیکر اس غلط فہمی کو دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ٹیکہ سے بخار آسکتا ہے لیکن لوگ اسے منفی اثر سمجھ لیتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس مہم میں مرکزی حکومت کی 12وزارتین شامل ہیں۔واضح رہے کہ یہ ٹیکہ 1950میں ایجاد ہوا تھا اور نجی نرسنگ ہوم، کلنک اور اسپتالوں میں مہنگے داموں پر لگایا جاتا ہے لیکن فروری میں حکومت نے مفت میں پورے میں ملک میں لگانے کی مہم شروع کی۔
قبل ازیں پروگرام کے افتتاح میں ڈاکٹر سنگھ نے روبیلا اور خسرہ کے بارے میں تفصیل سے بتاتے ہوئے کہاکہ روبیلا اور خسرہ کے ایک سی علامت ہوتی ہے لیکن ٹسٹ کے بعد پتہ چلتا ہے کہ یہ خسرہ ہے یا روبیلا۔ انہوں نے کہاکہ یہ بیماری خواتین وضع حمل کی وجہ بھی بن سکتی ہے، بچے معذور پیدا ہوتے ہیں۔ بانجھ پن کا شکار ہوسکتی ہیں۔ کم وزن کا بچہ پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ نو مہینے سے پندرہ سال کے بچے کو ٹیکہ لگایا جائے گا۔
واضح رہے کہ یہ ایک وائرل بیماری ہے اور بچو ں کے عام متعدی امراض میں سے ایک ہے۔ یہ مرض بچوں میں زیادہ عام ہے لیکن شاذونادر بڑوں کو بھی ہو سکتاہے لیکن زیادہ تر اس کا شکار وہ بچے ہوتے ہیں جنکے خسرہ کا ٹیکہ نہیں لگاہوتا یا نا قص ٹیکہ لگاہوتاہے۔خسرہ کا مرض کھانسی یا چھینک کے جراثیم اور متاثرہ شخص کے لباس یا اس کے ساتھ رہنے سے پھیلتا ہے۔موسم بہار اور گرم ممالک میں عموماً وباء کے طور پر یہ مرض پھیلتاہے۔ اس کی علامت میں آنکھ سے پانی بہتاہے، آنکھوں میں سرخی ہوتی ہے، ناک میں خارش، سر میں درد ،کمر میں درد ، کھانسی اور گلے میں درد ہوتا ہے، آواز بیٹھ جاتی ہے اور ان تمام علامات کے ساتھ بخار رہتاہے اور چہرہ سرخ ہوجاتاہے۔ہاتھ پاؤں اور جسم پر، دانے کبھی چند اور کبھی بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: