سرورق / خبریں / پرنب مکھرجی اور متعدد اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی افطار پارٹی پہنچے –

پرنب مکھرجی اور متعدد اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی افطار پارٹی پہنچے –

پرنب مکھرجی اور متعدد اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی افطار پارٹی پہنچے – نئی دہلی،  (یو این آئی) کانگریس کے صدر راہل گاندھی کی افطار پارٹی میں آج سابق صدر پرنب مکھرجی اور پرتبھا پاٹل، سابق نائب صدر حامد انصاری اور کئی اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈر شامل ہوئے۔
کانگریس نے دو سال بعد افطار پارٹی کا اہتمام کیا۔ اس بار افطار پارٹی دارالحکومت کےعالیشان پانچ ستارہ ہوٹل تاج پلیس میں منعقد کی گئی۔ متحدہ ترقی پسند اتحاد کی صدر اور کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی علاج کے لئے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے افطار میں شامل نہیں ہوسکیں۔
مسٹر مکھرجی کے گزشتہ دنوں آر ایس ایس کی تقریب میں جانے پر انہیں افطار پارٹی میں نہ بلائے جانے کی خبریں آئی تھی، جس کا بعد میں کانگریس نے تردید کی تھی۔ مسٹر مکھرجی آج افطار میں شامل ہوئے اور وہ مسٹر گاندھی کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ دونوں رہنماؤں بات چیت کرتے نظر آئے ۔
افطار پارٹی میں محترمہ پاٹل، مسٹر انصاری کے علاوہ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، جنتا دل یو سے الگ ہوئے مسٹر شرد یادو، بہوجن سماج پارٹی کے سکریٹری جنرل ستيش چندر مشرا، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے ڈی پی ترپاٹھی، ترنمول کانگریس کے لیڈر دنیش ترویدی، مارکسی کمیونسٹ پارٹی جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری اور جنتا دل (ایس) جنرل سکریٹری دانش علی، راشٹریہ جنتا دل کے ایم پی منوج جھا، ڈی ایم کی لیڈر ایم كنو موزي، جھارکھنڈ مکتی مورچہ لیڈر ہیمنت سورین اور آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے سربراہ بدرالدین اجمل اور مولانا آزاد یونیورسٹی کے وائس چانسلر اخترالواسع وغیرہ موجود تھے۔
راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما غلام نبی آزاد، سابق وزیر پی چدمبرم، اے کے انٹونی، پرتھوی راج چوہان، ششی تھرر اور آنند شرما، پارٹی رہنما احمد پٹیل، موتی لال ووہرااور جناردن دویدی وغیرہ کئی سینئر کانگریسی لیڈر افطار پارٹی میں شامل ہوئے۔ ہندوستان میں روس کے سفیر نكولئے آر كداشیو کے علاوہ کئی دیگر ممالک کے سفارت کار بھی اس موقع پر موجود تھے۔
مسٹر گاندھی پارٹی کے صدر بننے کے بعد، یہ ان کی پہلی افطار پارٹی تھی۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

مراٹھواڑہ میں زوردار بارش –

اورنگ آباد : مراٹھواڑہ میں اورنگ آباد ، عثمان آباد،لاتور ،ہنگولی ، پربھنی اور ناندیڑ …

جواب دیں

%d bloggers like this: