سرورق / خبریں / پلوامہ اور اننت ناگ میں جنگجوؤں کے حملے، 2 پولیس اہلکار جاں بحق، 10 سی آر پی ایف اہلکاروں سمیت ایک درجن دیگر زخمی –

پلوامہ اور اننت ناگ میں جنگجوؤں کے حملے، 2 پولیس اہلکار جاں بحق، 10 سی آر پی ایف اہلکاروں سمیت ایک درجن دیگر زخمی –

سری نگر، جنوبی کشمیر کے پلوامہ اور اننت ناگ اضلاع میں پیر اور منگل کی درمیانی شب کو جنگجوؤں کی جانب سے سیکورٹی فورسز پر کئے گئے دو مختلف حملوں میں ریاستی پولیس کے 2 اہلکار ہلاک جبکہ سینٹرل ریزو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے 10 اور ریاستی پولیس کے ایک اہلکار سمیت قریب ایک درجن سیکورٹی فورس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمی پولیس اہلکار کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ یہ حملے ماہ رمضان کی مقدس رات ’شب قدر‘ کے دوران کئے گئے ہیں۔
سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ جنگجوؤں نے گذشتہ رات ضلع پلوامہ کے نئے کورٹ کمپلیکس کی حفاظت پر مامور ریاستی پولیس اہلکاروں پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار موقع ہی جاں بحق ہوئے جبکہ تیسرا ایک شدید طور پر زخمی ہوا۔ حملہ آور مارے گئے پولیس اہلکاروں کے ہتھیار بھی چھین کر لے گئے ہیں۔ زخمی پولیس اہلکار کو سری نگر کے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ دوسرا جنگجویانہ حملہ ضلع اننت ناگ کے جنگلات منڈی علاقہ میں پیش آیا ہے۔
سرکاری ذرائع نے اس حملے کے بارے میں بتایا کہ جنگجوؤں نے منگل کی علی الصبح جنگلات منڈی میں سی آر پی ایف کی ایک گشتی پارٹی کو نشانہ بناکر گرینیڈ پھینکا جس کے نتیجے میں 10 سی آر پی ایف اہلکار زخمی ہوئے۔ تاہم سبھی زخمی سی آر پی ایف اہلکاروں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے۔ ریاستی پولیس نے پلوامہ حملے کے مہلوکین کی شناخت ایس جی سی ٹی غلام رسول اور ایس جی سی ٹی غلام حسن کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ سرکاری ذرائع نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ جنگجوؤں کے ایک گروپ نے گذشتہ رات نئے کورٹ کمپلیکس پلوامہ میں قائم پولیس چوکی پر حملہ کردیا۔ انہوں نے بتایا کہ حملے میں ریاستی پولیس کے دو اہلکار موقع پر ہی جاں بحق ہوئے جبکہ تیسرا شدید طور پر زخمی ہوا۔ زخمی اہلکار جس کی شناخت پولیس کانسٹیبل منظور احمد کی حیثیت سے کی گئی ہے، کو علاج ومعالجہ کے لئے سری نگر کے مہاراجہ ہری سنگھ اسپتال (ایس ایم ایچ ایس) میں داخل کرایا گیا ہے۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مہلوک پولیس اہلکاروں کی شناخت ایس جی سی ٹی غلام رسول اور غلام حسن کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق حملہ آور مارے گئے پولیس اہلکاروں کے ہتھیار بھی اڑا کر لے گئے ہیں۔ کشمیر زون پولیس نے اپنے آفیشل ٹویٹر اکاونٹ پر کہا ’جنگجوؤں کی طرف سے پلوامہ کورٹ کمپلیکس کی حفاظتی چوکی پر حملہ کیا گیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں دو پولیس اہلکاروں نے شہادت پائی۔ علاقہ میں تلاشی آپریشن جاری ہے‘۔ ایک اور ٹویٹ میں کہا گیا ’ہم ایس جی سی ٹی غلام حسن اور ایس جی سی ٹی غلام حسن کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ان کو ہم نے آج کورٹ کمپلیکس پلوامہ پر ہوئے جنگجویانہ حملے میں کھودیا ہے۔ ہم اس نازک موڑ پر مہلوکین کے کنبوں کے ساتھ کھڑے ہیں‘۔
دریں اثنا ضلع اننت ناگ کے جنگلات منڈی علاقہ میں جنگجوؤں کی طرف سے سی آر پی ایف کی ایک پارٹی کو نشانہ بناکر کئے گئے گرینیڈ حملے میں سی آر پی ایف کے 10 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم سبھی زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے۔ ریاستی پولیس کا کہنا ہے کہ گرینیڈ حملے میں سی آر پی ایف کے پانچ اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ اننت ناگ پولیس نے اپنے آفیشل ٹویٹر اکاونٹ پر ایک ٹویٹ میں کہا ’جنگجوؤں کی طرف سے جنگلات منڈی اننت ناگ میں سی آر پی ایف کی پارٹی پر گرینیڈ داغا گیا۔ اس میں 5 سی آر پی ایف اہلکاروں کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آئیں۔ انہیں علاج ومعالجہ کے لئے اسپتال منتقل کیا گیا ہے‘۔ وادی میں سیکورٹی فورسز پر یہ حملے اس وقت کئے گئے ہیں جب مرکزی حکومت کے احکامات پر وادی میں جنگجوؤں کے خلاف آپریشنز معطل ہیں۔ آپریشنز کی معطلی کا اعلان ریاستی حکومت کی اپیل پر رمضان المبارک کے پیش نظر کیا گیا تھا۔
مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کا کہنا ہے کہ وادی میں جنگجوؤں کے خلاف سیکورٹی فورسز کے آپریشنز پر لگی روک میں توسیع کا فیصلہ سیکورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے اور ریاستی نمائندوں سے بات چیت کے بعد ہی لیا جائے گا۔انہوں نے 8 جون کو شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ آئندہ کچھ روز میں سیکورٹی کا جائزہ لینے کے لئے ایک اجلاس بلایا جائے گا جس میں ’آپریشنز کی معطلی‘ میں توسیع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ لے لیا جائے گا۔
واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے 16 مئی کو وادی میں ماہ رمضان کے دوران سیکورٹی فورسز کے آپریشنز کو معطل رکھنے کا اعلان کیا۔ تاہم جنگجوؤں کی طرف سے حملے کی صورت میں سیکورٹی فورسز کو جوابی کاروائی کا حق دیا گیا۔ آپریشنز کی معطلی جسے ’یکطرفہ فائر بندی کا نام بھی دیا جارہا ہے‘ کو وادی میں قیام امن کی سمت میں ایک غیرمعمولی قدم سمجھا جارہا ہے۔ ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے 7 جون کو سری نگر کے کشمیر انڈور سٹیڈیم میں منعقد ہوئے ’جموں وکشمیر سپورٹس کنکلیو 2018‘ جس میں وزیر داخلہ مسٹر راجناتھ نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی، سے خطاب کے دوران ’آپریشنز کی معطلی ‘جاری رکھنے کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ وادی آپریشنز کی معطلی کے نتیجے میں کشمیری نوجوانوں نے سکون کا سانس لیا ہے۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

بھونگیر حادثہ۔تلنگانہ کے وزیراعلی کا اظہار افسوس

حیدرآبادتلنگانہ کے وزیراعلی کے چندرشیکھر راو نے ضلع یادادری بھونگیر میں پیش آئے سڑک حادثہ …

جواب دیں

%d bloggers like this: