سرورق / بین اقوامی / ٹرمپ اور ان کے علاقائی اتحادی تہران کے خلاف دشمنانہ پالیسی کی وجہ سے الگ تھلگ –

ٹرمپ اور ان کے علاقائی اتحادی تہران کے خلاف دشمنانہ پالیسی کی وجہ سے الگ تھلگ –

انقرہ، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور مشرقی وسطی میں ان کے تحادی ایران کے خلاف دشمنانہ پالیسی کہ وجہ سے الگ تھلگ پڑگئے ہیں۔یہ باتیں ایرانی وزیرخارجہ محمد جاوید ظریف نےپیر کے دن قومی ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے کہیں۔
مسٹر جاوید ظریف کہنا ہے کہ’’ آج ٹرمپ، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اوراسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو دنیا میں عدم اعتماد کی علامت بن چکے ہیں۔‘‘
ان کی ظالمانہ اور پرتشدد پالیسی نے انہیں تنہا کردیا ہے اور دنیا نے ان کی دشمنانہ پالیسی کی وجہ سے ان سے دوری اختیار کرلی ہے۔
نیوکلیائی پروگرام پر 2015 میں بین الاقوامی معاہدہ کے تحت ایران پر عائد امریکہ کے پہلے مرحلے کی پابندی اٹھالی گئی تھیں جو منگل کے دن دوبارہ نافذ ہوجائیں گی۔
ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان معاہدہ کی وجہ سے 2016 میں ایران کو ڈالر خریدنے، سونےاور قیمتی دھاتوںکی تجارت، گاڑی کے شعبے پر سے جو پابندی اٹھائی گئی تھی وہ دوبارہ تہران کے نیوکلیائی پروگرام کو روکنےکے لئے نافذ ہوجائیں گی۔
ٹرمپ نے یہ کہتے ہوئے کہ یہ معاہدہ 2025 کے بعد ایرا ن کے بیلسٹک پروگرام اور اس کی نیوکلیائی سرگرمیوں اور علاقائی لڑائیوں میں اس کے رول پر قدغن لگانے میں ناکام رہا ہے،اس سے مئی میں علیحدگی اختیار کرلی تھی۔ جس کا اسرائیل جس کو ایران تسلیم نہیں کرتا اور سعودی عرب نے خیرمقدم کیا تھا۔
ان پابندیوںکے نتیجے میں ایرانیوں کو اس بات کے لئے مجبور کررہیں کہ وہ امریکہ کے مطالبات کو تسلیم کریں یا حکومت کے سقوط کے لئے تیار رہیں۔
اسرائیلی کے انٹلی جنس کے وزیر اسرائیل کاٹز نے ٹوئٹ کیا کہ ان پابندیوںکے نتیجے میں ایرانیوں کے سامنے دو ہی راستے رہ جائیں گے یا تو امریکہ کے مطالبات کو تسلیم کریں یا حکومت کے سقوط کے لئے تیار رہیں۔ ’’پہلا آپشن اچھااور دوسرا بہت اچھا ہے۔‘‘
ایران اور سعودی عرب کافی عرصے سے مشرق وسطی میں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں۔ وہ دونوں ایران، شام ، لبنان اور یمن میں اپنے اثرورسوخ بڑھانے کے لئے کوشاں ہیں۔

Leave a comment

About saheem

Check Also

کروناندھی کی حالت بگڑی –

چنئی (ایجنسیز) تملناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کروناندھی …

جواب دیں

%d bloggers like this: